Home » کالم » وزیراعظم پاکستان کی بھارت کو پھر امن کی پیشکش،مودی کا انکار
adaria

وزیراعظم پاکستان کی بھارت کو پھر امن کی پیشکش،مودی کا انکار

خطے کی تبدیل صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہا کہ وہ روس سے تعاون مزید بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ بھارت کے ساتھ تناءو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کی جانب سے اس حوالے سے کبھی بھی مثبت پیشرفت سامنے نہیں آئی ۔ وزیراعظم پاکستان نے بھارت کو ایک مرتبہ پھر امن کی پیشکش کی لیکن مودی نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے پھر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے 19ویں اجلاس کی سائیڈ لائن پروزیراعظم عمران خان کی روسی صدر سے غیررسمی ملاقات ہوئی، دونوں رہنماءوں نے مصافحہ کیا اور کچھ دیر کے لیے بات چیت کی گئی ۔ اس سے قبل وزیراعظم نے روسی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے تناءو میں کمی چاہتے ہیں تاکہ ہ میں ہتھیار نہ خریدنے پڑیں ، پاکستان اور روس کی افواج کے درمیان تعاون بڑھا ہے، روس کے ساتھ دفاعی تعاون مزید بڑھانا چاہتے ہیں ۔ میں روس کا دورہ کرنا پسند کروں گا، زندگی میں ایک بار روس کا دورہ کیا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کا امکان ہے ۔ دورہ چین میں صدر پیوٹن سے ملاقات ہوچکی ہے، روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات خوش آئند ہیں ۔ روس سے اسلحے کی خریداری کا فی الحال ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے، اسلحے پر خرچ ہونے والی رقم انسانی ترقی کے لیے استعمال کریں گے ۔ اب 60 کی دہائی جیسے حالات نہیں رہے، پاکستان، بھارت دونوں امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ، اب سرد جنگ جیسی صورت حال کا سامنا نہیں ہے ۔ ایران پاکستان گیس پاءپ لائن منصوبے پر فی الحال، منصوبے پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہورہی ہے، منصوبے پر پیش رفت نہ ہونے کی وجہ امریکا کی عائد کردہ پابندیاں ہیں ۔ پاکستان میں ویزہ اصلاحات کا نظام بہتر بنادیا ہے، اب لوگ آسانی سے پاکستان آکر ایئرپورٹ پر ویزہ حاصل کرسکتے ہیں ، 70 ممالک کو ایئرپورٹ پر ویزے کی سہولت دے رہے ہیں ، ماضی میں کسی ملک کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں تھا ۔ کرغزستان کے صدر کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں روسی صدر پیوٹن سے غیررسمی ملاقات ہوئی ۔ دونوں رہنماں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر مختصر بات چیت کی ۔ وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک ساتھ ڈنر ہال میں داخل ہوئے لیکن عمران خان اور نریندرمودی نے ہال میں داخل ہوتے ہوئے ;200;پس میں کوئی مصافحہ نہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے دوسرے ملکوں کے سربراہان سے مصافحہ کیا، عمران خان ہال کےایک کونے اور نریندر مودی دوسرے کونے میں موجود رہے ۔ کرغزستان کے دارالحکومت بشکک روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایس سی او اجلاس کا مقصد خطے کی اقتصادی حالت کے اقدامات کا جائزہ لینا ہے، چند روز قبل او ;200;ئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس ہوا تھا ۔ پاکستان کی تجاویز ایس سی او لیڈر شپ کے سامنے رکھی جائیں گی جس پر وہ فیصلہ دیں گے، دیگر ممالک کی قیادت سے بھی ملاقات اور مشاورت ہو گی ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شرکت کررہے ہیں تاہم وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم کی اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر ملاقات کوئی امکان ظاہر نہیں کیا جارہا ۔ چونکہ بھارت اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ خطے میں کسی صورت امن و امان قائم ہوسکے ۔ اس نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے ہر مثبت قدم کو اپنی الزام تراشیوں اور بے سروپا بیانات سے برباد اور تباہ ہی کیا ہے ۔ گو کہ اب بین الاقوامی برادری اس امر کو جان چکی ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی انتہا کررکھی ہے لیکن اس کے باوجود نامعلوم کیوں آنکھیں بند کرکے بیٹھی ہے ایسے میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ بھارتی ظلم و ستم کے آگے بندھ باندھا جاسکے ۔

مقبوضہ کشمیر، بھارتی مظالم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی چشم کشا رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں دہشت گرد بھارتی فوج نے ظلم و ستم کی انتہا کررکھی ہے ، نہتے کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے، بے گناہ کشمیریوں کی ان گنت شہادتیں ،آئے روز کی فائرنگ، لاٹھی چارج، پیلٹ گنوں کا استعمال ، قید و بند اور مقبوضہ کشمیر کے رہنماءوں کو پابند سلاسل کرنا معمول بن چکا ہے اس خطے میں کسی کو کوئی بنیادی حقوق حاصل نہیں ، بھارت ہر قسم کی آزادی کو سلب کرنے کی ناممکن کوشش کررہا ہے لیکن اب وقت فیصلہ کرچکا ہے کہ کشمیریوں کو بھارت آزادی کے حصول سے کسی صورت نہیں روک سکتا، بھارتی مظالم کی مقبوضہ کشمیر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس کامکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے بھارتی سرکار کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورزبردستی جیلوں میں رکھنے کی مجرم قرار دیدیا ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی پربے لگام قانون کا ظلم کے عنوان سے رپورٹ جاری کی ہے جس میں جموں کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب کرنے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے بنیادی حقوق سے متصادم جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 210 گرفتار کشمیری افراد پر تحقیق کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کالے قانون کے تحت زیر حراست افراد کو شفاف ٹرائل اور متعلقہ حقوق سے محروم رکھا گیا اور ضمانت کا حق بھی نہیں دیا گیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالے قانون کے تحت بچوں کو بھی بغیر ٹھوس شواہد کے حراست میں لیا جاسکتا ہے، زیر حراست افراد کو عدالت سے رہائی ملنے پر نئی ایف ;200;ئی ;200;ر میں فوری حراست میں لے لیا جاتا ہے، انہیں بیک وقت 2 مختلف قوانین کے تحت گرفتار رکھا جاتا ہے، ان کے خلاف مجسٹریٹ کے سامنے ایک جیسے جرائم کی رپورٹس پیش کی جاتی ہیں ۔ پولیس فوجداری قانون سے زیادہ پبلک سیفٹی قانون کا سہارا لیتی ہے جس سے متاثرہ افراد رہائی ملنے کے بعد نوکریوں سے محروم رہتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بچوں کی نظربندی، خفیہ احکامات آنا اور ریوالونگ ڈور (غیر معینہ مدت تک)حراست معمول کی بات ہے ۔ قیدیوں کو ضمانت سے روک دیا جاتا ہے، ریوالونگ ڈور کے 71 واقعات میں حراست کا ایک کے بعد ایک نیا حکم جاری کیا گیا، 90 فیصد واقعات میں نظربند افراد کو ایک ہی الزام میں 2،2 کیسز میں پکڑ لیا گیا ۔ بھارتی فوج گرفتار افراد کو اپنے گھروں سے دور جیلوں میں ڈالتی ہے تاکہ گھر والے نہ مل سکیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی حکومت غیر قانونی حراستوں ، اذیت رسانیوں اور تشدد کے تمام الزامات کی ;200;زادانہ غیر جانبدارانہ تحقیق کرے ۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون بھارت کے انسانی حقوق قوانین سے متصادم ہے، جو عدالتی نظام سے ماورا اور شفافیت و انسانی حقوق کے خلاف ہے، اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو 2 سال تک نظربند رکھنے کی اجازت ہے اور اس کی وجہ سے ریاستی انتظامیہ اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے ۔ ماضی میں بھی انسانی حقوق کے عالمی ادارے سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹس دے چکے ہیں ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین کوزمینی حقائق دیکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت بھارت نے ان خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے پر فرانسیسی صحافی کو گرفتار بھی کیا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative