Home » کالم » وزیراعظم کادورہ میرپور، زلزلہ متاثرین کی بحالی کی ہدایت
adaria

وزیراعظم کادورہ میرپور، زلزلہ متاثرین کی بحالی کی ہدایت

وزیراعظم پاکستان جیسے ہی یو این کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے تو فی الفور زلزلہ سے متاثرین کی عیادت کرنے کیلئے میرپور گئے ۔ متاثرین کو انہوں نے ہر ممکن یقین دہانی کرائی کہ جلد ازجلد بحالی کے اقدامات کیے جائیں گے ۔ ادھر دوسری جانب وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ جس میں وزیراعظم کے یو این کے کامیاب دورے پرا نہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ اراکین نے کہاکہ وزیراعظم نے جس طرح کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیاہے انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لئے ہیں ۔ اس موقع سے عمران خان نے پھراعادہ کیا کہ وہ سفارتی اور سیاسی سطح پر کشمیریوں کیساتھ ہیں ۔ اس مسئلہ کو ہر جگہ اٹھاتے رہیں گے ۔ دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کے خطے کا امن مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے ۔ مودی نے جس انداز سے ہٹ دھرمی قائم کررکھی ہے اس سے حالات خراب ہونے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ صدرمملکت نے بھی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر جنگ ہوئی تو آخری دم تک لڑیں گے کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ اگر اس کوتکلیف پہنچے تو کیونکر پاکستان خاموش بیٹھ سکتاہے ۔ اجلاس میں وزیراعظم نے معاشی حالات مضبوط کرنے پربھی زور دیتے ہوئے کہاکہ جب تک کسی ملک کے معاشی حالات درست نہ ہوں اس وقت تک کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ مضبوط جمہوریت کیلئے مضبوط معیشت بھی ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجروں کیلئے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے ۔ بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے باقاعدہ عملی طورپر ون ونڈو آپریشن کاہونا ضروری ہے ۔ تجارت مضبوط ہوئی تو روزگار کے مواقع کھلیں گے ۔ نیز وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ احساس پروگرام میں غریب اور نادار لوگوں کو شامل کیا جائے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احساس پروگرام کا باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس نظام ہونا چاہیے ۔ آیا کہیں اقربا پروری تو نہیں ہورہی ۔ جس کا حق ہے اس کو مل رہا ہے یا نہیں جب معاشرے میں غریب خوشحال ہوگا تو آسودگی آئے گی ۔ معاشرے میں بھی امن و امان کا دور دورہ ہوگا ۔ جن شعبوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے ان میں تاجروں کا اعتماد بھی بحال ہونا ضروری ہے ۔ ملک میں متوازن ترقی کیلئے اس میں خواتین کی شرکت بھی ضروری ہے ویسے بھی ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ خواتین پر مشتمل ہے ۔ اگر ان کو نظر انداز کیا گیا تو ترقی کے مراحل مکمل نہیں ہوسکیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز میرپور میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کادورہ کیا ، میرپور ;200;زاد کشمیر میں ایک اجلاس میں وزیراعظم کو زلزلے سے جانی و مالی نقصان کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہاکہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی ومالی نقصان پر افسوس ہے جبکہ ;200;زاد کشمیر اور میرپور کے لوگوں سے دلی ہمدردی ہے، حکومت متاثرین کی بحالی کےلئے پیکج تشکیل دے رہی ہے ۔ زلزلہ متا ثرین کے لئے ہر ممکن اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ شہر میں بازار اور دکانیں کھلنے کا آغاز اور معمولات زندگی کی بحالی شروع ہوچکی ہے ۔ متاثرہ سڑکیں ٹریفک کے لئے کھل گئی ہیں ۔ تاہم نہر اپر جہلم پر 6 متاثرہ پلوں کی مرمت یا تعمیر شروع نہیں ہو سکی جبکہ 24 ستمبر سے میرپور کے تعلیمی ادارے بند ہیں ۔ اُدھرو زیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، پارلیمانی پارٹی نے اقوام کے کامیاب دورے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کیا ۔ وزیراعظم نے کشمیر کا مقدمہ موثر انداز میں پیش کیا، عمران خان نے کشمیری اور پاکستانی عوام کے دل جیت لئے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے دورے پر تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہر فورم پر مسئلہ کشمیر اٹھاءوں گا، مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کو بے نقاب کرتے رہیں گے، ارکان پارلیمنٹ کشمیر پر حکومتی پالیسیوں کو موثر انداز میں اجاگر کریں ۔ نیز وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کےلئے صنعتی ترقی ناگزیر ہے ، کاروباری برادری کو تحفظ فراہم کیے بغیر معیشت ترقی نہیں کر سکتی ، تمام شعبوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے لئے تاجر برادری کا اعتماد بڑھانا چاہیے ، غریب اور کمزور طبقے کو احساس پروگرام میں شامل کیا جائے ۔ غریب اور کمزور طبقے کو احساس پروگرام میں شامل کیا جائے ۔ خواتین کو سماجی ، اقتصادی ، ترقی میں شرکت کے لئے مراعات اور سہولیات دی جائیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت سابق وزیراطلاعات اور موجودہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی ایک بار پھر وزارت تبدیل کیے جانے کا امکان ہے ۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لے کر کئی بار وزرا کے قلمدان تبدیل کرچکے ہیں ۔

آزادی مارچ کی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دیتی

فضل الرحمان کی جانب سے آزادی مارچ کی بیل منڈھے چڑھتی نہیں دکھائی دے رہی، مسلم لیگ نون نے فضل الرحمان کو آزادی مارچ موخر کرنے کامشورہ دیدیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی مشروط آمادگی کا اظہار کیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے بھی مشروط آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔ فضل الرحمان کاکہنا ہے کہ وہ آزادی مارچ کے لئے اکیلے ہی کافی ہیں لیکن اس دوران حالات کسی اور بات کاتقاضا کررہے ہیں ۔ فضل الرحمان چونکہ زیرک اور نبض شناس سیاستدان ہیں لہٰذا وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے کیونکہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی کی جانب سے خاطر خواہ حمایت نہیں مل رہی ۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کی گئی تو یہ ریڈلائن کراس کرنے کے مترادف ہوگی ۔ پیپلزپارٹی اس اقدام کے خلاف بڑی تحریک چلائی گی جس کو پوراملک دیکھے گا ۔ فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران اخلاقی حمایت سے بات آگے بڑھ سکتی ہے ایسے میں حکومت کو بھی بصیرت سے کام لینا ہوگا کیونکہ جمہوریت میں مسائل گرفتاریوں سے حل نہیں ہوتے باہمی مذاکرات سے بیٹھ کرمعاملات کو حل کی جانب لے جایا جائے جو سرحدوں کے حالات ہیں اور جس طرح وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے ایسے میں باہمی اتحادویگانگت کاپیغام دنیا کو جانا بہت ضروری ہے ۔ اگر کوئی بھی نفاق سامنے آتا ہے تو اس کافائدہ صرف اور صرف دشمن کو پہنچے گا ۔ اپوزیشن احتجاج ضرور کرے مگر سڑکوں پر نہیں ، جب جمہوریت میں پارلیمنٹ کی صورت میں ایک پلیٹ فارم موجود ہوتو وہاں احتجاج کرناچاہیے ۔ جمہور نے اپنے نمائندوں کو منتخب کرکے اس وجہ سے ایوان میں بھیجا ہے کہ وہ وہاں جاکرعوامی، سیاسی اور ملک کو درپیش دیگرمسائل کو حل کریں نہ کہ سڑکوں پراحتجاج اور واویلامچاتے رہیں ۔ ایوان بہترین فورم ہے جہاں بیٹھ کرہرمسئلہ حل کیاجاسکتاہے ۔

سفارتی سطح پربڑی تبدیلیاں

حکومت نے مختلف ملکوں میں سفیروں کو تبدیل کیا ہے اور سفراء کوذمہ داریاں دی ہیں جن کے تحت وہ بیرونی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور موثرانداز میں مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کریں گے ۔ وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزارت خارجہ میں اے آئی ٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد اعجاز کو ہنگری میں پاکستان کا سفیر، پیانگ یانگ میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور سید سجاد حیدر کو کویت میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا ہے ۔ ایمبیسڈر منیر اکرم کو ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی جگہ اقوام متحدہ نیویارک میں پاکستان کا مستقبل مندوب مقرر کیا گیا ہے ۔ خلیل احمد ہاشمی ڈائریکٹر جنرل یو این وزارت خارجہ کو اقوام متحدہ جنیوا میں پاکستان کا مستقل مندوب تعینات کر دیا گیا ۔ ٹورنٹو میں پاکستانی سفارتخانے کے قونصل جنرل عمران احمد صدیقی کو ڈھاکہ(بنگلہ دیش) میں پاکستان کا ہائی کمشنر تعینات کر دیا گیا ۔ نیامی، ناءجر میں پاکستانی سفارتخانے کے ناظم الامور احسن کے کے وگن کو مسقط عمان میں پاکستانی سفیر تعینات کر دیا گیا ۔ میجر جنرل ریٹائرڈ محمد سعد خٹک کو سری لنکا میں پاکستان کا ہائی کمشنر تعینات کر دیا گیا جبکہ عبد الحمید پاکستانی سفارت خانے ٹورنٹو میں قونصل جنرل تعینات ہوئے ہیں ۔ ابرار ہاشمی کو ہوسٹن میں قونصل جنرل تعینات کیا گیا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative