Home » کالم » وزیراعظم کاکامیاب دورہ قطر
adaria

وزیراعظم کاکامیاب دورہ قطر

adaria

پاکستان میں کسی صورت بھی کرپشن بھی برداشت نہیں کیاجائے گا،اس مملکت خدادادکوکرپٹ افراد نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اور لوٹ مار کے بعد بیرون ممالک میں جاکربیٹھ گئے ہیں، اب حالات بدلتے جارہے ہیں اسی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کارپاکستان آنے کیلئے تیار ہیں۔نیزامارات سے تین ارب ڈالرقرض کے معاہدے پردستخط بھی ہوگئے ہیں اور یہ رقم دوہفتوں میں پاکستان منتقل ہوجائے گی،پاکستان کی جانب سے معاہدے پردستخط گورنرسٹیٹ بنک نے کئے ہیں یہ رقم آنے سے زرمبادلہ کے ذخائرکوقابل قدر سہارا مل جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی مثبت کاوشوں کے پیش نظر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی گاہیں پاکستان کی جانب مرکوز ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔وزیراعظم پاکستان کے قطرکے دورے کے حوالے سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات مزید بڑھانے پر زور دیا جبکہ امیر قطر نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ، وزیر اعظم نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور نجی سیکٹر کو پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر میں شراکت داری کی دعوت دی۔ اپنے دورہ کے دوران وزیر اعظم نے اپنے قطری ہم منصب شیخ عبداللہ بن نصر بن خلیفہ الثانی اور امیر قطر امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقاتیں کیں۔ دیوان امیری آمد پر وزیر اعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے قطر کے تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملاقات کی اور قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اعلامیہ کے مطابق قطر کے تاجروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ جبکہ قطری قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران دو طرفہ تعلقات اور معیشت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ اس دوران دونوں ممالک کی قیادت نے دو طرفہ تعلقات مزید بڑھانے پر زور دیا ۔ جبکہ امیر قطر نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے امیر قطر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان زراعت، توانائی، سرمایہ کاری اور تجارتی حجم بھی بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔پاکستان قطر کو فورڈ سیکیورٹی پر ضمانت دینے کو تیار ہے۔ وزیر اعظم نے زرعی شعبے میں انفراسٹرکچر سے متعلق قطر کو اہم پیشکش کی جس کی وزیر خارجہ نے بھی تصدیق کر دی۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کی زرعی اجناس قطر کو برآمد کرسکتا ہے۔ جبکہ امیر قطر نے پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں، پاکستان اور قطر کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے پر اتفاق ہوگیا ۔ قطر کے ساتھ ایل این جی کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی ،مستقبل میں پاکستان کی ایل این جی ضروریات بڑھیں گی۔ پاکستان اور قطر کے درمیان اربوں ڈالر تجارت کے مواقع موجود ہیں جن سے دونوں ملکوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔قطر پاکستان میں دونئے گیس پاور پلانٹ لگائے گا۔ قطر نے پاکستانی چاول کی درآمد پر پابندی ختم کردی۔ قطر نے پاکستان میں نصب گیس پاور پلانٹ خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے قطر پی آئی اے کی بحالی میں پاکستان کی مدد کرے گا۔

سانحہ ساہیوال۔۔۔قوم انصاف کی منتظر
سانحہ ساہیوال کاسوگ تاحال ملک بھرپرچھایاہواہے ، حتیٰ کہ وزیراعظم پاکستان بھی اس کی وجہ سے شدید تشویش میں مبتلاہیں اوراسی وجہ سے انہوں نے کہاہے کہ وہ ملزمان کوقرارواقعی سزادیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزداربھی وزیراعظم سے براہ راست رابطے میں رہے اور جے آئی ٹی کو جو ٹائم دیاگیاتھا اس کوبڑھانے سے انہوں نے واضح طورپرانکارکردیا تاہم جے آئی ٹی نے کوئی مناسب اور واضح رپورٹ نہیں دی انہوں نے کہاکہ اس کے لئے ابھی وقت درکار ہے ۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل احمد اوران کے خاندان کوبے گناہ قرار دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کو قتل کاذمہ دارٹھہرایاگیا ہے جبکہ ذیشا ن کے حوالے سے تحقیقا ت کے سلسلے میں مزیدوقت مانگ لیاگیاہے۔ پنجاب کے وزیرقانو ن راجہ بشارت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے خوب زبردست منطق چھوڑ ی کہ آپریشن سوفیصد درست تھا اورخلیل احمد کی فیملی بے گناہ ہے ،ایک جانب آپریشن کادرست ہونااور دوسری جانب اپنے ہی منہ سے بے گناہ کہناسمجھ سے بالاتربیان ہے، جب آپریشن درست تھا تو مرنے والے دہشت گرد تھے اگرمرنے والے دہشت گرد نہیں ہیں تو پھرآپریشن درست نہیں، چونکہ پی ٹی آئی حکومت کے لئے یہ کیس ایک ٹیسٹ کیس سے کم نہیں جس بے دردی سے بقول جے آئی ٹی بے گناہ افراد کوماراگیااس کی مثا ل قریب قریب تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔اول تووہ زندہ گرفتار ہوسکتے تھے لیکن اس کے باوجود اس بے دردی سے گولیوں سے بھون ڈالاگیا کہ جس کو دیکھ کرصرف الاماں الاماں ہی کہا جاسکتاہے،بچوں اور خواتین کو دیکھ کرویسے بھی آپریشن روک دیاجاتاہے جب کہ مرنے والے بے گناہ افرادتھے وہ التجاء بھی کرتے رہے،گڑگڑاتے بھی رہے، درخواست بھی کرتے رہے مگر ان ظالموں نے ایک نہ سنی، جب گاڑی روک لی گئی تھی تو کیاایسا ممکن نہیں تھا کہ ذیشان سمیت سب کوزندہ گرفتار کر لیا جاتا مگر ایسا نہیں کیاگیا۔وزیرقانون نے بتایا کہ 2 ایڈیشنل آئی جیز ، ڈی آئی جی ، ایس ایس پی کو فارغ کردیا گیا جبکہ 5سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف دفعہ 302چالان کے تحت کارروائی ہوگی،مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں جائیگا،ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کو بھی معطل کردیا گیا۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فرانزک ٹیسٹ کیلئے فراہم کیاگیااسلحہ ودیگراشیاء بھی دونمبرتھیں ،حکومت کو چاہیے کہ ا س سلسلے میں جس نے بھی غلط بیانی سے کام لیا ہے وہ اس میں باقاعدہ طورپرسہولت کارگرداناجائے اوراس کو بھی وہی سزادی جائے جوکہ سی ٹی ڈی کے ملوث ملزما ن کیلئے تجویزکی جائے کیونکہ سچ کوچھپانابھی بہت بڑا گناہ ہے ،اب جبکہ حکومت دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی آپریشن کررہی ہے توسانحہ ساہیوال میں بھی جتنے سہولت کارتھے انہیں عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آنے والے وقت میں کوئی بھی حقائق چھپانے کی ہمت نہ کرسکے۔امیدواثق تو یہی کی جارہی ہے کہ وزیراعظم اس سلسلے میں انتہائی اہم قدم اٹھائیں گے اب ان کا دورہ قطر بھی مکمل ہوچکا ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ کتنی جلدی پنجاب پولیس کاقبلہ درست ہوتا ہے اورپولیس اصلاحات کب تک لائی جاتی ہیں ۔ایک بات اوراہم ہے کہ جن متعلقہ افسران کو وفاق کورپورٹ کرنے کے لئے کہاگیاہے ان کے خلاف بھی باقاعدہ تادیبی کارروائی کرنی چاہیے کم ازکم پانچ ،پانچ سال سروس ضبط اوراسی طرح سے ان کی ترقی بھی روک دی جانی چاہیے۔

About Admin

Google Analytics Alternative