Home » کالم » اداریہ » وزیراعظم کاکامیاب دورہ چین اور روسی ہم منصب سے ملاقات
adaria

وزیراعظم کاکامیاب دورہ چین اور روسی ہم منصب سے ملاقات

adaria

پاکستان نے جہاں چین سے مزید تعلقات بہتر کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہے وہاں پروزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے ویژن کا مزید مثبت ثبوت دیتے ہوئے روس کی جانب بھی باقاعدہ دوستی کا ہاتھ بڑھادیا ہے۔شنگھائی میں انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کی سائیڈ لائن ملاقات کے دوران اپنے روسی ہم منصب سے پاک روس سٹریٹجک تعاون بڑھانے پر اتفاق کیاگیا، ساتھ ہی عمران خان نے روسی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔پاکستان کی جانب سے یہ اقدام انتہائی خوش آئند ہے ۔خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے روس سے سٹریٹجک تعلقات کلیدی اہمیت کے حامل ہوں گے کیونکہ آج تک پاکستان اور امریکہ کے تعلقات جوکہ قائم بھی ہیں لیکن گرم سرد موسم میں کبھی بھی پورے نہیں اترے۔ دنیابھرمیں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جتنی قربانیاں دی ہیں اور جتنی زیادہ کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس کی مثال نہیں ملتی گوکہ امریکہ اس بات کو تسلیم بھی کرتا ہے مگر اس کے باوجود وہ ڈومور کا مطالبہ بھی ساتھ ساتھ کرتارہتا ہے ۔افغانستا ن میں امریکہ اپنی ناکامی کی ذمہ داری دیگرپڑوسی ممالک پرڈالنے کے درپے ہے ،اسی وجہ سے وہ پاکستان کے حوالے سے تحفظات کااظہار کرتا رہتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے واضح طورپر دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اب پاکستان کسی کی بھی جنگ اپنی سر زمین پرنہیں لڑے گا لہٰذا ایسے حالات میں روس کے ساتھ پاکستان کے دفاعی امور کے حوالے سے تعلقات اہمیت رکھتے ہیں اس سے نہ صرف خطے میں طاقت کاتوازن برقرار رہے گا بلکہ امریکہ کی جانب سے بھی جو مختلف الزامات عائد کئے جاتے رہتے ہیں ان میں بھی کمی آئے گی۔ادھر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے بھی مشترکہ مشقوں کو پاک روس فوجی تعلقات مضبوط بنانے کااہم فورم قرار دیا ہے ۔انہوں نے پاک روس مشترکہ فوجی مشقوں’’دروزبہ سوم‘‘ کامعائنہ کیا،شرکاء سے ملاقات کی او ر جوانوں کی صلاحیت وپیشہ وارانہ مہارت کی تعریف بھی کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان مشقوں کے انعقادکامقصد پاکستان اور روس کے سپیشل دستوں کوانسداد دہشت گردی کی تربیت فراہم کرنا اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرناہے۔اس موقع پر پاکستان میں روس کے ناظم الامور بھی موجودتھے۔بیجنگ میں وزیراعظم پاکستان کی روسی ہم منصب سے ملاقات اور پاک روس مشترکہ مشقیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ مستقبل قریب میں پاکستان اور روس مزید ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور ان کے تعلقات میں بھی بہتری آئے گی۔ چین کے شہر شنگھائی میں انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو سے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے خطاب کے دوران کہاکہ سی پیک منصوبہ مشرق وسطیٰ اورخلیجی ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے، سرمایہ کاری کرنے اور نئی منڈیوں کاذریعہ بنے گا۔ یہ بات بالکل حقیقت کے قریب ہے وزیراعظم درست فرمارہے ہیں کہ جب سرمایہ کاری بڑھے گی اور نئی منڈیوں کی بھی تلاش ہوگی تو یقینی طورپر غربت میں خاتمہ ہوگا سرمایہ کاری کی وجہ سے ملک کے اندر اس کی اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس کی وجہ سے ملک کاجی ڈی پی بڑھے گا جب جی ڈی پی میں اضافہ ہوگا تولامحالہ وطن عزیز ترقی کی جانب سے گامزن ہوجائے گا، جب کبھی کسی ملک کی اپنی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ ہونا شروع ہوجائے تو پھر وہ ترقی کے منازل طے کرناشروع کردیتاہے۔وزیراعظم نے واضح کیاکہ بدعنوان معاشرے میں سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی اس کے لئے ہم اداروں کومضبوط کریں گے ان تمام اقدامات اورپہلوؤں کا بغورجائزہ لیاجائے تووزیراعظم پاکستان کا چین کادورہ کامیاب رہا کیونکہ چین نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو تنہانہیں چھوڑے گا اورمعاشی اعتبار سے بھی اس کومضبوط بنائے گا سب سے اہم اقدام جو وزیراعظم نے اٹھایا وہ اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات اورپاک روس سٹریٹجک تعاون بڑھانے پراتفاق ہے۔

آن لائن بینکنگ فراڈ۔۔۔توجہ طلب مسئلہ
ملک میں جہاں مالی کرپشن ہورہی ہے وہاں آن لائن بنکنگ فراڈ کادائرہ کاروسیع ہوتا جارہاہے ،لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جیب میں رقم رکھنا خطرناک کام ہے ،جبکہ وہ بنکوں میں اپنی رقوم محفوظ سمجھتے تھے، اس کے لئے اے ٹی ایم کارڈ استعمال کیاجاتا ہے تاکہ جتنی رقم جس وقت پرضرورت ہو اتنی ہی اے ٹی ایم مشین سے نکلوائی جاسکے۔ مگر اس کو اداروں کی ناکامی یاپھر حکومت کی جانب سے مسئلے کو نظرانداز کرنے کاکہاجائے کس کوموردالزام ٹھہرایاجائے، اب تو بنکوں میں پڑا پیسہ بھی محفوظ نہیں۔گوکہ یہ فراڈ دنیابھرمیں عروج پر ہے لیکن ہمیں اپنے گھرکوسدھارنا ہے ۔سب سے پہلے جو مسئلہ درپیش آتا ہے وہ اے ٹی ایم کی سروس کی معطلی کاہے جس کی وجہ سے صارف سخت کرب کاشکار ہوجاتا ہے، اس کے بعد جب وہ اے ٹی ایم سویپ کرے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی رقم کو کوئی اور نکلواچکا ہے ۔آن لائن فراڈ کے ذریعے کے پی کے کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اور دیگر اہم افسران سمیت 200افراد کروڑوں روپے سے محروم ہوچکے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ سے اس فراڈ میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے مگر اس حوالے سے تاحال کوئی تادیبی کارروائی سامنے نہیں آسکی صارف کس کے خلاف رپورٹ درج کرائے کون اس کاذمہ دار ہے۔ ایف آئی اے کوچاہیے کہ ترجیحی بنیادوں پراس جانب توجہ دے اگر عوام کابنکوں سے بھی اعتماد اٹھ گیا تو پھر آخر کار وہ اپنی بھاری رقوم کہاں رکھیں گے ،ایسے حالات میں ملک کیا خواب ترقی کرے گا ،جب کسی بھی شہری کی رکھی ہوئی رقم بھی محفوظ نہیں تو وہ ملک وقوم کے لئے آگے کیاکرسکتاہے نہ ہی کوئی سرمایہ کار پاکستان آئے گا یہ وہ بنیادی تحفظ ہے جن کو حکومت اور اداروں نے عوام کو فراہم کرناہے۔
سچی بات میں ایس کے نیازی کی دوراندیش گفتگو
ایس کے نیازی نے ہمیشہ اپنے روزنیوز کے پروگرام سچی بات میں ناظرین کو نہ صرف قبل ازوقت اہم خبروں سے باخبررکھا بلکہ اپنے زیرک تجزیوں سے بھی نوازا جس میں انہوں نے جہاں حکومت کو اپنے بہترین مشوروں اور آراء سے آگاہ کیا۔وہاں پر بنیاد ی عوامی مسائل کو بھی اجاگر کیا۔پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ مولانا سمیع الحق کی شہادت بہت بڑا نقصان ہے،مولانا سمیع الحق کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں،احتجاج کے باعث لوگوں کو مسائل کا سامنا تھا، مولانا سمیع الحق کی کوشش رہی کہ مذہبی جماعتیں اکٹھی رہیں،مولانا سمیع الحق بہت بڑے آدمی تھے جن سے قوم محروم ہوگئی مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں،تحقیقات میں ہی کوئی صحیح بات سامنے آئے گی میں چیف جسٹس آف پاکستان کو قوم کا مسیحا سمجھتا ہوں،چیف جسٹس نے کہا نبی پاکﷺکے نام پر جان بھی قربان ہے،سیاستدانوں کی کرپشن پکڑی جائے تو جمہوریت خطرے میں آجاتی ہے، املاک کو نقصان پہنچا نے وا لے کسی معافی کے مستحق نہیں،حکومت نقصانات کا ازالہ کرے،ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے چاہئیں، وزیراعظم عمران خان مخلص انسان ہیں، وزیراعظم عمران خان دلیر آدمی ہیں۔میں وزیراعظم کے دورہ چین کو کامیاب سمجھتا ہوں۔مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، لوگ فوری ریلیف چاہتے ہیں،سی پیک سے کاروبار اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

About Admin

Google Analytics Alternative