adaria 26

وزیراعظم کا سرکاری عمارات سے فائدہ اٹھانے کا صائب مشورہ

وطن عزیز پاکستان انتہائی زرخیز ملک ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں پر موجود ذراءع سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ بہت زیادہ دور یا اِدھر اُدھر جانے کی ضرورت نہیں صرف اگر پاکستان اور خصوصی طورپر اسلام آباد میں موجود قیمتی سرکاری عمارات سے فائدہ اٹھایا جائے تو ہمارے معاشی حالات بہت بہتر ہوسکتے ہیں ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ بڑے بڑے ادارے جو اس ملک کی قسمت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ سفید ہاتھی بنے ہوئے ہیں ۔ اگر ان کی عمارات سے فائدہ اٹھایا جائے تو ہمارا ریونیو کہیں سے کہیں پہنچ سکتا ہے پھر تاریخی عمارات موجود ہیں جن کو عوام کیلئے اوپن کرکے بے تحاشا زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے، خصوصی طورپر جیسا کہ پی ٹی آئی نے حکومت میں آنے سے قبل کہا تھا کہ وہ وزیراعظم ہاءوس، گورنرہاءوسز جیسی عمارات کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کردے گی تو اس پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں موجود سرکاری عمارتوں سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ اربوں کی جائیدادوں کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانا اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عوام کی فلاح و بہبود اوراسکولوں کالجوں اسپتالوں جیسی بنیادی سہولتوں کی بہتری کےلئے استعمال کرنا موجودہ حکومت کی پالیسی کا اہم جزو ہے ۔ اربوں کی جائیدادوں کے باوجود وفاقی حکومت کے مختلف ادارے اربوں روپے کا سالانہ خسارہ اٹھا رہے ہیں ماضی میں ان بیش قیمت جائیدادوں کو استعمال میں نہ لاکر مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا گیا ۔ غیر استعمال شدہ املاک کی نشاندہی نہ کرنے والے یا ان کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانے میں رکاوٹ پیدا کرنے والے سرکاری افسران و ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ وزیرِ اعظم نے ایسٹ مینجمنٹ کمیٹی، متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ نشاندہی کی جانے والی املاک سے متعلقہ تمام امور کو آئندہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے تاکہ ان املاک کو مثبت طریقے سے بروئے کار لانے کے فیصلے پر عمل درآمد مکمل کیا جا سکے ۔ سیکرٹری نجکاری رضوان ملک نے اجلاس کو بتایاکہ وفاقی کابینہ کی جانب سے فروری اور مارچ میں کئے جانے والے فیصلوں کی روشنی میں ہر وزارت کو کم از کم تین املاک کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی پہلے مرحلے میں مختلف وزارتوں کی جانب سے اب تک 32 املاک کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ان املاک کی مارکیٹنگ دبئی ایکسپو میں کی جائے گی تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور سرمایہ کاروں کی توجہ ان بیش بہا اثاثوں کی جانب مبذول کرائی جا سکے ۔ ہمارا حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ پراپرٹی کے حوالے سے ملائیشین ماڈل کو اپنائے ۔ مہاتیر محمد کے کیے گئے اقدامات پر عمل کرتے ہوئے اس شعبے میں پاکستان بہت ترقی کرسکتا ہے ۔ سیاحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اللہ رب العزت نے پاکستان کو چار موسموں اور نایاب قسم کے نظاروں سے نوازا ہے ۔ شمالی علاقہ جات، آزاد کشمیر، کالام، ناران، کاغان جیسے قدرتی سیاحتی مقامات کو ترقی دے کر سیاحوں کیلئے دلچسپی کا سامان پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ اس سے نہ صرف ملک ترقی کرے گا بلکہ معیشت مضبوط ہوگی ۔ زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور بیروزگاری کا خاتمہ بھی ہوسکے گا ۔

الیکشن کمشنر کا معاملہ

ڈیڈ لاک کا شکار کیوں ;238;

الیکشن کمشنراور ممبران کی تقرری کے حوالے سے تاحال مسئلہ ڈیڈ لاک کا شکار ہے اور اب مزید اس میں ایک ہفتے کا وقت بھی دیدیا گیا ہے ۔ نیز اپوزیشن اسے سپریم کورٹ میں لے گئی ہے، ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکومت اور اپوزیشن باہم اتفاق سے مل بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرتے ۔ لیکن شاید ابھی تک ہماری سیاسی تربیت اس سطح پر نہیں ہوسکی کہ اپنے مسائل خود حل کرسکیں ۔ سونے پے سہاگا یہ کہ پہلے ہمارے سیاستدان مسائل حل کرانے کیلئے خود اداروں کے پاس لے جاتے تھے اور بعد میں کیچڑ اچھالنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ کوئی خوش آئند بات نہیں ۔ نیزچیف الیکشن کمشنر سمیت سندھ اور بلوچستان کے ارکان کی تقرری کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس مختصر کارروائی کے بعد ملتوی ہوگیا ۔ حکومت اور اپوزیشن نے ارکان کی تقرری ایک ہفتے کیلئے موخر کرتے ہوئے متفقہ فیصلہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اورممبران کی تقرری ایک ساتھ کی جائے گی ۔ کمیٹی کی چیئر پرسن ڈاکٹرشیریں مزاری نے کہا کہ اگلے ہفتے تمام ناموں پر اتفاق کرلیں گے جبکہ مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر مشاہداللہ کا کہنا ہے کہ معاملات اتنی جلدی نہیں بلکہ کچھ لو اورکچھ دوکی بنیاد پر حل ہوتے ہیں ۔ دوسری جانب متحدہ اپوزیشن الیکشن کمیشن کی تشکیل کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے گئی اور سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی جس پر حکومت نے کہا کہ اپوزیشن کا الیکشن کمیشن کی تشکیل کے معاملے میں پارلیمنٹ کی بجائے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا صریحا بدقسمتی ہے اس سے سیاسی نظام کمزورہوگا ۔ سیاسی مسائل پر غوروخوض اور ان کے حل کےلئے پارلیمنٹ کافورم موجود ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر اورالیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کامعاملہ اتفاق رائے سے حل کیاجائے ۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ توجہ طلب

پاکستان بیورو آف شماریات کےاعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں کھانے پینے کی اشیا 19;46;4 فیصد مہنگی ہوئیں ، نومبر میں مہنگائی کی شرح 12;46;67 فیصد رہی ،نومبر میں ٹماٹر 436;46;88، پیاز 159 چینی 33;46;46 فیصد مہنگی ہوئی ۔ اکتوبر کے مقابلے میں نومبر میں مہنگائی کی شرح میں 1;46;34فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ ایک سال کے دوران گندم 18 فیصد، آٹا 17;46;41 فیصد، گوشت کی قیمت 10;46;40فیصد، مرغی 11;46;98 فیصد، مچھلی 11;46;33 فیصد، تازہ دودھ 8;46;11 فیصد مہنگا ہوا جبکہ خوردنی تیل 14;46;12 فیصد اور گھی کی قیمت میں 16;46;47 فیصد اضافہ ہوا ۔ مسور کی دال کی قیمت 18;46;20 فیصد، مونگ کی دال 56;46;89 فیصد، ماش کی دال 35;46;13 فیصد اور چنے کی دال 15 فیصد مہنگی ہوئی ۔ مہنگائی بڑھنے سے عام آدمی مشکل حالت سے دوچار ہے ۔ روزمرہ کی اشیاء اتنی بڑھ گئی ہیں کہ غریب ;200;دمی ان تک پہنچ ہی نہیں سکتے ۔ عام ;200;دمی پہلے ہی غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے اوراب دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا گیا ہے ۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری بلز نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ غربا تو ایک طرف رہے عام ;200;دمی، محنت کش عوام اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی ناپید ہیں ، ان حالات میں عوام سوال کرتے ہیں کہ ہم جائیں تو جائیں کہاں ;238; ۔ حکومت کی جانب سے آئے روز پٹرولیم، بجلی و گیس کے نرخ بڑھانے کی روش کو ترک کرنا چاہئے تاکہ غریب عوام سکھ کا سانس لے سکیں ۔ لہٰذا حکومت فوری طورمہنگائی جیسے سنگین مسئلے پر قابو پائے تاکہ عام آدمی کی حالت بہتر ہو ۔

’’سچی بات‘‘ میں اہم ترین گفتگو

روز نیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی آفتاب جہانگیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کراچی میں کئی سکول منشیات کے اڈے بن چکے ہیں ،میرے حلقے این اے 252کراچی میں کوئی سکول اور ڈسپنری موجود ہی نہیں ،پارلیمنٹ میں جب بھی تقریر کا موقع ملا ہے 18ویں ترمیم پر ضرور بات کرتا ہوں ، عوام کی بہتری کے لیے 18ویں ترمیم کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے،ہم عوام کے ووٹوں سے اقتدار میں آئے، ہ میں عوام کی بہتری پر توجہ دینی چاہیے،پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کیلئے عام آدمی کی زندگی پر نظر ڈالنی چاہیے،پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کو اپنے حلقوں میں عوام کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے،مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی وحید عالم خان نے کہا کہ حکومت معیشت کے حوالے سے حقیقت کے برعکس باتیں کر رہی ہے، غربت اور مہنگائی کی وجہ سے عوام شدید معاشی بد حالی کا شکار ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر یوسف بادینی نے کہا کہ جیسا کارڈیک ہسپتال کراچی میں ہے ایسا ہسپتال پورے پاکستان میں نہیں ہے ، وزیراعظم جب بھی سند ھ جاتے ہیں اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے ملاقات کرتے ہیں ، وزیراعظم دورہ کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاسوں میں نہیں بلاتے،پی ٹی آئی کی حکومت صرف اسلام آباد کا انتظام بھی سنبھال نہیں پا رہی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں