Home » کالم » وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس۔۔۔نئے بلدیاتی نظام کی تنظیم پرغوروخوض
adaria

وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس۔۔۔نئے بلدیاتی نظام کی تنظیم پرغوروخوض

adaria

جب تک حکومت کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوجاتے اس وقت تک اسی طرح مسائل درپیش رہیں گے اسی سلسلے میں وزیراعظم کی زیرصدارت پنجاب اور کے پی کے میں بلدیاتی نظام کے نفاذ سے متعلق اجلاس ہوا جس میں بلدیاتی نظام کی تنظیم پر غوروخوض بھی کیاگیا۔وزیراعظم نے اس خواہش کااظہار کیا کہ وہ ایک ایسا بلدیاتی نظام لاناچاہتے ہیں جو عوام کے مسائل نچلی سطح پر حل کرسکے۔ یہ بات درست ہے کہ عوام اپنے مسائل لیکر اعلیٰ سطح تک پہنچنے میں قاصر رہتی ہے اس لحاظ سے وزیراعظم کی جانب سے مسائل کا نچلی سطح پر حل کرنے کااظہار حقائق پر مبنی ہے ۔نئے بلدیاتی نظام سے ترقیاتی منصوبوں پر پیسے دیہات کی سطح پر خرچ ہونگے ۔یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جب بلدیاتی نظام سے ہٹ کرترقیاتی فنڈز کے تحت کہیں بھی کام کرایاجاتا ہے تو اس میں یہ بات عموماً دیکھنے میں آئی ہے ملک کے دوردراز علاقے اور دیہات بنیادی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہاں پر تعلیم، صحت اور پینے کے پانی جیسے مسائل کے حالات بھی دگرگوں نظرآتے ہیں۔ جب پیسے دیہات کی سطح پربلدیاتی نظام کے تحت خرچ ہونگے تو اس سے ملک بھی ترقی کرے گا ،صحت کے مسائل بھی دور ہونگے اور وہ بچے جو شاید زندگی میں سکول کامنہ نہ دیکھ سکیں وہ بھی تعلیم کے زیورسے مالامال ہوجائیں گے۔ حکومت جو نیابلدیاتی نظام لانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے اس کے تحت پیسے کاضیاع اور کرپشن بھی ختم ہوسکے گی۔ عوام جو بھی اپنے نمائندے منتخب کریں گے وہ اپنے اپنے علاقے کے کام بہتر انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچاسکیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ انہیں علاقے کا کون ساکام ترجیحی بنیادو ں پرکراناضروری ہے۔ نئے نظام کا ایک یہ بھی خاصا ہوگا کہ اس میں ایسی قانون سازی ہوگی جس کے تحت عوام براہ راست احتساب کرسکیں گے۔ اس میں ذاتی مفادات بھی کوئی نہیں اٹھاپائے گا عوامی مفادات کو حل کرنا ہر ایک کی منزل ومنشاء ہوگی چونکہ عوام احتساب کرسکیں گے اس لئے ان کامنتخب کردہ نمائندہ کسی بھی صورت ترقیاتی امور میں ہیرپھیرنہیں کرسکے گا اس کو ہرلمحے ،ہروقت اپنے ووٹر جوکہ اس کے علاقے کے اپنے عوام ہوں گے ان کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ اس وجہ سے وہ کسی صورت بھی ترقیاتی امور میں لیت ولعل سے کام نہیں لے سکے گا۔نیز وزیراعظم نے ایک بات یہ بھی کہی کہ پاکستان تحریک انصاف نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی ہے اور آئندہ چند روز میں واضح تبدیلی نظرآئے گی ۔ اگر ہم یہا ں وزیراعظم کی اس بات سے اتفاق کرلیں کہ حکومت مشکل حالات میں ملی ہے یہ تو ماضی کے ہرحکمران کاروایتی وطیرہ رہا ہے کہ جب بھی وہ عنان اقتدار میں آیاتو اس نے ماضی کاخوب ڈھول پیٹا اور کہاکہ بہت مشکل حالات میں وہ چلارہاہے۔ لہٰذا حکومت تو ہرایک کومشکل حالات میں ملتی ہے جہاں تک واضح تبدیلی کاتعلق ہے توہم یہاں یہ بات ضرور کہیں گے کہ اب بہت قریب ہیں کہ حکومت کے تین ماہ مکمل ہوجائیں گے عوا م اسی واضح تبدیلی کے منتظر ہیں کہ وہ واضح نظرآئے ۔جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہونگے واضح تبدیلی کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ۔ اس واضح تبدیلی کے لئے نیابلدیاتی نظام سنہرا کرداراداکرسکتاہے۔ حکومت کو اب یہ واضح کرنا ہوگاکہ اس کو مزید کتناوقت درکار ہے یہ چندماہ ہوتے ہوتے تو سال گزرجائے گا۔ہم یہاں یہ بات بھی کہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سترسال کاپراگندا ماحول چند ماہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتا اس کے لئے یقینی طورپر ایک خاص وقت درکار ہوگا مگر بات یہ ہے کہ اس خاص وقت کاایک مرتبہ تعین کرنا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔آئے دن چند چند ماہ کاضافہ کرنے سے عوام میں حکومتی گراف متاثرہوگا۔وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ وہ لینڈمافیا کو کسی صورت برداشت نہیں کرینگے اوراس کے خلاف انہوں نے حکم دیتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے سے بڑے مگرمچھوں کی فہرست طلب کرلی ہیں۔یہ اقدام انتہائی خوش آئند ہے کیونکہ آج تک جب بھی چمن کو لہو کی ضرورت پڑی تو کسی غریب کو ہی قربان کیاگیا مگر اب چونکہ وزیراعظم نے بڑ مگرمچھوں کی فہرست طلب کی ہے اس اقدام کی جتنی تعریف کی جائے وہ بہت کم ہے ۔صرف وفاقی دارالحکومت میں ہی ایسے بڑے بڑ ے مگرمچھ موجود ہیں جنہوں نے اربوں کھربوں روپے کی زمینوں پرقبضے جمارکھے ہیں اگرانہیں واگزارکرالیاجائے تو حکومتی خزانے کو بڑافائدہ ہوسکتاہے۔

کورکمانڈرزکانفرنس میں خطے کے اہم معاملات زیربحث
کورکمانڈرزکانفرنس نے ایک دفعہ پھر واضح کیاہے کہ قانون کی حکمرانی کے لئے اداروں کی حمایت جاری رکھی جائے گی ،اداروں کی حمایت سے ہی قانون پرعملدرآمدکوممکن بنایاجاسکتاہے، کانفرنس میں ملک میں جاری دہشت گردی کیخلاف آپریشن، پا ک افغان سرحد پرآہنی باڑجیسے معاملات زیر غور آئے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 215ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں جیو اسٹریٹجک اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیاجبکہ شرکا نے اس عزم کااظہار کیا کہ خطے اور ملک میں مستقل اور دیرپا امن کیلئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھاکہ آئین وقانون کی بالادستی سے ہی ملک ترقی کرے گا اور خوشحالی آئے گی قانون کی حکمرانی اور ریاست کی رٹ یقینی بنانے کیلئے تمام ریاستی اداروں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ ملک میں پائیدار امن لانے کیلئے پاک فوج کی کوششیں جاری رکھنے اور علاقائی امن کیلئے تمام اقدامات کی حمایت کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ایس کے نیازی کی’’ سچی بات ‘‘میں مدبرانہ گفتگو
چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرزاور سینئر اینکر پرسن ایس کے نیازی نے روزٹی وی کے مقبول پروگرام سچی بات میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں عافیہ صدیقی کو رہائی ملے گی،پنجاب میں نیا وزیراعلیٰ لانے کیلئے ویڈیو لیک کی گئی ہو گی لیکن وزیراعظم وزیراعلیٰ پنجاب تبدیل نہیں کرینگے، احتساب کے پیرامیٹرز ہونے چاہئیں، بڑے ڈاکوؤں کو پکڑا جائے صرف ڈرانا مقصود نہ ہو۔اسمبلیوں میں مسائل پر بات کے بجائے گالم گلوچ ہوتی ہے، اسمبلیوں میں قانون سازی کے بجائے برا بھلا کہا جاتا ہے،تنقید برائے اصلاح ہو،تنقید برائے نہیں ہونی چاہیے،احتساب لازمی ہونا چاہیے ،نیب ان کیخلاف کارروائیاں کررہی ہیں جن کے پاس عہدے رہے، زرداری کیخلاف ایکشن نہ لینے پر کہا جاتا ہے کہ کچھ نہیں ہورہا،عمران خان ایسے کام کرنے کے عادی ہیں جو کوئی نہ کرسکے۔آرمی چیف کے صاحبزادے کی ولیمہ تقریب میں پرویز الٰہی سے ملاقات ہوئی،تقریب میں بلاول بھٹو نے پرویز الہٰی سے ویڈیو لیک بارے پوچھا،پرویز الٰہی نے کہا آپ نے اسلام آباد ہم نے پنجاب میں سیاست گرم کی ہوئی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative