Home » کالم » وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس اوراہم ملاقاتیں
adaria

وزیراعظم کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس اوراہم ملاقاتیں

adaria

وزیراعظم پاکستان نے حالیہ چین کے کامیاب دورے کی واپسی پرقومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں درپیش حالات کا جائزہ لیا، وزیراعظم نے اپنے دورہ چین سے متعلق آگاہ کیا، سلامتی کمیٹی نے واضح کیا کہ پاکستان کی ترقی ،خوشحالی ،امن ،استحکام اور قانون کی بالادستی سب سے بالاتر ہے ۔وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امن و استحکام اور قانون کی بالادستی سے ہی ملک ترقی کرسکتاہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کی اجلاس میں مجموعی ملکی صورتحال پر غور کیا گیا ، وزیراعظم نے اجلاس کے شرکا کو حالیہ دورہ چین سے متعلق بھی بتایا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھی شرکت کی۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگر عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔ وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف نے ملاقات کی جس میں دورہ چین پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ملک کی سیکیورٹی اور مذہبی جماعت کے احتجاج کے بعد کی صورتحال سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی غور کیا گیا۔دوسری جانب ترجمان ایوان صدر کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی جس میں قومی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر صدرمملکت نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف افواج کی قربانیوں کوسراہتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ملکی حالات کوصحیح سمت میں گامزن کرنے کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پرہیں اور حکومت نے قطعی طورپراس بات کو واضح کردیا ہے کہ وہ انارکی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔من حیث القوم ہم سب کافرض ہے کہ اس ملک کی آبیاری ہمارے بزرگوں نے اپنا خون دیکر کی ہے تو اگر کبھی بھی کوئی ایسے ناگفتہ بہ حالات درپیش ہوجائیں تو کسی صورت بھی ملکی اور قومی املاک کو نقصان پہنچانا کسی کابھی حق نہیں اس کو ہم نے سنبھال کررکھنا ہے اس کی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کرنا ہے ۔ یہاں ہم حکومت کو ایک مشورہ ضرور دیناچاہیں گے کہ آئے دن ہمارے ملک میں کوئی نہ کوئی ایک ایسا ایشو سامنے آن دھمکتا ہے جس کو بنیاد بناکر مختلف سیاسی ومذہبی قوتیں نہ صرف اسلام آباد کی جانب رخ کرتی ہیں بلکہ اب تو ملک کے دیگر شہروں کے اہم چوراہوں پرہنگامے اور دھرنے دیکر پورے نظام کو مفلوج کردیاجاتاہے ۔اس دھرنا سیاست کی حوصلہ شکنی کی جائے اتنی ہی کم ہے کیونکہ کوئی بھی دھرنا قومی خزانے کواربوں روپے سے کم کانقصان نہیں دیکرجاتا پھر اس کے علاوہ جو الزام تراشیاں اور جس نوعیت کی زبان استعمال کی جاتی ہے اسے تو سن کر صرف انسان الاماں الاماں ہی کرسکتاہے ۔ایسے میں سب سے پہلے وفاقی دارالحکومت یا اس کے قرب وجوار میں لندن کی طرح کا ایک ہائیڈپارک بنایاجائے جہاں پرمظاہرہ کرنے والوں کو ان کے رہنما کم ازکم اتناسبق ضرور دیکر بھیجیں کہ کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کرنی جیسا کہ بیرونی دنیا میں احتجاج کیاجاتا ہے کہ لوگ انتہائی اطمینان وسکون سے پلے کارڈز لیکرکھڑے ہوتے ہیں اور ان کااحتجاج ریکارڈ ہوجاتاہے ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر پُرامن احتجاج ہوتا ہے توپھر حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اسے خاطرمیں لائے اور جس حوالے سے مطالبات کئے جارہے ہیں وہ درست ہیں تو ان کو تسلیم بھی کیاجائے۔ اسی طرح بڑے بڑے شہروں میں بھی اسی قسم کے تجربے کے تحت کام کیاجائے کیونکہ جب بھی کوئی ہنگامے پھوٹ پڑتے ہیں تو عوام جس کرب سے گزرتی ہے اس کاکوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ بچے سکول نہیں جاسکتے، کاروبار تباہ ہوجاتے ہیں، بیمارہسپتال جانے سے پہلے خالق حقیقی سے جاملتے ہیں ،سرکاری دفاتربند ہوجاتے ہیں غرضکہ تمام نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ جاتاہے۔ اب دیکھنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جو بھی نقصان ہوتا ہے اس کاذمہ دارکون ہے اس بات کاتعین کرنابھی بہت ضروری ہے تب ہی یہ مسائل حل ہوسکیں گے اس سلسلے میں وزیراعظم کی زیرصدارت ہونیوالی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جن حوالہ جات سے تبادلہ خیال کیاگیا ہے وہ انتہائی اہم ہے اور ان پربھی عمل کرکے بھنورمیں پھنسے حالات کو درست کیاجاسکتاہے۔

وزیرخزانہ اسدعمرکا خوش آئنددعویٰ
پاکستان اب معاشی اعتبار سے مالی بحران سے نکلتا ہوا نظرآرہاہے، وزیراعظم عمران خان کی کاوشیں بارآورثابت ہورہی ہیں ۔اس سلسلے میں وزیرخزانہ اسد عمر اوروزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ادائیگیوں کے توازن کا اب کوئی بحران نہیں، وہ ختم ہو چکا،12ارب ڈالر کا خلاتھاسعودی عرب نے 6 ارب ڈالر فراہم کیے اور باقی کچھ رقم چین سے ملی ہے ،ہم نے نہ صرف پرانے معاہدوں پر نظرثانی کی ہے بلکہ نئے معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے ہیں سی پیک سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے کابھی موقع ملا ہے ہماری توجہ طویل المیعاد استحکام پر مرکوز ہے مستقل توازن کیلئے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے ہر دورے پر صرف یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ ملا کیا ہے؟ دوروں میں کچھ اور بھی حاصل کیا جاتا ہے دورے سے پاک چین اسٹرٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم اور اقتصادی پارٹنرشپ میں تبدیل کرنے کا موقع ملا ہے۔ وزیراعظم کادورہ چین انتہائی مفید رہا چینی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران غربت میں کمی، کرپشن کی روک تھام، پیداواری، زرعی اور برآمدی قوت میں اضافہ، پاکستان میں صنعتوں اور سرمایہ کاری کا فروغ، جوائنٹ وینچرز اور روزگار کے مواقع میں اضافہ سے متعلق امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی جبکہ بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات، افغانستان میں امن و استحکام، انسداد دہشت گردی، سیکورٹی، دفاع اور کثیر الجہتی فورمز پرتعاون کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ چین کیساتھ ایف ٹی اے کے دوسرے مرحلے سے متعلق بات چیت کو اگلے سال اپریل تک حتمی شکل دیدی جائے گی۔ سعودی عرب کی جانب سے فوری امدادی پیکیج اور اب چین کی جانب سے امداد سے ادائیگیوں کی توازن کا اب کوئی بحران نہیں یہ مستقل حل نہیں ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے پیداواری قوت اور برآمدات میں اضافے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔اب حکومت کو چاہیے کہ وہ مزید دیگرممالک جن سے رابطہ کرناتھاان کی جانب تیزی سے کام کرے تاکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے کیونکہ حکومت کو جتنی رقم درکار تھی اس میں سے تقریباً75سے80فیصد رقوم کابندوبست ہوچکا ہے ۔اب جو باقی رہ گئی ہے اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔نیزقطر سے بھی جوایک لاکھ ملازمتوں کی بات چلی تھی اس کو بھی عملی جامہ پہناناچاہیے۔

About Admin

Google Analytics Alternative