Home » کالم » وفاقی کابینہ کا اجلاس،فیصلوں پرعملدرآمد کی ضرورت
adaria

وفاقی کابینہ کا اجلاس،فیصلوں پرعملدرآمد کی ضرورت

وفاقی کابینہ نے نوازشریف کے حوالے سے لاہورہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نہ جانے کافیصلہ کیاہے ،یہ احسن اقدام ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آیاقانون وانصاف سب کےلئے برابر ہے ، جیلوں میں بہت سارے قیدی ایسے مقید ہیں جو کہ اس سے بھی زیادہ مہلک بیماریوں کاشکار ہیں ، ملک کی حالت یہ ہے کہ یہاں کوئی غریب بیمار ہوجائے یاخدانخواستہ مرجائے تو اس کے لئے ایمبولینس تک کی سہولت میسرنہیں ہوتی اسی جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال نے اشارہ کیاکہ یہاں غریب کومناسب علاج میسرنہیں اور ہمارے سیاسی رہنماءوں کی یہ حالت ہے کہ اگر انہیں زکام بھی ہوجائے تو وہ علاج کے لئے لندن اورامریکہ روانہ ہوجاتے ہیں ، ہماری اس بات پرکوئی بحث نہیں کہ حکومت نے بھی انسانی ہمدردی کے تحت نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی مگر یہ سوال کرنے کے حق بجانب ہیں کہ آیا کسی نے میاں برادران سے یہ سوال کرنے کی جرات کی کہ انہوں نے اپنے تیس سالہ دوراقتدار میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں اُن کا علاج ممکن ہوسکے ۔ شاید اب حالات کروٹ لے رہے ہیں اسی لئے جسٹس ریٹائرڈ جاویداقبال نے یہ بھی کہاکہ اب ہواءوں کارخ بدل رہاہے اب یہ ہوائیں حکمرانوں کی جانب بھی چلیں گی ۔ واقفان حال یہ کہتے ہیں آنیوالے چندماہ انتہائی اہم ہیں اب وسیع پیمانے پرتبدیلیاں اورگرفتاریاں ہونے جارہی ہیں ۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس اپنی جگہ منصوبوں کی منظوریاں بھی اچھا اقدام ،بات یہ ہے کہ جو وعدے تھے وہ بھی کیاہوا ہوگئے ۔ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں معمولی نوعیت کے جرائم میں قید65سال سے زائد عمر قیدیوں کو رہا کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جبکہ کابینہ نے نیشنل ٹیرف پالیسی، متبادل اور قابل تجدید توانائی پالیسی اور محمد خاور جمیل کو وفاقی انشورنس محتسب تعینات کرنے کی بھی منظوری دی جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے معاملے کے حوالے سے برطانوی حکومت کو تفصیل سے آگاہ کیا جائے گا ،برطانیہ میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی نوازشریف پر مقدمات سے آگاہ کیا جائیگا،عمر رسیدہ ، معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کی فہرستوں کی تیاری کا عمل جاری ہے جو آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی، انڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے ن لیگ کو سیاست نہیں کرنی چاہیے تھی،شہبازشریف کے وکلاء نے ہ میں کسی قسم کی ضمانت دینے سے انکار کیا مگر عدالت میں جا کربیان حلفی دیدیا، لاہور ہائی کورٹ میں انڈیمنٹی بانڈ کے حوالے سے حتمی فیصلہ جنوری میں ہونا ہے،اپوزیشن کے خلاف وزیراعظم یا میرا کوئی ایجنڈا نہیں ،اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو شہباز شریف پر توہین عدالت عائد ہو گی، بیرون ملک علاج کےلئے آصف علی زرداری کی درخواست آئی تو ہم ضرورمیرٹ پر اس کا فیصلہ کریں گے ، مولانا فضل الرحمان اپنی عزت بچا کر لے گئے ہیں وہ وزیراعظم کا استعفیٰ لینے آئے تھے مگر ان کو اپنی عزت کے لالے پڑ گئے ۔ کابینہ اجلاس میں ایجنڈا شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے معیشت کے اشاریوں میں بہتری سے متعلق کابینہ ارکان کو آگاہ کیا وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو مبارکباد دی ، وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ نادار اور پسے ہوئے طبقے کی بہتری کےلئے فوری اقدامات اٹھائیں ، مو ثر معاشی پالیسیوں سے مقامی اور بیرونی سرمایہ کا روں کا اعتماد بحال ہوا ،غریب اور مستحق افراد کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ایک ظلم سہنے والامعاشرہ توقائم رہ سکتا ہے لیکن جہاں انصاف میسرنہ ہواس کاجینا محال ہوجاتاہے ۔ وزیراعظم نے بھرپورانداز سے اس حوالے سے ہدایات کی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کپتان تو شاید خود مخلص ہوگا لیکن اس کی ٹیم میں اتنی اہلیت نہیں کہ وہ ان احکامات پر عملدرآمد کر ا سکے ۔ لامحالہ پھرذمہ داری توٹیم کے کپتان پرہی آتی ہے ۔ گزشتہ سترسالوں سے جہاں کرپشن کاناسورہ میں دیمک کی طرح چاٹ رہاہے وہاں پرانصاف کے بول بالاکا بھی فقدان ہے اگرقانون سب کے لئے برابر ہو جائے توپھرحالات بہتر ہوسکتے ہیں لیکن جب عوام کے لئے فیصلے کچھ اور خواص کے لئے کچھ اورہوں تو پھر بین الاقوامی میڈیا کے تبصرے یا اُن کی ہیڈلائنزآنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں یہاں ہ میں نظام درست کرنے اوربدلے کی ضرورت ہے نظم ونسق کا جنازہ نکل چکا ہے اس پربھی وزیراعظم نے کہاکہ میں اس حوالے سے قطعی طورپرکوتاہی برداشت نہیں کروں گا لیکن اگرحکومت نے مستقبل میں چلناہے توپھراب سے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے اس سے پہلے کہ ہواءوں کارخ مکمل طور پرتبدیل ہوجائے ۔

اپوزیشن کادھرنے ختم

کرنے کا احسن اقدام

اپوزیشن جماعتوں کی نمائندہ رہبر کمیٹی نے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے تحت ملک بھر میں جاری دھرنوں کو ختم کرنے کا اعلان اور بند شاہراہوں کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ اب ضلعی سطح پر مشترکہ جلسے کئے جائینگے ، رہبر کمیٹی نے اے پی سی بلانے کی بھی تجویز پیش کردی ۔ اکرم درانی نے میڈیاکو بتایا کہ ;200;زادی مارچ اور نواز شریف کے باہر جانے کے فیصلے کے بعدحکومت بوکھلا گئی ہے، عمران خان کی گزشتہ روز کی تقریر حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے،اس وقت حکومت دیوار سے لگ چکی ہے ، پلان بی کے بعد کسی اور پلان کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ اپوزیشن کی جانب سے دھرنے ختم کرنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن حکومت اس کوبہت آسان ہی نہ لے کیونکہ فضل الرحمان کہہ چکے ہیں کہ وہ معاملات طے کرکے اسلام آباد سے اٹھے ہیں اب حکومت کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں کوئی بھی غلط فیصلہ کیاگیا تو آج جودھرناختم کیاگیاہے اس کے واپس آنے کے بھی امکانات ہیں ۔ اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ مثبت سیاست کرے اوراب دھرنوں ، جلسے جلوسوں کے بجائے جمہوری فورم، پارلیمنٹ ہاءوس میں آوازاٹھائے یہی جمہوریت کا حسن ہے وسائل سڑکوں پرنہیں بلکہ ایوانوں میں حل کرنے چاہئیں ۔

ایس کے نیازی کے زیرک اورحقائق پرمبنی تجزیے

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کی نوازشریف کے حوالے سے بیرون ملک جانے کی پیشگوئی سچ ثابت ہوئی، نوازشریف کی صحت خراب ہوجائےگی وہ باہرچلے جائیں گے،ایس کے نیازی نے عرصہ پہلے پیشگوئی کی تھی، مریم نوازبھی باہر چلی جائیں گی،الیکشن مدت سے پہلے ہوجائیں گے ،خان صاحب بھی احتساب کے شکنجے میں آجائیں گے،قانون سب کےلئے ایک ہونا چاہیے جونہیں ہے ہمارے ملک میں ،لگتایہی ہے الیکشن جلدی ہوجائیں گے،معاملات ٹھیک نہیں ،مشرف کےساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔ اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایس کے نیازی نے مزیدکہا کہ مشرف نے بری ہوجانا ہے،مشرف صاحب کو کچھ نہیں ہونا، میں پرویزمشرف کوغدار نہیں کہہ سکتا ۔ سینئر تجزیہ کارایس کے نیازی گزشتہ 5سال سے پیشگوئی کررہے ہیں کہ پرویزمشرف کوکچھ نہیں ہوگا،عمران خان جائےگا،پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس سنگین کیس ہے،عمران خان جھوٹ نہیں بولتے لیکن حکومت نہیں چلاسکے،حکومت نے خود کوسنبھال لیا تو ٹھیک ورنہ حالات مزیدبگڑیں گے ۔ پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی قانون نہیں ،جو قانون دوقسم کاہووہ قانون ہی نہیں ،عمران خان کی کارکردگی صفر ہے کوئی اسکا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتا،خان صاحب سے حکومت نہیں چل رہی تو چھوڑ دیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative