Home » کالم » وقت کے بدلتے رنگ
Mian-Tahwar-Hussain

وقت کے بدلتے رنگ

Mian-Tahwar-Hussain

انگریزوں کے دور میں بغاوت کرنے والے لوگوں کو کالے پانی کی سزا سنا دی جاتی اور وہ ایسے جزیروں میں منتقل کردیئے جاتےجہاں انسان کو انسان دیکھنے کو نہ ملتا بات چیت کرنا تو دور کی بات ہے، اسی طرح قید تنہائی ہے اس قید کی کئی اقسام ہیں جن میں ایک ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی ہے۔ سرکاری ملازم جب تک جوان رہتا ہے اس کا ایک روٹین دفتر آنے جانے کا بندھا ہوتا ہے روزانہ تیار ہو کر اپنے دفتر جانا اور پھر شام کو واپسی بیوی بچوں کو بھی پتہ ہوتا ہے کہ گھر کا سربراہ شام جار پانچ بجے آئے گا۔ کئی گھریلو امور اس کے آنے پر طے پاتے ہیں۔ گھر میں اہمیت ہوتی ہے دفتر میں اگر وہ آفیسر ہے تو آنیاں جانیاں دی توڑاں ہورنے۔ سرکاری گاڑی سرکاری ڈرائیور سرکاری پٹرول سرکاری اخبار جو صاحب گاڑی کی پچھلی سیٹ پر نیم دراز ہو کر پڑھنے میں مصروف رہتے ہیں۔ دفتر پہنچ کر گاڑی سے اترتے ہی ماتحتوں کے سلام لفٹ میں سوار ہوتے تک دس سلام تو ہو چکے ہوتے ہیں۔ کچھ کا جواب مسکراتے ہوئے دے دیا کچھ پر صرف مسکرا دیئے اور کچھ کا جواب گردن ہلا کر دے دیا بول کر جواب دینے کو جی چاہا تو ایسا کر لیا یا پھر خاموشی سے سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل دئیے۔ تمام دن اپنے اختیارات کے استعمال میں گزار کر صاحب بہادر پھر گھر چلے جاتے ہیں۔ صاحب بہادر سے یاد آیا پاکستان کے قیام کے اولین دور میں ڈپٹی کمشنر کی بہت اہمیت ہوتی تھی جو آج کل جاری، ساری ہے اس کے گھر پر قومی پرچم لہرا رہا ہوتا باوردی پولیس کارڈ کھڑی ہوتی شان، شوکت کاعجب منظردیکھنے کو ملتا۔ اب اس ماحول میں کچھ کچھ کمی ہے لیکن علاقے میں بادشاہی ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کی ہوتی ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہے درخواست گزار اپنی درخواست اس طرح تحریر کرتے “صاحب بہادرجناب ڈپٹی کمشنرصاحب عرض ہے پھر اپنا مدعا بیان کرتے اور آخر میں آپ کے زیر سایہ رہنے والا خادم تحریر کرتے ہوئے اپنا نام اور پتہ لکھ دیتے۔ ایک صاحب جو کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ملازم تھے انہوں نے اپنے گھر کے باہر نیم پلیٹ ان الفاظ میں تحریر کرکے لگوائی “شیر محمد خان کلرک دفتر صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر صاحب”۔ وہ کلرک بھی ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا کی مکمل تصویر تھا۔ محلے میں کسی سے میل جول رکھنا اس کی شان کے خلاف تھا۔ ہمسایوں سے توقع رکھتا کے اسے سلام کریں۔ بہرحال وہ دور نہیں رہا لیکن افسری کی کڑی کمان آج بھی اسی طرح ہے اکثریت کیونکہ دوران ملازمت مختلف کلبوں کی ممبر ہوتی ہے اس لئے وہ فارغ اوقات میں کلب جانا اور ہم رتبہ احباب سے ملنے میں سکون محسوس کرتے ہیں۔ تنہائی کی زندگی سے قطعی طور پر ناواقف ہونے کی وجہ سے جب افسران ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچتے ہیں تو انکی راتوں نیند ڈسٹرب رہنا شروع ہو جاتی ہے۔ پھر جب ملازمت کے سفر کا آخری اسٹیشن آتا ہے تو انہیں اپنی سیٹ سے اٹھنا ہی پڑتا ہے۔ کچھ ہی عرصے بعد نہ تو گاڑی آتی ہے نہ اخبار نہ ہی کوئی پی اے ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی جھاڑ سنے والا ماتحت۔ سریا زدہ گردن اپنے مقام پر آجاتی ہے۔ اور پھر تھوڑے ہی عرصے میں نہ کوئی سلام کرتا ہے اور نہ ہی جواب سننے اور کہنیکو زبان حرکت میں آتی ہے۔ آہستہ آہستہ جان پہچان کے لوگ اور کولیگز بھی فون کرنا خیریت معلوم کرنا وقت کا زیاں سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ گھر والے بھی تنگ پڑ جاتے ہیں صاحب کی مداخلت گھرکے ہر کام میں شروع ہو جاتی ہے۔ نوکرانی دیر سے کیوں آئی، پیاز اتنی جلدی کیوں ختم ہوگیا، بسکٹ زیادہ استعمال نہیں کرنا چائیں کیوں کہ یہ مہنگا ایٹم ہے- گھریلو نوکرانی بھی کہتی ہے صاحب آپ دوسرے کمرے میں چلے جائیں میں نے اس کمرے میں جھاڑو پوچا کرنا ہے۔ دن گیارہ بجے چائے ملنا بھی بند ہوجاتی ہے بیوی سے بات بات پر الجھنا اور اپنی بات منوانے کی ضد اولاد کے سامنے شرمندگی کا باعث بننا شروع ہوجاتی ہے۔ کپڑے دھلوا کر استری کرنا بھی وقت کے ساتھ ضروری نہیں رہتا بیوی کہتی ہے اسی طرح پہن لیں آپ نے کونسا کسی کو ملنے جانا ہے۔ ایسے حالات میں غصے کا کڑوا گھونٹ پینے کے علاوہ صاحب کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ ریٹائرمنٹ کومشکل سے ایک سال ہوتا ہے اور موصوف موت کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ پانچ وقت کے نمازی بن جاتے ہیں اور ساتھ چہرے پر داڑھی سجا لیتے ہیں۔ مسجد میں آنے جانے سے تعلقات تو بن جاتے ہیں لیکن صاحب ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ گھلنے ملنے کو گناہ سمجھتے ہوئے دور سے اشاروں کنایوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ اگرکبھی تنہائی نے زیادہ تنگ کرنا شروع کیا تو صاحب مسجد میں کسی سے ہاتھ ملا کر ملازمت کے اوائل دور سے لے کر ریٹائرمنٹ تک کے زمانے کے قصے سنانا شروع کر دیتے ہیں فائل پر جو نوٹنگ کی اور منسٹر کی بات نہ مانی قواعد ضوابط کی پاسداری سے لیکر اہم پالیسی بنانے تک اپنی اہمیت اور قابلیت کی بے وقت کی راگنی انکی طرف سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی گھر والے دادا ابو سے بچوں کو سکول چھوڑنے یوٹیلیٹی بلز بینک میں جمع کروانے سے لے کر بیبی سیٹنگ کروا لیتے ہیں۔ گھر میں آنیوالے مہمان بھی بابا جی کو سلام کرنے یا خیریت پوچھنے ان کے کمرے میں نہیں آتے وہ چھت کی کڑیاں گنتے گنتے شام و سحر کرتے ہیں کہاں صاحب اور کہاں بابا جی بڑا دھچکا لگتا ہے۔ بیوی بھی پنشن بنک سے نکلوانے کے چند دن پہلے بڑی لجاحت اور محبت سے باتیں کرتی ہے اور جب جیب خالی کروا لیتی ہے تو بابا جی پھر حسب معمول اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹے آہٹوں کو گنتے گنتے نیند کی آغوش میں پناہ لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بابا جی نہ تو نئی نسل میں فٹ ہوتے ہیں اور نہ ہی اڈھیرعمرلوگوں میں بوڑھوں کی محفل میں جانے سے کتراتے ہیں کہ کہیں وہ بھی بہت بوڑھے نہ لگنے لگیں۔ سر کے بالوں پر خضاب لگانا اور وہ بھی بیوی کی مدد سے معرکے کا دن ہوتا ہے۔ بیوی کہتی ہے چھوڑیے آپ بالوں کو رنگ کرنا خوامخواہ کی بدعت پالی ہوئی ہے۔ اس طرح کیا آپ جوان نظر آئیں گے چہرے پر جھریاں تو بڑھی جا رہی ہیں میرے لیے اینٹی ایجنگ کریم جو امریکہ نے تیار کی ہے اور اخبار میں اشتہار بھی تھا جب کبھی مارکیٹ جائیں تو ضرور لیتے آئے صرف پانچ ہزار روپے کی تو ہے خصوصی آفر ہے ورنہ یہ بہت مہنگی کریم ہے صاحب جو اب باباجی بن چکے ہوتے ہیں اگر بھوک سے تنگ آکر یہ کہہ دیں کہ مجھے کھانا دے دیا جائے تو جواب یہ ملتا ہے کہ ابھی ٹھہریے بچے سکول سے آئے ہیں انہیں کھا لینے دیں پھر آپ کو بلاتے ہیں۔ گھر میں اگر دعوت ہو تو حکوم ملتا ہے کہ آپ اپنے کمرے میں رہیں مہمان گپ شپ میں مصروف ہوں گے انکی محفل میں آپ بور ہو جائیں گے وہ صاحب جو کبھی خود سلام کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھتے تھے وقت کے ساتھ وہ ایسے لوگوں کے انتظار میں لمحے گنتے رہتے ہیں جوانہیں سلام کہییں باتیں کریں انہیں سہبت اور محبت دیں ان پر توجہ دیں لیکن آج کل ایسی مصروفیات کے لیے وقت کہاں۔ بس یوں کہیئے کونج وچھڑ گء ڈاروں تے لبھ دی سجناں نوں۔

About Admin

Google Analytics Alternative