Home » انٹر ٹینمنٹ » وکاس بہل جنسی ہراساں کے الزامات سے کلیئر قرار

وکاس بہل جنسی ہراساں کے الزامات سے کلیئر قرار

’کوئین، شاندار اور چلر پارٹی‘ سمیت متعدد کامیاب فلموں کی ہدایات دینے والے ڈائریکٹر وکاس بہل کو خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات سے کلیئر قرار دے دیا گیا۔

وکاس بہل پر اکتوبر 2018 میں ان کی فلم کمپنی ’فینٹم‘ کی ملازم خاتون نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

‘فینٹم’ کی خاتون ملازم نے ان پر الزام لگایا تھا کہ ہدایت کار نے انہیں 2015 میں اس وقت جنسی طور پر ہراساں کیا جب وہ فلم ‘بمبے ویلوٹ’ کی تشہیر میں مصروف تھے۔

خاتون کے مطابق تشہیر کے دوران ہدایت کار نے انہیں متعدد بار نامناسب انداز میں چھوا تھا۔

اس خاتون کے سامنے آنے کے بعد اداکارہ کنگنا رناوٹ نے بھی وکاس بہل پر نامناسب انداز میں ملنے اور نازیبا گفتگو کرنے کے الزامات لگائے تھے۔

کنگنا رناوٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ وکاس بہل نے انہیں 20014 میں ریلیز ہونے والی فلم ‘کوئین’ کی شوٹنگ کے دوران ہراساں کیا۔

کنگنا رناوٹ کے مطابق وہ وکاس بہل سے گلے ملا کرتی تھیں اور ڈائریکٹر انہیں کافی دیر تک بانہوں کے زور سے دبا کر رکھتے تھے، یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ ان کی گردن کے انتہائی قریب لاکر اداکارہ کے بالوں کی خوشبو سونگھا کرتے تھے۔

کنگنا رناٹ کی فلم کوئین کی ہدایات وکاس بہل نے دی تھی—فائل فوٹو: فری پریس جرنل
کنگنا رناٹ کی فلم کوئین کی ہدایات وکاس بہل نے دی تھی—فائل فوٹو: فری پریس جرنل

اداکارہ نے بتایا تھا کہ اس دوران وکاس بہل نے ان سے متعدد بار کہا کہ وہ ان کے بالوں کی خوشبو اور ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔

کنگنا رناوٹ اور خواتین ملازموں کی جانب سے ان پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد وکاس بہل کے سابق کاروباری پارٹنرز اور ‘فینٹم’ فلم پروڈکشن کمپنی کے شریک مالکان ‘انوراگ کشیپ، وکرم دتیا موٹوانی اور مدھو منٹینا ’ نے انہیں جنسی ملزم بھی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان کی کرتوتوں سے واقف تھے۔

سابق کاروباری پارٹنرز نے پروڈکشن کمپنی ‘فینٹم’ کو بھی تحلیل کردیا تھا، جس کے بعد وکاس بہل نے اپنے سابق پارٹنرز کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا۔

جس کے بعد وکاس بہل نے تینوں پارٹنرز کے خلاف ممبئی کی مقامی عدالت میں 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہی ان کے خلاف جھوٹے الزامات کی مہم شروع کی۔

وکاس بہل کی جانب سے دائر درخواست اور ان کے خلاف دائر کی گئی دیگر درخواستوں پر کیسز زیر التوا ہیں، لیکن اب خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کیسز کو بھی ختم کرنے کے لیے درخواستیں دائر کی جائیں گی۔

وکاس بہل کو کاروباری پارٹنرز انوراگ کشیپ، وکرم دتیا موٹوانی اور مدھو منٹینا نے بھی جنسی ملزم قرار دیا تھا—فوٹو: ہف پوسٹ انڈیا
وکاس بہل کو کاروباری پارٹنرز انوراگ کشیپ، وکرم دتیا موٹوانی اور مدھو منٹینا نے بھی جنسی ملزم قرار دیا تھا—فوٹو: ہف پوسٹ انڈیا

وکاس بہل پر الزامات سامنے آنے کے بعد ان کی فلم کمپنی ’فینٹم‘ کی پارٹنر فلم کمپنی ’رلائنس انٹرٹینمنٹ‘ نے ان کے خلاف تفتیش شروع کردی تھی۔

کمپنی کی جانب سے بنائی گئی تفتیشی کمیٹی نے تقریبا 8 ماہ بعد اپنی رپورٹ مکمل کرتے ہوئے وکاس بہل کو الزامات سے کلیئر قرار دے دیا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق کمپنی کی جانب سے بنائی گئی تحقیقی کمیٹی نے وکاس بہل پر خاتون ملازم کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

رپورٹ میں وکاس بہل کو جنسی ہراساں کے الزامات سے کلیئر قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو ثابت نہیں کہا جاسکا۔

رلائنس انٹرٹینمنٹ کے سربراہ شیباسش سرکار نے بھی تصدیق کی کہ وکاس بہل کے خلاف تفتیش کرنے والی کمیٹی نے انہیں تمام الزامات سے کلیئر قرار دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ الزامات سامنے آنے کے بعد وکاس بہل کو ہریتھک روشن کی آنے والی فلم ’سپر تھرٹی‘ کی ہدایت کاری سے ہٹایا گیا تھا، تاہم اب ان کے پاس انہیں واپس ہدایت کار کے عہدے پر بحال کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔

خیال رہے کہ ہریتھک روشن کی اس فلم کو رواں برس کے آخر تک ریلیز کیے جانے کا امکان ہے، وکاس بہل نے ان کی فلم کی 80 فیصد شوٹنگ مکمل کرلی تھی، جس کے بعد ان کے خلاف سامنے آنے والے الزامات کے باعث انہیں ہٹایا گیا تھا۔

وکاس بہل نے خود کو کلیئر قرار دیے جانے کے بعد تاحال کوئی رد عمل نہیں دیا—فائل فوٹو: مس ملانی
وکاس بہل نے خود کو کلیئر قرار دیے جانے کے بعد تاحال کوئی رد عمل نہیں دیا—فائل فوٹو: مس ملانی

About Admin

Google Analytics Alternative