1

وہ وجوہات جو پانی کو ہمارے لیے لازمی ثابت کرتی ہیں

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ پانی پینا صحت کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے مگر کیوں ضروری ہے؟

جسم کو اس سیال کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے افعال مناسب طریقے سے جاری رکھ سکے جبکہ توانائی اور توازن بھی اس کی مدد سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

یعنی مناسب مقدار میں پانی پینا صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند عادات میں سے ایک ہے کیونکہ موسم چاہے سردی کا ہو یا گرمی کا مگر مناسب مقدار میں پانی کی ضرورت جسم کو ہر وقت ہوتی ہے جس کی کمی کی صورت میں آپ کو مختلف مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پانی کی بیشتر مقدار مشروبات یا پانی سے ہی حاصل ہوجاتی ہے مگر غذاﺅں کے ذریعے بھی کسی حد تک پانی جسم کو ملتا ہے۔

تو وہ وجوہات جان لیں جو ہمارے جسم کے لیے پانی کو ضروری بناتی ہیں۔

گردوں کے امراض سے تحفظ اور جسم سے کچرے کا اخراج

جسم کو پانی کی ضرورت پسینے، پیشاب اور آنتوں کے افعال کے لیے ہوتی ہے، پسینہ کا خراج جسمانی درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ پیشاب کے راستے جسم میں موجود کچرے کا اخراج ہوتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا گردوں کو موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ گردے کے امراض سے بچاتا ہے۔ درحقیقت پانی کی کمی کے نتیجے میں گردوں کے فیلیئر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے بچنا بہت آسان ہے یعنی مناسب مقدار میں پانی پینا، مگر درمیانی عمر میں اکثر افراد پانی کم پینے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

لعاب دہن بنانے میں مدد دیتا ہے

پانی لعاب دہن کا مرکزی جز ہوتا ہے، لعاب دہن میں الیکٹرو لائٹس، انزائمے اور دیگر کی کچھ مقدار بھی ہوتی ہے جو ٹھوس غذا کے ٹکڑے کرنے اور منہ کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ جسم عام طور پر اس وقت مناسب مقدار میں لعاب دہن بناتا ہے جب پانی کو پیا جائے، مگر کچھ ادویات یا علاج کے نتیجے میں اس کے بننے کی شرح کم ہوسکتی ہے۔ اگر منہ معمول سے زیادہ خشک ہو اور پانی پینے سے بھی مدد نہ ملے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

جسمانی درجہ حرارت کنٹرول کرتا ہے

ڈی ہائیڈریشن سے بچنا جسمانی درجہ حرارت کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے، جسمانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پسینے کے اخراج سے جسم پانی سے محروم ہوتا ہے یا گرم موسم میں ایسا ہوتا ہے۔ پسینہ جسم کو ٹھنڈا رکھتا ہے تاہم پانی کی کمی پوری نہ کرنے پر جسمانی درجہ حرارت بڑھتا ہے کیونکہ جسم الیکٹرولائٹس اور پازما سے محروم ہوتا ہے۔

ٹشوز، ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کو تحفظ

پانی پینے سے جوڑوں، ریڑھ کی ہڈی اور ٹشوز کے افعال کو درست رکھنے میں مدد دیتا ہے جس سے جسمانی سرگرمیوں میں مدد ملتی ہے جبکہ جوڑوں کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

جسمانی کارکردگی بہتر ہوتی ہے

مناسب مقدار میں پانی پینا جسمانی سرگرمیوں کے لیے ضرورت ہوتا ہے کیونکہ ہائیڈریشن جسمانی مضبوطی، طاقت اور کارکردگی پر اثرات مرتب کرتی ہے۔

قبض سے تحفظ

فائبر والی غذائیں ہی قبض سے بچانے میں مددگار ہوتی ہیں بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ مناسب مقدار میں پانی پیا جائے کیوکہ تاکہ آنتوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے پانی مل سکے۔ مناسب مقدار میں پانی نہ پینا، میگنیشم اور فائبر کا کم استعمال قبض کا باعث بنتا ہے، اگر آپ قبض کے شکار ہیں تو پانی پینا اس مسئلے سے نجات میں مدد دے سکتا ہے۔

ہاضمے کے لیے مددگار

کچھ لوگوں کے خیال کے برعکس کھانے سے پہلے، درمیان یا بعد میں پانی پینا جسم کو غذا کو آسانی سے ٹکڑے کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے غذا کو زیادہ موثر طریقے سے جذب کیا جاسکتا ہے۔ ، اسی طرح اکثر پیٹ پھولنے کی شکایت کا سبب بھی پانی سے دوری ہوتی ہے، ماہرین کے مطابق جو لوگ مناسب مقدار میں پانی پیتے ہیں، ان کی آنتوں کے افعال درست رہتے ہیں جس سے پیٹ پھولنے جیسے مسائل کا سامنا نہیں ہوتا۔

غذائی اجزا کو جذب کرنے کے لیے مددگار

غذا کے ٹکڑے کرنے کے ساتھ ساتھ پانی پینا وٹامنز، منرلز اور دیگر غذائی اجزا کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جسمانی وزن میں کمی کے لیے مددگار

مختلف طبی تحقیقی رپورٹس یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جسمانی چربی اور پانی پینے سے جسمانی وزن میں کمی کے درمیان تعلق موجود ہے، کھانے سے پہلے پانی کچھ ہفتوں میں جسمانی چربی گھلانے میں مدد دے سکتا ہے۔

بلڈ آکسیجن کی گردش میں بہتری

پانی پورے جسم میں آکسیجن اور ضروری اجزا کو پہنچانے میں مدد دیتا ہے، مناسب مقدار میں پانی پینا اس گردش کو بہتر کرتا ہے جس سے مجموعی صحت پر مثبت اثر مرتب ہوتا ہے۔

امراض سے تحفظ

مناسب مقدار میں پانی پینا مخصوص امراض جیسے قبض، گردوں میں پتھری، دمہ، پیشاب کی نالی میں سوزش اور فشار خون سے بچاسکتا ہے۔

جسمانی توانائی بڑھائے

جسم کے تمام خلیات کو اپنے افعال کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے، پانی کی کمی کی صورت میں ان کے افعال متاثر ہوتے ہیں جس سے ہارمونز اور غذائی اجزا کا بہاﺅ ہموار نہیں رہتا، جس کے نتیجے میں جسمانی توانائی غائب ہوجاتی ہے جبکہ ہر وقت تھکاوٹ کا احساس باری رہتا ہے۔ ویسے کسی انسان کو کتنے گلاس پانی کی ضرورت ہوسکتی ہے، اس کا انحصار تو موسم اور اس کی ضرورت پر ہے مگر عام طور پر طبی ماہرین 6 سے 8 گلاس پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔

دماغی افعال بہتر کرے

مناسب مقدار میں پانی پینا جسمانی افعال کو بھی درست طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، تحقیقی رپورٹس کے مطابق پانی کم پینے سے توجہ مرکوز کرنے، ذہنی ہوشیاری اور مختصر المدت یاداشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مزاج خوشگوار بنائے

معمولی ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں سب سے پہلے ہمارے مزاج پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور چڑچڑا پن طاری ہوجاتا ہے، اس کے مقابلے میں پانی پینا مزاج کو خوشگوار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

جلد کو جگمگانے میں مدد دے

مناسب مقدار میں پانی پینا جلد کی صحت کو بھی ٹھک رکھتا ہے، جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ہے جس کو نئے خلیات کے لیے پانی پر انحصار کرنا ہوتا ہے اور یہی سیال جلد کو جگمگانے میں بھی مدد دیتا ہے، اور جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے جلد کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی کمی کی صورت میں بڑھاپا جلد طاری ہوسکتا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں