Home » کالم » ’’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘‘کی اسموک اسکرین چہل پہل

’’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘‘کی اسموک اسکرین چہل پہل

ملک بھر کے اخبارات’الیکڑونک میڈیا ’ایف ایم ریڈیوسمیت سوشل میڈیا میں ہیجان خیز طوفان نما ‘اسموک اسکرین’کی فریب زدگی کے سحر نے ہرسیاسی فکرمند بزرجمہرے کو اپنی گرفت میں جکڑا ہوا ہے، ہر کوئی اسموک اسکرین پر نموداران ہی ;39;سیاسی گتھیوں ;39;کو سلجھانے میں لگا ہوا حیران وپریشان ہے خود سرابی کے فریب کا شکار;39;ارے یہ کیا ہوگیا;23839; یہ کیوں کردیا گیا;238;ارے ایسی‘ٹاورنگ پرسنلیٹی’کو جوابدہی کے کٹہرے میں لاکھڑا کردیا گیا;238; بلاوجہ عمران حکومت نے اپنے ہی لئے’عدالتی بحران‘ ساپیدا کردیا;238;ایسی’’لائق و فائق کرشماتی شخصیت‘‘اتنے’’ اونچے قدکاٹھ کی شخصیت‘‘ پر الزامات عائد کردئیے گئے;238; لگتا ہے حکومت نے یہ قدم اْٹھا کراپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی ماردی ہے;238; بس موجودہ حکومت یوں سمجھئے گھر چلی ہی جائے گی جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے’’ احتساب احتساب‘‘ کی باتیں سنتے سنتے پاکستانی عوام تنگ آگئے ہیں ;238;قارئین یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ ملک کے چند فی صد کرپٹ مافیا ز گروہ کی یہی دہائیاں یہی راگ ہیں ، ان ہی سرابوں میں چاہے ماضی کی پالی ہوئی بیوروکریسی کی بقایاجات ہویا ناجائز منافع خور تجارتی شعبہ کے گروہوں کے افراد ہوں یاپھر ذراءع ابلاغ کے ’’ناخداؤں ‘‘ ہوں اُن کے حواری اور چیلے ہوں یہ سب مل کر پاکستان کے نوے فی صد عوام کو یقین دلانے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں کہ ماضی کا حکمرانی سسٹم عمران حکومت سے بہتر تھا ماضی کے مسترد شدہ حکمرانوں پر سنگین کرپشنز کے الزامات غلط لگائے گئے ہیں ایک سابق وزیراعظم کو سپریم کورٹ نے بلاوجہ سزا سنائی ‘ اور اْنہیں جیل میں ڈالا گیا ہے ایک’’ انتہائی معصوم ‘‘سابق صدر اور اْن دیگر قریبی افراد پرمن گھڑت الزامات لگا ئے جارہے ہیں ;238; مطلب یہ کہ موجودہ حکومت نے’’ عدل عدل‘‘ کا شور تو بہت مچا رکھا ہے پر اب تک تاریخوں پر تاریخیں ہی دی جارہی ہیں بقول ان سیاسی مفاداتی بزرجمروں کے چاہے وہ صحافیوں کے بھیس میں ہوں یا وکلاکے بھیس میں ‘ پاکستانی عوام پر حکمرانی کا یکطرفہ حق جتلانے والے جولائی سال دوہزاراٹھارہ سے قبل کے جمہوری ‘اسٹیٹس کو’ کی دوبارہ بحالی کے لئے لگتا ہے کہ اپنی کشتیاں جلانے پر اتر آئے ہیں یہ موقع پرست ہمیشہ تاک میں رہتے ہیں کہ ’’کوئی سافٹ بال‘‘ اگر مل جائے تو اْس پر جیت کا چھکا ماردیا جائے’لیجئے انہیں ایک’سافٹ بال‘ اور مل گئی پاکستانی عوام کی واضح اکثریت منتظرہے اس ‘سافٹ بال’ کو پاکستان کی کرپٹ مافیاز ٹیم کھیل پاتی بھی ہے یا پھر’’ کلین بولڈ‘‘ ہوجائے گی کیونکہ دس گیارہ ماہ ہونے کو آئے ہیں ان کرپٹ مافیا میں سے کسی ایک کو بھی اب تک کوئی عبرتناک سزا ہوتی کسی کو دکھائی نہیں دی ہے اب ایک اور ‘بڑی شخصیت’پر الزامات کا نیا ایشو اور سامنے آگیا مفروضوں پر مبنی باتیں ہیں کہ ختم ہونے پر آ نہیں رہیں ;39;مباحث;39;مناظرات اور مکالمات کی سیاسی جگتیں سب اپنی جگہ مگر کوئی یہ کہتا ہوا تاحال نظر نہیں آیا جو ببانگ دہل کہے کہ عدل اور انصاف کی اہمیت وضرورت قرآن وحدیث کی روشنی میں پاکستانی معاشرے میں استحکام پیدا کرنے کے لئے کل سے زیادہ آج کتنی ضروری ہو چکی ہے حقیقی عدل وانصاف یا پھربقول ایسوں کے جو آج کل اس بارے میں معترض ہیں ،اْن کے نزدیک عدل وانصاف کا کیا ایسا دوہرا نظام قائم رہے ’بڑی شخصیتوں ‘کے لئے کچھ ہو اور عام پاکستانیوں کے لئے سخت اور کڑانظام علیحدہ ہو;23839; اگر ایسا ہوجائے ماضی میں ایسا ہی ناکارہ سسٹم راءج تھا توکیا اس طرح سے ہمارامعاشرہ مجرمانہ چھپن چھپائی اور منکرات سے پاک صاف ہوجائے گا;238;جناب والہ! معاشرے کو ایسی مجموعی سماجی اور ادارہ جاتی برائیوں سے مبرا رکھنے کے لئے قانون اور عدل کا اطلاق بلاشرکت طبقات یکساں رکھے بغیر کیسے پاک و صاف رکھا جاسکتا ہے;238; کیونکہ عدل سب کے لئے یکساں پوچھ گچھ کا متقاضی ہوتا ہے، عدل کی بنیاد قانون پر ہوتی ہے، کسی بالاطبقہ کے فرد کے لئے عدل کی شکل کچھ اور ہو اور عدل میں مصلحت برتی جائے تو پہلی معاشرتی انارکی کی زد سماجی ومعاشرتی امن وامان پربراہ راست پڑتی ہے، یہی وجوہ ہے کہ دین اسلام نے ایسے جرائم میں حدیں مقرر کی ہوئی ہیں جیسے چوری;39;قتل وغارت گری;39;جھوٹے افعال واعمال کی فتنہ گری;39; اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والوں کا اپنے حلف پر پورا نہ اترنا;39;ریاستی خزانوں کی لوٹ مار میں ملوث ہونا یہ جرائم ہیں جن کی جوابدہی ہر کسی کو دینی ہوگی جوابدہی کا قانون سختی سے نافذ ہوگا تو تبھی کہیں جاکرہمارامعاشرہ کسی حد تک جرائم سے پاک وصاف ہوگا ’’عدل‘‘ کے حقیقی نظام کو چیلنج کرنے والوں نے یہ جو ملک میں ایک غیر ضروری سا طوفان اْٹھانے کے لئے منفی سرگرمیاں شروع کرنے کے جمع ہونے کی منصوبہ بندیاں کرنے پر کمربستہ نظرآرہے ہیں کہ;39;اتنی بڑی قدآور قانون کو سمجھنے والی شخصیت پر الزام کیوں ;238;مگر کوئی یہ نہیں سوچ رہا ہے کل اگراسی ‘قدآور قانون دان‘شخصیت نے سپریم جوڈیشل کونسل کو تسلی بخش جوابات دیدئے تو ان الزامات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی پھر یقینا حکومت سے پوچھا جانا حق بنتا ہے کہ ;39;غلط اور بوگس الزامات کیوں لگائے گئے;238; صبر تحمل مزاجی یکسوی اور وقار اور متانت کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا جارہا جس اعلی قانون شناس شخصیت پر الزامات کا تعلق ہے اْن کا یہ کہنا اپنی جگہ برحق کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجے گئے اْن کے خلاف ریفرنس کے مندرجات میڈیا میں کیسے شاءع ہوئے نشرہوئے اور ٹیلی کاسٹ ہوئے;238;قانون کی ادنیٰ سی سوچ رکھنے والے کی اس رائے اورمنطق میں کتنا وزن ہے کہ جس ‘ٹاورنگ شخصیت’ کے خلاف کوئی ریفرنس اگر سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا ہے تو کیا اْنہیں صدر مملکت کو خط لکھنا صحیح تھایا وہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کو خط لکھتے یوں بات اندرون خانہ رہتی ‘ٹاورنگ پرسنیلیٹی’ کے صدر پاکستان کو تحریر کردہ دونوں اہم خطوط جو اب شائد اس اہم ریفرنس کا حصہ بن چکے ہیں وہ میڈیا کی خبروں ‘ٹاک شوز اور سوشل میڈیاپر مختلف پیراؤں میں یوں زیر بحث کیسے آئے;238; اہل وطن یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ یہ مذکورہ’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘ جو آئین اور قانون پر مکمل سوجھ بوجھ کی قابلیت واہلیت کی برتری کی حامل قرار دی جارہی ہے اور اُوپر سے بلوچستان صوبہ سے تعلق رکھنے کی اہمیت کی تکرار قوم پر آخر باور کیا کرایا جارہا ہے یہ افراد آئین اور قانون سے بالاتر ہوتے ہیں اب ذرا اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کراپنے ایمان کی تازگی کو توانا کرکے کوئی بتلائے توسہی کہ خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ مشہور واقعہ کسے یاد نہیں جن سے مسلمانوں کے ایک اجتماع سے بھری ہوئی مسجد میں جب وہ خلفیہ دوئم کے منصب جلیلہ پر فائز تھے اْن سے ایک عام مسلمان نے سوال کردیا تھا کیا حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی بڑی کوئی اور’ٹاورنگ پرسنالیٹی‘ ہوسکتی ہے;238; خلفیہ دوئم نے تو اس عام مسلمان کو موقع پر گواہ بھی فراہم کردیا تھا اور تشفی جواب بھی دیا مسلمانوں کے مجمع سے کسی ایک بھی مسلمان نے خلیفہ وقت سے سوال پوچھنے والے عام مسلمان کا گھیراو نہیں کیا اور نہ ہی وقت کے عظیم المرتبت خلیفہ دوئم نے عام مسلمان کے سوال پوچھنے پر اس عمل کو اپنے خلاف کسی سازش کا کوئی نتیجہ قرار نہیں دیا تھا جناب والہ!یہ ہے اسلام کا نظام عدل جو متمدن تہذیب کے تمام تر تجربات کاپختہ نچوڑ ہوتا ہے عدل کی کرسی کے متمنی ہر عادل کو انتہائی مطمئن اورپرسکون ہونا چاہیئے اورعاجز طبعیت کا حامل ہوناچاہیئے اور یہی نہیں بلکہ ایسوں کا حلقہ احباب اور ایسے عادل کے دیگر شناور ہر قسم کے الزامات کے ہر شائبہ سے بھی مبرا ہونے چائیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative