Home » بزنس » ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے 90ارب حکومت کے پاس پھنس چکے

ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے 90ارب حکومت کے پاس پھنس چکے

 کراچی: وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ایکسپورٹرز کی گورنر ہاؤس کراچی میں 10 جولائی 2019 کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے ایکسپورٹرز کو یقین دلایا گیا تھا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈز بنگلہ دیش کے ماڈل کی طرز پر جی ڈی داخل ہونے کے فوراً بعد ادا کر یے جائیں گے، بصورت دیگر اگر حکومت نئے سسٹم پر عمل درآمد پر ناکام رہی اور ریفنڈز بروقت ادا نہ ہو سکے تو پانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹرز کیلیے ایس آر او 1125 کے تحت صفر فیصد سیلز ٹیکس نو پے منٹ نو ریفنڈ سسٹم کو بحال کر دیا جائے گا۔

یہ بات اپنے ایک مشترکہ یبان میں جاوید بلوانی،چیئرمین پاکستان اپیرل فورم، اسلم احمد کارساز، چیئرمین، پاکستان ہوزری مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، شیخ شفیق، چیف کورڈینیٹر، پاکستان ریڈی میڈگارمنٹس مینو فیکچررزاینڈایکسپورٹرز ایسوسی ایشن، کامران چاندنہ، چیئرمین، پاکستان نٹ سویئراینڈ سویٹرز ایکسپورٹرز ایسو سی ایشن، خواجہ ایم عثمان، چیئرمین، پاکستان کاٹن فیشن اپیرل مینو فیکچررز اینڈایکسپورٹرزایسو سی ایشن نے کہی۔ حکومت کا بنیادی مقصدزیروریٹنگ کاخاتمہ سے ٹیکسٹائل کی لوکل فروخت پر ٹیکس وصول کرنا تھا۔ اس مد میں حکومت نے اب تک کتنا ٹیکس وصول کیا اس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں مگرٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے 17 فیصد سیلز ٹیکس کی مد میں تقریباً 90ارب روپے حکومت کے پاس پھنس چکے ہیں جس کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو اپنی صنعتیں چلانے میں بہت دشواری کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ حکومت اور ایف بی آر نے ایکسپورٹر ز کو اعتمادمیں لیتے ہوئے کہا تھا کہ نیا ریفنڈ سسٹم صارف دوست ہوگا اوریہ خودکار طریقہ سے کام کرے گا، جس میں کوئی انسانی عمل دخل نہ گا۔ اس سلسلے میں حکومت نے نیا ریفنڈ سسٹم فاسٹرکے نام سے متعارف کرایا اور اس سسٹم کے تحت ایکسپورٹرزکو ان کے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کلیمز داخل کرنے کے  72گھنٹوں میں کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔برعکس اس کے یہ سسٹم طویل اور پیچیدہ ہے جس کا نفاذایف بی آر نے بغیر کسی ٹریننگ یا ورکشاپ کا اہتمام کرتے ہوئے اچانک کیا اور ایکسپورٹرز اب تک اس سسٹم کو مکمل طور پر جانچ نہیں سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے علم میں آیا ہے کہ سیلز ٹیکس کی فائلنگ کے بعد کل 25,640 ایکسپورٹرز میں سے صرف 110ایکسپورٹرز انیکسچرH داخل کر پائے ہیں جس میں سے صرف44کے ریفنڈ کلیمز منظور ہوئے ہیں جس کی مالیت 236ملین روپے ہے۔ جولائی تاستمبر2019تقریباً 892,212ملین روپے مالیت کی ایکسپورٹ ہو چکی ہے اور ہمارے اندازے سے ایکسپورٹرزکے 151ارب روپے 17 فیصد ٹیکس سیلز ٹیکس کی مد میں ایف بی آر کے پاس جمع ہوچکے ہیں مگر ایف آر نے صرف 236ملین روپے کے ریفنڈ منظور کیے ہیں۔ شرح صرف 0.15فیصد ہے۔ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کو مکمل طور پر تباہی سے بچانے کے لیے اور درآمدات کی بقا اور بہترین مفاد کے لیے حکومت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ریفنڈ کا فاسٹر نظام بہتر بنائے۔

About Admin

Google Analytics Alternative