Home » کالم » پانی ابھی خطرے کے نشان تک نہیں آیا

پانی ابھی خطرے کے نشان تک نہیں آیا

گزشتہ سے پیوستہ

انکے برجستہ اور موقع محل کے مطابق لطاءف خاص و عام میں ;200;ج بھی بہت مقبول ہیں ۔ وہ اٹاری شام سنگھ ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے اٹاری سکول سے میٹرک کرکے خالصہ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد دلی چلے گئے اور ریاست اخبار میں چھے پیسے روزانہ کے حساب سے کام کرنے لگےپھر فوج میں بھرتی ہو گئے اور راشننگ کے محکمہ میں کام کرنے لگے اور مختلف جگہوں پر جن میں قرقی ،قیاب ،ہر ہنس پورہ میں پھرتے پھراتے رہے یہ پھر نا پھرانا ان کی بصیرت میں بہت کام ;200;یا ان کا حافظہ بہت کمال کا تھا اور پنجابی کے ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ شعر کا ایک مصرع مجھے بالکل یاد نہیں ;200;رہا تھا تو اس کے لیے میں نے جا لندھرکا سفر کیا جنڈ یالا اور تھابل کے ;59; کارخ کرکے چل پڑا ایک دیہات میں پہنچا تو وہاں ایک بوڑھا جو حقے کےکش لگا رہا تھا کنویں میں چلتے ہوئے بیلوں کو چلا رہا تھا کہتے ہیں کہ میں نے بھی کنویں سے پانی پیا اور بوڑھے کے پاس بیٹھ کر حال احوال پوچھنے کے بعد مختلف شعر پڑھنے لگا تاکہ اس بوڑھے کا( مرا ہوا بوڑھا )بیدار کر سکوں ۔ کتے ٹکریں تے حال سناواں ۔ ۔ ۔ ۔ تے دکھا وچ جند رل گئی منڈا روئی دے کیکر توں کالا ۔ ۔ ۔ ۔ تے باپو نوں پسند ;200; گیا اس طرح کے مزید کئی بول سنا کر اس کے مرے ہوئے بو ڑھےکو جگا لیا تو وہ شعر جس کا مجھے ایک مصرع بھولاہوا تھا وہ پڑھا وہ یوں تھا پتناں نوں لادے بیڑیاں : وہ فورا بولا جٹی ہیر نے سیالی جانا جوں ہی اس بڈھے نے دوسرا مصرع پڑھا تو میری مطلب بر;200;ری ہوگی 1965کی جنگ میں نظام دین;59; چھمب جوڑیاں ، چو نڈے اور باقی محاذوں پر جاکرمورچوں میں بیٹھ کر کاروائی دیکھ کر شام کو واپس ;200; کر اتنا شاندار پروگرام کرتے تھے اور اپنے فوجیوں کی اتنی حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ وہ قوت ایمانی سے سرشار ہوکر دشمن کے ٹینکوں اور جہازوں کو نیست و نابود کردیتے تھے ۔ ریڈیو جا لندھر، دلی ،جموں کشمیر نظام دین کا نام لے کر للکارتے ادھر نظام دین اپنے مخصوص انداز میں ان کی مٹی پلید کرتا سرگودھا میں کچھ جہاز ہمارے فوجیوں نے مار گرائے نظام دین وہ جہاز دیکھ کر ;200;ئے شام کو پروگرام شروع کیا جب انڈیا والوں نے اپنے ریڈیو سٹیشن سے اپنے جہاز سینا کا ذکر کرنے لگے تو نظام دین کہنے لگے(تواڈی سئینہ مری پء جے) سرگودھا میں جہاز ایسے پڑے ہیں جیو یں کمیٹی والیا ں نے کتیاں نوں زہر د تا اے ۔ نظام دین کے بھپر ے دریا کے ;200;گے چوہدری عبداللطیف مسافر ہی بند با ندھتے تھے ۔ پر یہ پروگرام ;200;ج بھی اتنی ہی مقبولیت کے ساتھ اon air ہوتا ہے کردار وہی ہیں مگر کردار کرنے والے لوگ نئے ہیں بلکہ ان میں سے بھی بیشتر ملک راہی عدم ہوچکے ہیں حسین شاد، منیر نادر ، دلدارپرویز بھٹی، حیدرعباس ، پرویز بھٹی، عباس نجمی جن کے نام لیتے ہوئے کلیجہ منہ کو ;200;تا ہے عباس نجمی (شاہ جی )کا کردار اور فخر چیمہ (چیمہ صاحب)کا کردار ادا کرتے تھے پروگرام کا فارمیٹ دیہاتی ہوتا ہے ایسے لگتا ہے کہ جیسے کسی کنویں (کھو) پر بیٹھ کر پروگرام ہو رہا ہے پورے ہفتے کے پروگرام کا شیڈول ہوتا ہے ایک دن صحت کا پروگرام ۔ سب سے زیادہ خطوط فخر چیمہ کی پذیرائی کے ہوتے اس لیے کہ ان کا لہجہ (ایکسنٹ)بڑا زبردست ہوتا پھر انگریزی ادب کا مطالعہ اور دوسرے علوم سے واقفیت انہیں دیگر کرداروں سے ممتاز کر دیتی ۔ پروگرام کے ;200;خر پر گمشدگی کے اعلان بھی فخر چیمہ ہی کرتے 8 بجے کی خبروں کا اعلان بھی وہی کرتے فلمی گیتوں کی فرمائش کے نام اور جگہوں کے نام صحیح ادا کرنے میں ید طولی رکھتے تھے ریڈیو کی یہی تربیت انہیں پاکستان ٹیلی ویژن تک لے گئی پی ٹی وی ناءٹ اور;59; پنجابی خبریں ;59; ان کی پہچان بنی ہوئی ہے ناظرین و سامعین ;200;ج بھی ان کے منتظر ہیں دیکھیے کب دوبارہ انٹری دیتے ہیں ۔ ریڈیو پاکستان کے سب ہی پروگرام اپنی مثال ;200;پ ہیں ریڈیو فیچر، ریڈیو کالم ،تبصرے، ریڈیائی ڈرامہ، موسیقی پورے پورے کالم کے مقتضی ہیں ۔ موسیقی کو روح کی غذا سمجھا جاتا ہے غالب نے کہا جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں ریڈیو پاکستان تھکےماندے لوگوں کی تفریح کے لئے ہر روز موسیقی پروگرام پیش کرتا ہے موسیقی کے یہ پروگرام رزمیہ بھی ہوتے ہیں اور عشقیہ بھی ریڈیو کے ذریعے مختلف تاریخی یا مخصوص دونوں میں خصوصی طور پر ملی نغمے اور افواج پاکستان اور عوام پاکستان کے حوصلے بلند کرنے کی خاطر خصوصی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں کلاسیکی موسیقی کے لیے ;59200;ہنگ خسروی ;59;کے نام سے پروگرام پیش کیا جاتا ہے ۔ کلاسیکی موسیقی کی ;200;بیاری میں ریڈیو پاکستان کا کردار لازوال ہے نامور غزل گائیک اعجازحسین حضروی، اقبال بانو، فریدہ خانم حسین بخش گلو ،غلام علی، اعجاز قیصر ،غلام عباس ،ثریا ملتانی گھر اور شہنشاہ غزل مہدی حسن جس نے غزل گائیکی کو وہ ;200;برو بخشی کہ رہتی دنیا تک اس کا نام رہے گا مہدی حسن کے گاءکی کی نہ صرف باکمال بلکہ بے مثال بھی ہے ۔

مہدی حسن کی گائی ہوئی ہزاروں غزلیں ریڈیو پاکستان کا شاخسانہ ہیں موسیقی کے ہر شعبے سے وابستہ نا بغےصرف ریڈیو پاکستان کی مرہونِ منت ہے ان سازندوں ، موسیقاروں کے ساتھ ساتھ میوزک پروڈیوسرز کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ مجاہد حسین، حسن فاروقی، خالد اصغر اور سلیم بزمی ناقابل فراموش خدمات سرانجام دے رہے ہیں سلیم بزمی جو خود بھی بہت بڑے گا ئیک ہیں اسکول اور کالج کے زمانے ہی سے گائیکی میں حصہ لے رہے ہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں زمانہ طالب علمی میں کالج کے ہفتہ وار میوزک پروگرام میں باقاعدہ حصہ لیتے رہے ۔ انہیں کشور گائیکی کا سپیشلسٹ سمجھا جاتا تھا ریڈیو پر بطور پروڈیوسر ملازمت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے میوزک سے ہی وابستہ کر دیا گیا سلیم بزمی نے کئی ملی نغموں اور غزلوں کی دھنیں بھی تیار کی ہیں ملک کے تمام چیدہ چیدہ اقوال پارٹیوں کی قوالیوں کی پروڈکشن تیار کر چکے ہیں ۔ گلوکاری میں غلام علی، فدا حسین گلوکارہ خورشید بیگم ،ممتاز بیگم ،زاہدہ نذر، فتح علی کمالوی ،پارو جی، استاد لیاقت علی خان گواچکے ہیں ۔ سلمی ;200;غا ،;200;غا کوثر ،شفقت امانت علی خان، سیمی لالیکا ،صائمہ ممتاز ،صنم ماروی، سارہ رضا خان، علی عباس، سجاد طافو، ندیم عباس لونے والا اور بہت سے موسیقاروں اور سازندوں کو ریڈیو پاکستان پر متعارف کروا چکے ہیں ریڈیو پاکستان لاہور سی پی یو میں کلاسیکل ،سیمی کلاسیکل اور لاءٹ میوزیکل، غزل، گیت، ملی نغمے ،موسموں کے گیت، شخصیات کے گیت اور دیگر اصناف سے میں ساڑھے سات ہزار گیت پروڈیوس کیے ۔ 2006 میں بہترین میوزک پروڈیوسر کا پی بی سی نیشنل ایکسیلینس ایوارڈ، 2018 میں کلاسیکل میوزک ۔ کی جانب سے امیر خسرو ایوارڈ ملا ۔ ورق کی تنگ دامنی کی وجہ سے ان کے بقیہ کام کا احاطہ ممکن نہیں ہے ۔ مہدی حسن کی وفات پر تمام پروڈیوسرز نے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بڑے شاندار پروگرام پیش کیے مگر حسن فاروقی اوربطور خاص سلیم بزمی کی ترتیب شدہ پروگرام کی گونج سامعین اب تک نہیں بھلا سکے ہیں ۔ مگر افسوس صد افسوس !سینٹرل پروڈکشن یونٹ لاہور، کراچی کی بندش جس کے ساتھ گیت، غزل، ٹھمری ، کافی کی گائیکی ،دم توڑ جائے گی وہاں بہت سے سازندے موسیقار اپنے فن سمیت لقمہ اجل بن جائیں گے اس لیے ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان محترم عمران خان صاحب سے ملتمس ہوں کہ اس کی بندش کے نوٹیفکیشن کو جلد از جلد کالعدم قرار دیں ۔

ٹوٹا نہیں اشکوں سے ابھی ضبط کا پشتہ

پانی ابھی خطرے کے نشان تک نہیں آیا

About Admin

Google Analytics Alternative