Home » کالم » پانی کو صوبائی تعصب سے بچائیے

پانی کو صوبائی تعصب سے بچائیے

ہم بھی کیا عجیب قوم ٹھہرے ہیں پانی جو کہ ہر موسم اور ہر وقت کی بنیادی ضرورت ہے جب بھی موسم گرما کی شدت بے حال کرنے لگتی ہے اس کی قدروقیمت کا احساس ہونے لگتا ہے۔گزشتہ موسم گرما کی طرح رواں موسم گرما بھی کڑاکے نکالنے لگا ہے تو ہر طرف پانی پانی کی دہائی ہے.ہر چھوٹی بڑی محفل کا موضوع پانی کی قلت اور ڈیمز کی تعمیر ہے .ان دنوں سوشل میڈیا پر نئے ڈیمز کی تعمیر خصوصا کالاباغ ڈیم ٹاپ ٹرینڈ ہے۔بلاشبہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں پانی نایاب ہونے کو ہے۔مستقبل کی جنگوں کی ایک وجہ پانی کو ایک عرصہ سے قرار دیا جا رہا ہے لیکن اب تو قلت آب کو دہشتگردی سے بھی بڑاخطرہ قراردیا جا رہا ہے۔آئی ایم ایف کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پانی کی سنگین قلت کے شکار ممالک کی فہرست میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی اور آبی ذخائر کے لیے پاکستانی کونسل برائے تحقیق (پی سی آر ڈبلیو آر) نے خبردار کیا ہے کہ 2025 تک یہ جنوب ایشیائی ملک پانی کے شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نیل بوہنے کے مطابق پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا۔محققین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ 2040 تک شہریوں کی پانی کی طلب کو پورا کرنے کے حوالے سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کئی عالمی اداروں نے پہلی مرتبہ پاکستانی حکام کو خبردار کیا ہے کہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری ایکشن نہ لیا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ماہ کے دوران پانی کے دو بڑے ذخائر منگلہ اور تربیلا ڈیموں میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دو بڑے آبی ذخائر میں پانی صرف تیس دن کی ضرورت کے لیے ہی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جوکہ کم از کم 120 دن تک ہونا چاہیے جبکہ بھارت ایک سو نوے دنوں تک کے استعمال کے لیے پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو دریاں اور بارشوں کی صورت میں سالانہ تقریبا 115ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے۔ اس پانی کا 93 فیصد زراعت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور پانچ فیصد گھریلو اور دو فیصد صنعتی شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم اریگیشن نیٹ ورک بد حالی کا شکار ہونے کے باعث زرعی شعبے کو ملنے والے پانی کا 70فیصد حصہ ترسیل کے دوران ضائع ہوجاتا ہے۔کئی ماہرین زور دے رہے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کی خاطر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ پانی کے ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کو ضائع ہونے سے بھی روکنا ہوگا جو ہر سال تقریبا 46 ملین ایکڑ فٹ ضائع ہوتا ہے.اپریل میں حکومت نے پاکستان کی پہلی قومی واٹر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں پانی کے بحران پر قابو پانے کی خاطر پہلے سے جاری کوششوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔ تاہم ماہرین، حکومت کی طرف سے کیے گئے ان اعلانات کو محض اعلان ہی سمجھتے ہیں۔جیسے کہ اوپر اقوام متحدہ کے ہیومنیٹیرین کوآرڈینٹر نے کہا ہے کہ پانی کے اس بحران کی وجہ سے پاکستان کا کوئی علاقہ بھی نہیں بچ سکے گا ہم اس کے آثار تھر اور کوئٹہ کے دور دراز علاقوں آواران اور گردونواح میں دیکھ سکتے ہیں۔تھر میں پانی اور دیگر غذائی قلت کے باعث ہر سال بیسیوں بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں مگر اس کا حل نہیں نکالا جا سکا ہے جبکہ ضلع آواران میں بھی موسم گرما میں کم بارشوں کی یہی صورتحال رہتی ہے۔بس فرق اتنا ہے کہ آوارن میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ابھی گزشتہ ماہ ہی صاف پانی کی عدم دستیابی اور کم بارشوں کے باعث اس بد قسمت علاقے کو گیسٹرو کے مرض نے آن لیا.اس افسوسناک صورتحال میں بھی حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتی رہی جبکہ پاک فوج نے حسب سابق ریلیف کی سرگرمیوں کو سنبھالا. فوری طور پر میڈیکل کیمپ لگائے .ادویات فراہم کرنے کے علاوہ عوام میں پینے کا پانی,پانی کی ٹینکیاں، مچھردانیاں اور راشن بھی تقسیم کیا۔جن مریضوں کی حالت زیادہ خراب ہوتی انہیں فوجی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے حب پہنچایا گیا ۔اس قدرتی آفت میں پاک فوج کی ان کوششوں کو سرہانے کی بجائے بلوچ سب نیشلسٹوں نے منفی پروپیگنڈا کے طور لیا.کہا جانے لگا کہ علاقے کی عوام کو بی ایس اینز کی حمایت سے دور رکھنے کیلئے جبری طور دوسرے علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے.یقیناًحقیقت اس سے مختلف ہے ۔ضلع آواران جو کسی نہ کسی آفت کا شکار رہتا امدادی سرگرمیوں کے لیے پاک فوج ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔چند برس قبل یہ ضلع جب زلزلہ کی آفت سے دوچار ہوا تھا تو یہ پاک فوج ہی تھی جس نے کئی قیمتی جانوں کو بچایا تھا.بات دور تک چلی گئی مختصر یہ کہ موسمیاتی تبدیلیاں خطے کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں جس کے اثرات قلت آب کی شکل میں ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں.چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں لارجر بینچ ان دنوں کالا باغ ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت کر رہا ہے ،اگلے روز کراچی رجسٹری میں سماعت کے دوران سابق چیرمین واپڈا ظفر محمود نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں زیر زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جاچکا ہے،کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جاچکا ہے کہ بحالی میں 2 سو سال لگیں گے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 10 سال بعد تو کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا، یعنی 10 سال بعد لوگوں کو کوئٹہ سے ہجرت کرنا پڑے گی.پانی کی قلت کا اندازہ اس سے بھی لگا لینا چاہیے کہ 1948 میں سالانہ فی کس پچاس لاکھ لیٹر پانی موجود ہوتا تھا۔ جو اب کم ہوکر دس لاکھ لیٹر فی کس رہ گیا ہے۔ اسی طرح کی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2025 تک سالانہ فی کس پانی کی موجودگی خطرناک حد تک کم ہوکر آٹھ لاکھ لٹر تک ہوجا ئے گی۔ تب ملک میں 80 فیصد لوگوں کو گھروں میں ٹونٹیوں کے ذریعے پانی مہیا نہیں ہوسکے گا اور زراعت کو بڑی حد تک نقصان پہنچے گا۔اس سے معاملے کی سنگین کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم پانی جیسی بنیادی ضرورت کو بھی صوبائی تعصب کی بھینٹ چڑھا کر اپنی ہی آنے والی نسلوں سے دشمنی کر رہے ہیں۔

*****

About Admin

Google Analytics Alternative