3

پانی کے بغیر پنجاب سندھ کے زرخیز علاقے بنجر بن جائینگے

ماضی میں آبی ذخائر کی تعمیر بارے اہم منصوبوں اور سفارشات کی پروانہ کر کے مجرمانہ غفلت کی گئی اور نتیجتاً اب صاف نظر آرہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اور اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی اس اہم مسئلہ پر فوری توجہ نہ دی تو مستقبل میں ملک کےلئے خطرناک مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ پنجاب اور سندھ کے زرخیز علاقے بنجر ہو سکتے ہیں ۔ ایک طرف ہ میں داخلی طور پرچند ناعاقبت اندیش اور ملک دشمن سیاستدانوں کی مخالفت کا سامنا ہے تو دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن ملک بھارت ہ میں قدم بہ قدم معاشی طورپر تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ کافی عرصہ سے اسی ایجنڈہ پر کام کر رہا ہے ۔ ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈیمز نہ بنانے دینا پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے تاکہ وہ مکمل طورعالمی مالیاتی اداروں پر انحصارکرے ۔ بھارت سندھ طاس معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ بھی کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر حل نہ کروانا اسی سازش کا حصہ ہے کیونکہ دریائے جہلم، چناب،نیلم، وولر جھیل اور دریائے سندھ کا پانی کشمیر سے ہی آرہا ہے ۔ اسی لئے قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا ۔ ملک اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے ملک میں کم از کم چار آبی ذخائر کی تعمیر انتہائی ضروری ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کے تین بڑے آبی ذخائر تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ میں ریت اور مٹی جمع ہونے کی وجہ سے پانی کے ذخائر کی گنجائش کم ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ آئندہ برسوں میں بڑے آبی ذخائر تعمیر نہ کئے گئے تو اس کا ملک کو شدید نقصان پہنچے گا ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس وقت ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے کی سخت ضرورت ہے ۔ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان کی کھیتی باڑی کا بیشتر انحصار آبپاشی پر ہے ۔ آبپاشی کا نظام سندھ طاس کے نظام سے منسلک ہے ۔ 1951ء میں آبپاشی کےلئے 5650 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو اب کم ہو کر 400 کیوبک میٹر رہ گیا ۔ جس ملک میں ایک ہزار کیوبک میٹر سے کم پانی دستیاب ہو اسے قحط زدہ ملک سمجھا جاتا ہے ۔ اس لئے نئے ڈیموں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے ۔ اگر اس وقت نئے ڈیم تعمیر نہ کئے گئے تو آئندہ نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریاؤں اور گلیشیئرز کی دولت سے مالا مال کیا ہے ۔ ان آبی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کےلئے نئے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے ۔ اگر کالاباغ ڈیم یا بھاشا ڈیم نہ بنایا گیا تو پاکستان پانی کی قلت کے مسئلے سے دوچار ہوجائے گا ۔ آبی وسائل کی ترقیاتی کونسل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر فوری طور پرڈیموں کی تعمیر شروع نہ ہوئی تو ملک کو آگے چل کر بجلی اور پانی کے زبردست بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔ بھاشا ڈیم کا محل وقوع تربیلا ڈیم کے شمال میں دو سو میل پر ہے ۔ دریائے سندھ کو صرف برفباری کے ذریعے 50;776570; یعنی کروڑ ایکڑ فٹ پانی کی سالانہ دستیابی ہوتی ہے یہاں پر مون سون برسات کی پہنچ نہیں ہوتی ۔ ڈیم کے ڈیزائن اور پیرا میٹر جو ماضی میں استعمال کئے گئے تھے انہیں مخصوص وجوہ کی بنا پر از سرنو تبدیل کر دیا گیا مثلاً اب ڈیم کی اونچائی 908 فٹ ہے پہلے یہ 680 فٹ تھی ۔ قابل استعمال ذخیرہ ;776570; 7;46;34 یعنی 73 اعشاریہ 4 لاکھ ایکڑ فٹ کی بجائے 5;46;7;776570; یعنی 57 لاکھ ایکڑ فٹ مکمل کرنے کی مدت سات سال کی بجائے دس سال کردی گئی ہے ۔ بجلی بنانے کی قوت 3360 ;7787; یعنی 3 ہزار 3 سو 60 میگا واٹ ہے ۔ بھاشا کنکریٹ گریویٹی ڈیم جس کی اونچائی 908 فٹ ہوگی جو ماڈرن ٹیکنالوجی کے مطابق ہوگا ۔ اس وقت پنجاب سندھ اور بلوچستان تینوں صوبے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں ۔ جبکہ زراعت کےلئے پورا ملک پانی کی قلت کا شکار ہے اور ہماری آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کے مطا بق اگر ہم نے اب بھی نئے آبی ذخائر بنانے کی جانب توجہ نہ کی تو آنے والے چند برسوں میں ملک قحط کا شکار ہوجائے گا اور زمینیں بنجر ہوجائیں گی ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے پانی کا بحران دور کرنے کے بجائے بڑے ڈیم کی تعمیر جیسے فنی اور آبی مسئلہ کو ایک سیاسی ایشو بنا دیا ہے ۔ حالانکہ ہم بجلی اور پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں ۔ پانی اور بجلی کی فراہمی ہماری قومی ترقی و خوشحالی کےلئے سب سے زیادہ اہم ہے مگر ہم بذات خود اپنی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری یہ قومی بے حسی اور مجرمانہ غفلت دور کرے اور ہ میں صراط مستقیم پر چلنے اور قومی ترقی کےلئے اپنی ترجیحات کا صحیح تعین کرنے کی ہمت اور توفیق عطا کرے ۔ اب ڈیموں کی تعمیر میں مزید تاخیر کی قطعاً گنجائش نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں