Home » کالم » اداریہ » پاکستانی روپے کی مسلسل بے قدری
adaria

پاکستانی روپے کی مسلسل بے قدری

تباہ حال معیشت میں پاکستانی کرنسی کو اور ایک جھٹکا لگا ہے.پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر 5روپے 90پیسے گرنے سے ڈالر 121روپے 50پیسے کا ہوگیا ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں یکلخت اتنے بڑے اضافے سے اب تک ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔نگران حکومت کے اس اقدام سے پاکستان کے بیرونی قرضوں کا حجم روپے میں بڑھتا جارہا ہے، پیرکو ڈالر کے تازہ جھٹکے نے قرض کا بوجھ مزید 450ارب روپے سے زائد بڑھا دیا ہے، جس کو مزید نئے قرض لے کر ہی پورا کیا جائے گا.نئے قرضے لینے کا بوجھ بھی لا محالہ عوام پر ہی آئے گا۔دسمبر 2017 سے اب تک روپے کی قدر میں 14 فیصد تک کمی آئی چکی ہے جو خطرناک رجحان ہے۔ماہرین کے مطابق انٹر بینک کی سطح پر ڈالر اور دیگر اہم غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں اچانک اضافے سے اوپن مارکیٹ میں بھی زبردست بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیداہوگیا ہے۔6 ماہ میں ڈالر 15 روپے 46 پیسے مہنگا ہوا ہے.روپے کی قدر میں گراوٹ ملک کی معیشت میں تیزی سے کم ہوتے غیر ملکی زر مبادلہ اور مالی خسارے میں اضافہ ظاہر کرتا ہے.جس کی وجہ سے 2013 کے بعد دوسری مرتبہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑسکتا ہے۔جبکہ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے پاس جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔عالمی بینک کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کے آئندہ مالی سال کے دوران شرح نمو پانچ فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے اور معیشت میں سست روی کے باعث پاکستان کو آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ بیرونی ادائیگیاں اور کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر بنے ہیں، ماہانہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں زرمبادلہ ذخائرکو کم کررہی ہیں، جنہیں کم از کم 3ماہ کی درآمدات کے مساوی رکھنا ضروری ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی کا طوفان آئے گا پیٹرولیم مصنوعات سمیت بیشتر اشیا مہنگی ہو نگی۔پاکستانی معیشت کو اندرونی اور بیرونی خدشات کا سامنا ہے اور اسی خدشے کے پیش نظر شرح نمو میں کمی متوقع ہے۔ اگر ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی طور پر روپے کی قدر میں گراوٹ پر انحصار کیا گیا ہے تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے. پاکستانی معیشت میں رواں سال شرح نمو کا حدف 6 فیصد رکھا گیا ہے جو بظاہر تیزی سے بڑھنے کی شرح ہے تاہم بڑھتے ہوئے خسارے نے خدشات میں اضافہ کردیا ہے جو پہلے ہی 14 ارب ڈالر ہے۔گزشتہ 5 سالوں میں پاکستانی معیشت پر قیامت سی گزری ہے۔سرکاری اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو ملا مگر ٹیکسوں کی وصولی میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔ بجلی اور گیس کی قلت اس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا جس سے ایکسپورٹ پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔اس وقت پاکستان میں وہ تمام ادارے خسارے میں ہیں ، جنہیں پاکستان کی معیشت کو چلانا تھا ۔اداروں کی بد حالی کا اندازہ شاہد خاقان عباسی کی سابق حکومت کے مشیر برائے اقتصادی امور مفتاح اسماعیل کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے جب انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ پی آئی اے کا قرضہ جو شخص ادا کر دے گا ، اسے پاکستان اسٹیل ملز مفت دے دی جائیگی ۔ اسی طرح بے شمار ادارے ایسے ہیں جنہیں سالانہ اربوں روپے کی سبسڈیز پر زندہ رکھا گیا ۔ دوسری طرف پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے قرضے لینے کے علاوہ کوئی دوسرا کام ہی نہیں کیا ۔ 2013 میں پاکستان کے کل اندرونی اور بیرونی قرضے 16338 ارب روپے تھے جبکہ پی ایم لیگ این کی حکومت نے پانچ سال کے دوران 10ہزار ارب سے زیادہ قرضیلئے ہیں اور اب قرضوں کا مجموعی حجم 26500 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ پاکستانی معیشت اب مکمل طور پر قرضوں پر انحصار کر رہی ہے ۔ قرض کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ اوسطاً ہر سال 12ارب ڈالرز قرضوں اور سود کی مد میں ہمیں ادا کرنے پڑتے ہیں ۔ یہ قرضے پاکستان کی معاشی ترقی کو نگل رہے ہیں ۔ قرضوں کے ساتھ ساتھ تجارتی اور مالی خسارے میں بھی خوف ناک اضافہ ہو رہا ہے جسکے عام آدمی کی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ غربت میں خوف ناک اضافہ ہو گیا ہے ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے تباہ حالی کا شکار ہیں ۔ معیشت کی بد سے بدتر ہوتی ہوئی صورت حال کے باعث ہر شعبہ تباہی کا شکار ہے ۔
عید سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا تحفہ
نگراں حکومت نے بھی آتے ہی پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ کر کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ اسے بھی عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔حکومت نے عیدالفطر سے قبل پیٹرول بم گراتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 4 روپے 26 پیسے اضافے کے بعد 91 روپے 96 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے14پیسے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد نئی قیمت 74 روپے 99 پیسے ہو گئی ہے۔ مٹی کا تیل 4 روپے 46 پیسے اضافے کے بعد 84 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 55 پیسیکا اضافہ کردیا گیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 105روپے 31 پیسے ہوگئی ہے۔ دوسری جانب ایف بی آر نے بھی پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ پیٹرول پر سیلز ٹیکس کی شرح 7 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد مقرر کردی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد، مٹی کے تیل پر سیلز ٹیکس کی شرح 7 فیصد سے بڑھا کر 12 اور لائٹ ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 1 فیصد سے بڑھا کر 9 فیصد مقرر کردی گئی ہے۔ایک ایسے موقع پر جب ٹرانسپورٹ مافیا عید پر مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے انہیں مزید کھال ادھیڑنے کا آسان جواز فراہم کر دیا گیا ہے۔ماہ رمضان میں تاجروں کے ہاتھوں لٹنے والی بے بس عوام پہلے حکومت کے حق میں کلمہ خیر کہنے کو تیار نہیں تھی اب اسے بددعائیں دینے پر مجبور ہے۔دوسری طرف اگر عالمی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس سے ایسا کو تاثر نہیں ملتا کہ یہ بھاری بھر کم اضافہ نا گزیر تھا۔

About Admin

Google Analytics Alternative