Home » کالم » پاکستان اورآئی ایم ایف کے مابین معاہدہ طے پاگیا
adaria

پاکستان اورآئی ایم ایف کے مابین معاہدہ طے پاگیا

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عمران خان کی قیادت میں معاشی حالات پرقابوپاناشروع کردیا ہے ، کپتان کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ جو بھی کام کرتاہے عزم مصمم سے کرتا ہے اور آخر کار کامیابی کی منزل اس کے قدم چوم لیتی ہے، گوکہ حکومت آنے سے قبل پی ٹی آئی نے کہاتھاکہ وہ کسی صورت بھی آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی لیکن جانے والی حکومت نے قومی خزانے کو اس کوبری طرح خالی کیاکہ کپتان کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ، گوکہ آئی ایم ایف نے جو سٹاف لیول پر قرضہ دینے کی شرائط عائد کی تھیں وہ جب وزیراعظم عمران خان کے پاس گئیں تو انہوں نے اس شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ عالمی مالیاتی فنڈ کو مزید مراعات دینے پررضامندکیاجائے اس کے بعد دودن مزیدمذاکرات چلتے رہے اورآخری یہ حتمی مراحل میں داخل ہوگئے اور کامیابی کے بعد آئی ایم ایف نے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ۔ جس کے مطابق پاکستان کو 6 ارب ڈالر 39 ماہ میں قسطوں میں جاری کیے جائیں گے ۔ اعلامیے میں کہا گیاکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کے طے کرنے سے مالی شعبے میں بہتری آئیگی ۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری قائم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک غریبوں پر اثر انداز مہنگائی کم کرنے پر توجہ دیگا، اسٹیٹ بینک کو پاکستان کے مالی استحکام پر توجہ دینا ہوگی، مارکیٹ کی جانب سے شرح تبادلہ کے تعین سے مالی شعبہ میں بہتری آئیگی اور معیشت کیلئے بہتر وسائل مختص ہوسکیں گے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان آئندہ 3 سالوں میں پبلک فنانسگ کی صورتحال میں بہتری اور انتظامی اصلاحات سے ٹیکس پالیسی کے ذریعے قرضوں میں کمی لائیگا، حکومتی اداروں اور شعبہ توانائی میں خرچے کم کرنے سے وسائل و مالی خسارہ کم ہوگا ۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ٹیکسوں کا بوجھ تمام شعبوں پر یکساں لاگو ہوگا ۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ حکومت غریبوں کی مدد کے پروگرام بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اضافہ کر سکتی ہے جبکہ سبسڈی کا نظام صرف غریبوں تک محدود کرنا ہو گا ۔ اعلامیہ کے مطابق مالیاتی شعبے کی بہتری کیلئے مارکیٹ کی طرف سے تعین کردہ ایکسچینج ریٹ طریقہ کار اپنایا جائیگا ۔ اعلامیہ کے مطابق ملک میں معاشی ترقی کیلئے ایک ڈھانچاتی اصلاحات پروگرام پر اتفاق کیا گیا ہے ،پروگرام کی ترجیحات سرکاری اداروں کی انتظامی کارکردگی بہتر بنانے، اداروں کی گورننس بہتر بنانے، انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا خاتمہ کرنا اور تجارت کے فروغ کیلئے اقدامات کرنا ہے ۔ مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا ہے ۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے شرائط میں نرمی کرنے کے لئے کہا لیکن آئی ایم ایف نے انکار کردیا، وزیراعظم نے آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کاسٹاف لیول معاہدے کا مسودہ مسترد کردیا تھا لیکن گزشتہ روز آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ میں بریک تھرو ہوا ، مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں کچھ اضافہ کرنا پڑے گا 75فیصد صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا، غریب عوام کے لئے شروع کئے گئے پروگراموں کے لئے بجٹ میں 180ارب روپے رکھے جا رہے ہیں ۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ملک کی معاشی حالت خراب ہوئی ہ میں اپنی چادر کے مطابق اخراجات کرنے کے لئے کہا ہے، ہم آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل درآمد کرنا چاہتے ہیں ، گزشتہ حکومتوں کے ;200;ئی ایم ایف پروگرامز میں نقص تھا،;200;ئی ایم ایف سے اس سے قبل کے پروگراموں میں اسٹرکچرل ریفارمز نہیں کی گئی تھیں ۔ پاکستان کو پائیدار خوشحالی کی طرف لیکر جانا چاہتے ہیں تو اسٹرکچر تبدیلی کرنا ہوگی ۔ گوکہ عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالرملیں گے تاہم حکومت کو چاہیے کہ اس مہنگائی کے دور میں وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرے اور ایسے پیکج متعارف کرائے جن کی وجہ سے آسانی سے عوام ٹیکس نیٹ میں آسکے،مشیرخزانہ نے تو کہہ دیاہے کہ وہ ٹیکس دینے والے کی عزت کریں گے اورمزید ٹیکس نیٹ میں اضافہ کریں گے ۔

دہشتگردوں کے مذموم عزائم پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے

وزیراعظم عمران خان نے گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے پاکستانی قوم اور اس کی سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کریں گی، بلوچستان میں دہشت گردوں کے حملوں کا مقصد ملک کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، ملک میں اس طرح کے ایجنڈے کی تکمیل کسی صورت میں نہیں ہونے دیں گے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسی کارروائیاں پاکستان کی خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں ۔ کسی صورت ایسے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیاجا ئے گا ۔ پاکستان کے امن و ترقی کے دشمن اپنے مذموم عزائم میں ناکام اور نامراد رہیں گے ۔ دوسری جانب ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ماءوں کے عالمی دن پر شہدا کی ما ءو ں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وطن پر بیٹے قربان کرنے کا حوصلہ رکھنے والی مائیں موجود ہیں ، اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔ آرمی چیف نے کہا کہ ان ماءوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنکی قربانی کی بدولت ہم ;200;ج اس مقام تک پہنچے ہیں ۔ جب تک بہادر سپوتوں کی مائیں موجود ہیں ، کوئی ہ میں شکست نہیں دے سکتا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی ماءوں کے نام سوشل میڈیا پیغام جاری کیا گیا جس میں انھوں نے تمام ماءوں خصوصا شہدا کی ماءوں کو سلام پیش کیا ہے ۔ ماں پیار، خیال، حفاظت اور بے لوث ہونے جیسے لافانی احساسات کا نام ہے ۔ ماں صرف رشتے کا نام نہیں ، ایسا ہوتا تو ان کے جانے سے یہ رشتہ ختم ہو جاتا ۔ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے، کچھ منفی عناصر بلوچستان کے حالات کو خراب کرنے پر عمل پیرا ہیں ، دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی بھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ گوادر کے ہوٹل پر حملے کا مقصد سی پیک منصوبے کو ناکام بنا نا ہے، مگر سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارتی را اور افغان این ڈی ایس کا گٹھ جوڑ ہے ۔ بھارتی ایجنسی را ہمیشہ بی ایل اے کا ماسٹر مائنڈ رہی ہے ۔ وزیراعظم مودی پہلے ہی بلوچستان میں دہشت گردوں کی معاونت کا سرعام اقرار کر چکا ہے ۔ بھارت ہمسایہ ممالک میں امن خراب کرنے میں ملوث ہے ۔ بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان کی این ڈی ایس بھی پاکستان میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث ہوجاتی ہے جبکہ پاکستان نے اعادہ کیاہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative