Home » کالم » پاکستان اوریو اے ای کے مابین معاہدے اورمشترکہ اعلامیہ
adaria

پاکستان اوریو اے ای کے مابین معاہدے اورمشترکہ اعلامیہ

adaria

وزیراعظم پاکستان عمران خان کاسعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی بارآورثابت ہونے جارہا ہے ،یواے ای اور پاکستان کے مابین سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق کیاگیا ہے یہ ایک خوش آئند بات ہے کیونکہ سو روزہ پلان بھی تقریباً ختم ہونے کے عنقریب ہے اور وزیراعظم اس حوالے سے وطن واپسی پر خطاب بھی کریں گے اور عوام کے سامنے ان سودنوں کے دوران حکومتی کارکردگی سامنے رکھیں گے کہ جو وقت دیاگیاتھا اس میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کیاکھویا اور کیاپایا۔ یو اے ای کادورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ابوظہبی ولی عہد شیخ محمد زید بن سلطان النیہان سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کو طویل مدت سٹرٹیجک اور اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق کیا ، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ علاقائی اور عالمی معاملات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ تاریخی شراکت داری کو فروغ دینے کیلئے فوری اقدامات پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم سے بھی ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری اعلامیہ کے مطابق تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ یو اے ای کے اعلیٰ سطح اقتصادی وفد کے دورہ پاکستان کے نتائج پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے مشترکہ وزارتی کمیشن کا اجلاس آئندہ سال فروری میں ہوگا۔ دونوں رہنماؤں نے زیر غور معاہدوں کو جلد حتمی شکل دینے کیلئے مشاورت پر اتفاق کیا۔ دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون پر بھی اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے تربیت، مشترکہ مشقوں اور دفاعی پیداوار میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا۔رواداری، عدم مداخلت سے پائیدار امن و استحکام ممکن ہے۔ یو اے ای کے ولی عہد نے انسداد دہشت گردی کیلئے پاکستان کی قربانیاں اور کاوشیں قابل تحسین قرار دیں۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی یو اے ای کے بانی کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔ عمران خان نے پولیو کے خاتمے میں یو اے ای کے تعاون کو سراہا اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے سے بھی آگاہ کیا۔ پاکستان ایکسپو 2020میں بھرپور شرکت کرے گا۔ وزیراعظم نے شیخ محمد بن زید النیہان کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے شیخ محمد نے شکریہ کے ساتھ قبول کرلیا۔ ملاقاتوں میں وزیر اعظم کے ہمراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر خزانہ اسد عمر، وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور، وزیر برائے توانائی اور مشیر تجارت جبکہ یو اے ای میں پہلے سے موجود وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود بھی شامل تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے تحت نہ صرف پاکستان کی معیشت بہتر ہوگی بلکہ دیگرسیکٹرز میں بھی ترقی اورخوشحالی آئے گی۔پولیو کے حوالے سے ہونیوالامعاہدہ بھی انتہائی اہمیت کاحامل ہے نیز توانائی ،زراعت ،انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون، وائٹ کالرکرائم اور منی لانڈرنگ روکنے کے حوالے سے بھی اتفاق کیاگیا ہے چونکہ اس وقت حکومت پاکستان کی سب سے اہم منزل کرپشن کو روکنا ہے اور کرپشن میں منی لانڈرنگ اہمیت کی حامل ہے جب منی لانڈرنگ کو روک لیاجائے گا تو کرپشن کرنے والے افراد کم ازکم پاکستان کے خزانے سے لوٹی ہوئی رقم باہرنہیں لے جاسکیں گے اور جو رقم باہر ترسیل ہوچکی ہے اس کی واپسی بھی یقینی ہوجائے گی۔حکومت کو چاہیے کہ خصوصی طورپر منی لانڈرنگ اور اس میں ملوث ملزمان کے تبادلے کے حوالے سے بھی دیگرملکوں سے مزیدمعاہدے کرے۔

ٹرمپ ہرزہ سرائی۔۔۔حکومت دوٹوک موقف اختیارکرے
افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ افغانیوں نے کبھی بھی اپنے سرپرسردار کو برداشت نہیں کیا ،امریکہ سے قبل روس بھی اس خطے پر حملہ آورکی صورت میں اترا تھا اور آخر میں اس کانتیجہ یہ نکلا کہ دنیا کی سپرپاور کہلانے والا جب افغانستان سے واپس ہوا تو وہ شکست وریخت کا شکار ہوچکا تھا اس کے بعد امریکہ نے افغانستان میں قدم رکھا مگر تاحال اسے قابل ذکرکامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور اب اس کامسئلہ اس طرح ہے کہ وہ کمبل کو چھوڑناچاہتاہے لیکن کمبل اس کو نہیں چھوڑ رہا اپنی ناکامیوں کاملبہ وہ پاکستان پر ڈالناچاہتا ہے اور ٹرمپ کی پالیسیاں تو روز اول سے ہی مسلمانوں کے خلاف رہی ہیں ۔حالیہ فاکس نیوز کو دیاجانے والاٹرمپ کاانٹرویو قطعی طورپر واضح کرتا ہے کہ امریکی صدر کس قدر پاکستان کے خلاف ہے ۔بین الاقوامی برادری اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں مگر امریکی صد رکی جانب سے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی ناقابل فہم ہے مگر ایک بات یہ طے کہ امریکہ کبھی بھی پاکستان کاایک بااعتماد دوست ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کبھی ہوسکے گا اسی وجہ سے ٹرمپ نے ایک بار پھر دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہمارے لئے کچھ نہیں کرتا ۔صدر ٹرمپ نے اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن چینل فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں رکھا ہوا تھا۔انھوں نے کہا پاکستان میں ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہ (اسامہ بن لادن) ایبٹ آباد میں اکیڈمی کے قریب رہتے ہیں۔ اور ہم انھیں 1.3 ارب ڈالر سالانہ امداد دے رہے ہیں۔ ہم اب یہ امداد نہیں دے رہے۔ میں نے یہ بند کر دی تھی کیوں کہ وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے۔یہاں ٹرمپ کو آئینہ دیکھنا ہوگا تاکہ اس کو اپناچہرہ خودنظرآسکے کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف کتنی زیادہ قربانیاں دی ہیں ۔نیز پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام کو ترجیح دی ہے اور پوری دنیا اس بات کی معترف ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کاموقف ہمیشہ بہترین رہا ہے بعض اوقات امریکہ کی جانب سے بھی پاکستانی اقدامات کو سراہاگیا لیکن ٹرمپ کی جانب سے کبھی بھی ٹھنڈی ہوا کاجھونکانہیں آیا۔جب بھی موقع ملا ٹرمپ نے صرف پاکستان ہی نہیں پوری امت مسلمہ کے خلاف کسی نہ کسی صورت میں آوازاٹھائی ۔چونکہ امریکہ یہ جانتا ہے کہ وہ افغانستان میں پوری طرح پھنس چکا ہے اور وہاں پر وہ چھاپہ مار کارروائیوں کامقابلہ بھی نہیں کرسکتا ویسے بھی عملی طورپردیکھاجائے تو کابل تک ہی امریکی سرگرمیاں محدود ہیں فضائی حملے تو اس کے کامیاب جاتے ہیں لیکن جب بھی اس نے زمین پراترکرکسی بھی قسم کی مہم جوئی کرنے کی کوشش تو اسے ناکامی کاسامناکرناپڑا۔ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے خلاف دیئے جاانیوالے انٹرویوپرحکومت پاکستان کوچاہیے کہ وہ اس حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف اختیارکرے۔

About Admin

Google Analytics Alternative