66

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے باہمی تجارت اور تعاون کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں: قاسم خان سوری

پارلیمنٹ ہاؤس میں  شہزادہ تھمبوزی دیامنی کی سربراہی میں جنوبی افریقہ کے دو رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئےڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے  وفد کےممبران کومقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سےآگاہ کرتےہوئےبتایاکہ بھارت کی فاشسٹ حکومت نےبھارتی آئین سے آرٹیکل370اور35الف کو بھارتی آئین سےمنسوخ کرکےکشمیریوں کو اُن کی جائز شناخت کے حق سےمحروم کردیاہے،پوری وادی میں گذشتہ183دنوں سےتاریخ کابدترین لاک ڈاؤن جاری ہے،  پوری کشمیری قیادت جیلوں میں نظر بندہےاورکشمیری عوام کی آواز دبانے کےلئےمیڈیا پربھی پابندی عائد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی میں جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے کشمیری عوام شدید سردی کے موسم میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، 183دنوں سے جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے وادی میں خوراک، ادویات اورایندھن سمیت زندگی کی تمام بنیادی ضروریات کی شدیدقلت ہے،مسئلہ کشمیر کےحل کرنےکاواحدآپشن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ وادی میں رائے شماری ہے۔

انہوں نےمسئلہ کشمیرپرجنوبی افریقہ کےتعاون کوسراہتےہوئےکہاکہ جنوبی افریقہ کی جانب سےمسئلہ کشمیر پرحمایت ہمارےلیےانتہائی اہمیت کی حامل ہے، ڈپٹی سپیکر نے سابق صدر جنوبی افریقہ نیلسن منڈیلا کی جدوجہد آزادی کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کے دلوں میں نیلسن منڈیلا کے لئے بے حد احترام ہے جو بیسویں صدی کے ایک عظیم ترین سیاستدان تھے اور جنہوں نے افریقی براعظم میں جمہوری اقدار کے کے فروغ کے لیے قید و بند کی صعبتیں جھلیں۔ڈپٹی سپیکر نے پارلیمانی اور اقتصادی رابطوں میں اضافہ کے ذریعے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے سرمایہ کاروں موجودہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں سے مستفید ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین تجارت کا حجم نسبتا کم ہے جسے وسعت دینے کی وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں