79

پاکستان اور ملائیشیا کے وزراء اعظم کا دونوں ممالک کے درمیان تذویراتی شراکت داری کے دوطرفہ تعاون کو نئی سطح تک لے جانے پر اتفاق کرتے ہوئے کشمیر فلسطین اور روہنگیا کے تنازعات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق حل کی ضرورت پر زور

پاکستان اور ملائیشیا کے وزرااعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تذویراتی شراکت داری کے دوطرفہ تعاون کو نئی سطح تک لے جانے پر اتفاق کرتے ہوئے کشمیر فلسطین اور روہنگیا کے تنازعات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق حل کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ مسلم امہ کی سماجی، سیاسی و اقتصادی صورتحال کی بہتری اور اسلام کی حقیقی اقدار کے فروغ کیلئے ترکی کے ساتھ ملکر بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، مسلم اقلیتوں کے حقوق اور اسلامو فوبیا سمیت مسلم امہ کو درپیش مشترکہ چیلنجوں کے حل کیلئے اجتماعی کاوشیں بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ملائیشیا کے صدر مہاتیر محمد کی دعوت پر ملائیشیا کے دو روزہ دورہ کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا ملائیشیا کا دوسرا سرکاری دورہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان بے مثال تذویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔ وزیراعظم کے دورہ کے موقع پر ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا اور ملائیشیا کے وزیراعظم نے پتراجایا آفس میں ان کے خیرمقدم کیا۔ دورہ کے موقع پر ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتوں میں دونوں رہنمائوں نے ملائیشیا اور پاکستان کے تذویراتی شراکت داری کی سطح پر تاریخی تعلقات پر غور کرتے ہوئے باہمی اعتماد اور گرمجوشی اور نیک خواہشات کے ساتھ مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنمائوں نے مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو نئی سطحوں پر لے جانے اور مزید بات چیت اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں نے اعلیٰ سطح پر دوطرفہ رابطوں کو باقاعدگی سے برقرار رکھنے اور ان میں تسلسل، وفود کے دوستانہ تبادلے اور تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی دوطرفہ علاقائی اور عالمی امور پر ثمر آور اور وسیع البنیاد سطح پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنمائوں نے تمام سطحوں پر باہمی تعلقات کو مزید وسعت اور گہرائی پر اتفاق کیا۔ بالخصوص 21 نومبر 2018ء اور 22 مارچ 2019ء کو مشترکہ اعلامیہ میں جن شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی تھی، ان کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں نے سیاحت کے شعبہ میں وسیع صلاحیت کے پیش نظر دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور سیاحت اور میزبانی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر زور دیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا اور پاکستان تعلیمی تعلقات کو مزید بڑھانے اور اس ضمن میں گزشتہ سال ملائیشیا کی مختلف یونیورسٹیوں کے وفود کی پاکستانی جامعات کے ساتھ ممکنہ تعاون کیلئے پاکستان کے دورے کو سراہا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چوتھی جوائنٹ کمیشن میٹنگ کے وزارتی سطح پر اسلام آباد میں انعقاد، دوطرفہ مشاورت کے دوسرے سیشن کی پتراجایا میں اعلیٰ حکام کی سطح پر انعقاد، چوتھی جوائنٹ کمیٹی میٹنگ اور دفاعی تعاون پر جوائنٹ کمیٹی کے 14 ویں اجلاس کے فوری انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔دونوں رہنمائوں نے موجودہ حالات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، تجارت اور سرمایہ کاری بالخصوص متبادل توانائی، قدرتی وسائل، ایرو سپیس و ایرو ناٹیکل، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ای کامرس کے شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے، چیمبر آف کامرس و انڈسٹری بالخصوص بزنس کونسلز کی حوصلہ افزائی، نجی سطح پر دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پی آئی اے کی اسلام آبادـکوالالمپور اور کوالالمپورـ اسلام آباد براہ راست موجودہ پروازوں کی علاوہ لاہور سے کوالالمپور کیلئے براہ راست پروازیں شروع کرنے، ملائیشیا کی ایئر لائن اسلام آبادـکوالالمپورـ اسلام آباد موجودہ روٹ کے کوڈ شیرنگ کے انتظامات پر غور، محصولات اور ٹیکسیشن میں استعمال ہونے والی تکنیکس اور آلات کے حوالہ سے تجربات کے تبادلے اور تعاون کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دورہ کے موقع پر دونوں رہنمائوں کی موجودگی میں مختلف معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے جو دونوں ممالک کے درمیان تذویراتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنائیں گے۔ دونوں رہنمائوں نے ملائیشیا میں کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں کی سوشل سیکورٹی پروٹیکشن کیلئے وزارت اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی اور ملائیشیا کی سوشل سیکورٹی آرگنائزیشن کے درمیان تعاون کی مفاہمت پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنمائوں نے سرمایہ کاری، سیاحت، زراعت، سکلز ڈویلپمنٹ اور اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مفاہمت کی یادداشتوں کو جلد حتمی شکل دینے کے عمل کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم پاکستان نے ملاجیشیا کے وزیراعظم کوالالمپور سمٹ 2019ء کے کامیاب انعقاد کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ سربراہ اجلاس معاشی تعلقات میں تبدیل ہوگا۔ ملائیشیا کے وزیراعظم نے جنوبی ایشیاء اور مغربی ایشیاء کے خطوں میں امن اور سلامتی کیلئے وزیراعظم پاکستان کے نمایاں کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کیلئے نیک خواہشات پر مبنی سفارتی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کا بھی خیرمقدم کیا جبکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی سفارشات پر پیش رفت کو بھی سراہا۔ وزیراعظم عمران خان نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے نظام کے خلاف موثر اقدامات اٹھانے اور پاکستان کی کاوشوں کو بہتر بنانے کیلئے معاونت پر ملائیشیا کے تعمیری کردار کو سراہا۔ ملائیشیا کے وزیراعظم نے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولے جانے کے اقدام کو سراہا۔ وزیراعظم پاکستان نے ملائیشیا میں بسنے والی سکھ کمیونٹی کو پاکستان میں ان کے مقدس مقامات کے دورہ کے دوران خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنمائوں نے اقوام متحدہ کے کرپشن کے خلاف کنونشن کے آٹھویں سیشن آف کانفرنس آف دی اسٹیٹ پارٹیز (سی او ایس پی) کے پاکستانی اقدام کی حالیہ متفقہ منظوری کا خیرمقدم کیا۔ اس قرارداد میں تعلقات کے فروغ میں قومی پارلیمنٹیرینز اور دیگر قانون ساز اداروں کے بدعنوانی کی تمام اقسام کے خاتمے اور روک تھام کیلئے کردار کو فروغ دینا شامل تھا۔ دو امن پسند برادر مسلم اقوام ہونے کے ناطے دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملائیشیا اور پاکستان عالمی سطح پر اسلام کی حقیقی اقدار کیلئے اجتماعی کاوشوں کو مزید بڑھائیں گے اور مسلم امہ کو درپیش چیلنجوں بالخصوص اسلامو فوبیا اور مسلم اقلیتوں کے حقوق کے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے کوششیں کریں گے۔ ملائیشیا اور پاکستان ترکی کے ساتھ ملکر جوائنٹ کمیٹی میٹنگ کے تحت تذویراتی تعاون کے وسیع شعبوں میں اقدامات اور مسلم امہ کی سماجی سیاسی اور سماجی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے اور اسلام کی حقیق اقدار کے فروغ، اسلامی ممالک کی تنظیم کو اس ضمن میں بامعنی بنانے پر اتفاق کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملائیشیا اور پاکستان فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور روہنگیا کے تنازعات کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق حل کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم پاکستان نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات، لاک ڈائون، کمیونیکیشن کے ذرائع کی معطلی، میڈیا کے بلیک آئوٹ اور غیر قانونی حراستوں کے حوالے سے آگاہ کیا جس کا کشمیری عوام کو سامنا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے وزیراعظم مہاتیر کی جانب سے جموں کشمیر کے تنازعے کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دینے اور اس صورتحال پر آواز اٹھانے پر ان کی کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم پاکستان نے دورہ کے دوران ان کے اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا بھرپور خیرمقدم کرنے پر وزیراعظم ملائیشیا اور ملائیشیا کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان 14 ماہ کے دورانیہ میں اعلیٰ قیادت کی سطح کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کو پاکستان کے دورہ کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی جس کیلئے تاریخوں کا تعین سفارتی سطح پر کیا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں