Home » کالم » پاکستان دشمن ایجنسیوں کی شرمناک ہزیمتیں

پاکستان دشمن ایجنسیوں کی شرمناک ہزیمتیں

کسی سماج یا کسی بھی معاشرے میں جب سچائی ایک پیچیدہ تصوربن جائے ہمہ وقت سننے، دیکھنے اور پڑھنے والا اِسی وہم وگمان اور تذبذب کا شکار رہے کہ جوکچھ وہ سن رہا ہے، اس بیان میں اس تحریرمیں یا اس تصویری چمک دمک کی خبروں میں اسے فریب تو نہیں دیا جا رہا، یا اِس میں لیپا پوتی کی لغوبیانی تو نہیں کی جا رہی ہے’دھوکہ تو نہیں دیا جارہا ہے’جھوٹ تو نہیں بولا جارہا ہے’ایسے معاشروں میں عموماً سچ اور جھوٹ باہم گڈمڈ ہوجاتے ہیں اور معاشرے کا ایک بڑاحصہ سچائی کی تہہ تک پہنچنے میں ناکام ہی رہتا ہے’لاکھ کوشش اورتگ و دو کے باوجود حقائق کا دوردور تک نام و نشان دکھائی نہیں دیتا، بقول ونسٹن چرچل کے کچھ ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے انہوں نے 8 فروری 1920 کو’الیسٹریٹیڈ سنڈے ہیرالڈ ہیرالڈ’کو بیان دیتے ہوئے کہاتھا کہ’ جھوٹوں اور ورغلانے والوں کی ہمیشہ ایک طویل تاریخ رہی ہے’ مطلب یہ جیسا کبھی ہنگری کا بیلاگون’ہوا کرتا تھا، جرمنی کا روسہ ہے’اور امریکا کا ایماگولڈ بھی اِسی فہرست میں شامل ہے جوعالمگیر بدنامِ زمانہ بہیمانہ سازشوں کے سرخیل ہیں جن کا مقصد انسانیت کی تذلیل کرنا’امن کوتہہ وبالا تباہ کرنا’ تہذیب کو نابود کرنا اورمعاشرے پرآکٹوپس کی مانند اپنے پنجے گاڑنا اوراپنے خبثِ باطن اوراپنی کینہ پروری کے مکروہ مقاصد تک ہر قیمت پر پہنچنے کے اپنے صبح وشام ایک کردینا ہی ان کی زندگی کا واحد مقصد باقی ہوتا ہے’مسٹرچرچل نے اشارہ بھی دیا تھا کہ ایسی قومیں اورممالک تاریخ میں کبھی نہ کبھی عبرت کا عنوان ضرور بن جاتی ہیں قارئین کے زیرِنظرکالم میں’سچائی اور حقائق’ پرمختصر سی تمہیدی گفتگو کے سہارے راقم کہنا یہ چاہ رہا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم میں ہٹلرنے جیسے جھوٹ اور سراسر جھوٹے لغو بیانات کی تشہیر کے شورشرابے میں اپنی طالع آزمائی کی شیطانی خواہشات کی جنونیت میں لاکھوں افراد کو موت کی سلگتی بھٹی کی نذرکردیا تھا، جنوبی ایشیا میں آج نریندرا مودی کی قیادت میں بھارت بھی کچھ ایسی ہی استبدادی گمراہی کی راہ پر چل نکلا ہے، نئی دہلی کی جنونی سراسیمگی ہٹلرنما فکری و ذہنی پراگندگی کا ذرا اندازہ تو لگائیے وہاں ایسی کون سی افتاد آن پڑی ہے انہیں کوئی کام نہیں ہے ہمہ وقت نئی دہلی کیوں اِسی فکر میں گھلی رہتی ہے مثلا اگر پاکستانی فوج کے چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اورپاکستانی قومی سلامتی امور کے مشیرجنرل ریٹائرڈ ناصرخان جنجوعہ روس کا دورہ کرلیں تونئی دہلی والے کیوں ازخود یہ نتیجہ اخذکرلیتے ہیں کہ پاکستانی آرمی چیف اور روسی ملٹری حکام نئی دہلی کے خلاف کوئی منصوبہ بندی کررہے ہیں ؟پاکستان کے اپنے سفارتی مفادات کے مقاصد ہیں، روس دنیا کا سپرپاور ملک ہے، جیسا امریکا ہے، روس بھارت تعلقات ماضی میں کتنے قریب رہے، پاکستان نے کبھی اعتراض کیا؟آج ہم ماضی کی تلخیوں میں نہیں جا رہے ورنہ پاکستان کیا کیا نہیں جانتا؟ زمانہ بدل چکا ہے، پاکستان کے خلاف بھارت کو ماضی کے خبثِ باطن اورسفارتی کینہ پروری کے بغض و عناد سے بازآ جانا چاہئے، نئی دہلی کو اِس سلسلے میں علاقائی امن کو یقینی بنانے کی کوششیں کر نی چاہئیں، ناکہ پاکستان کے ساتھ اپنی دشمنیوں میں وہ مزید اضافہ کرئے ،نئی دہلی کی سرپرستی میں دیش کی ثقافتی وسماجی یا معاشرتی اقتصادی پہلووں پرکہیں کوئی بحث ہو رہی ہویا کہیں کوئی دفاعی مباحثہ ہو رہا ہو پاکستان کوبلاوجہ اپنی بحثوں اوراپنے مباحثوں کا وہ حصہ بنالیتے ہیں یہ ان کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہوتی ہے جو بھارتی خفیہ ادارے ‘را’ کے پبلشنگ شعبہ کی کارستانی ہے پاکستان دشمن سازش کاروں نے اپنے اندرکے بدترین تعصب و عناد کو پروان چڑھانے جیسے جذبات کو پھیلانے کے لئے دنیا میں پاکستان کے خلاف معاندانہ اورگمراہ کن ماحول پیدا کرنے کی خاطر چین اور روس سے نام نہاد مہلک ہتھیاروں کی ڈیل’جیسی من گھڑت اسٹوریاں اپنے حمائتی میڈیا پر پھیلانے کا ایک سازشی سلسلہ شروع کر رکھا ہے ‘پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں’10 مئی 2018 کو’را’ کے پبلشنگ شعبے نے اِس عنوان سے ایسی ہی ایک اسٹوری گھڑی لی’جس کی کوئی ٹھوس اورموثرشہادت اپنے میگزین کے آرٹیکل میں شائع کرنے سے’را’ بالکل تہی دست نظرآئی ہے’سوائے اِس کے اس کو اتنا ضرور یاد رہا کہ وہ اپنے اِس کمزوراورناقص نکتہِ نظر کو امریکی صدرٹرمپ کے جنوبی ایشیا کے حوالے سے دیئے گئے متنازعہ پالیسی بیان کی بیساکھیوں پر سہارہ دے لے وہ سمجھ رہے تھے شائد یوں ان کی اِس بات میں کوئی ‘دلیلی وزن’پیدا ہوجائے گا’ مکھی پرمکھی مارنے’کی کہاوت ‘را’ کے مفت بروں پر عین صادق آتی ہے، ٹرمپ جیسوں کی گیدڑبھبھکیوں سے پاکستان مرعوب ہونے والا نہیں ہے اب تک نئی دہلی کوسمجھ نہیں آئی ہے، اگر یونہی بھارتی پالیسی ساز’را’ پربھروسہ کرتے ر ہے ا ور’را’ماضی کی تاریخ سازغلطیاں دھراتی رہی تو یقین کیجئے بھارت کی مجموعی سلامتی کوکہیں باہرسے نہیں بلکہ بھارت کے اندرہی سے کئی اقسام کے سنگین خطرات گھیرتے رہیں گے’چین اور پاکستان کے مابین تیزی سے پروان چڑھتے ہوئے اقتصادی راہداری کے منصوبے نے روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے علاوہ مغربی دنیا کو بھی اب اپنے متوقع پرکشش ترقیاتی تقاضوں کی جانب متوجہ کرنا شروع کردیا ہے، یقیناً’را’کیلئے یہ مقام سنگین تشویش کا باعث ہوگا مگر وہ اپنا مذمو م کام جاری رکھے جبکہ پاکستانی افواج اور پاکستان کی سپریم خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سیسہ پلائی دیوار کی مانند موجودہ دورکے جدید ترین معاشی و اقتصادی چیلنجز کا گہرافہم وادراک رکھتے ہوئے پاکستانی قوم کی وحدت اور ناقابلِ تسخیرایکتائی کو قائم رکھنے کیلئے ‘را موساد سمیت سی آئی اے’ کی آزمودہ سازشوں کو اپنی مانی ہوئی پیشہ ورانہ مہارت سے اورصلاحیتوں سے اپنی شاندار اورتاریخ سازعالمی سطح پرتسلیم شدہ کارکردگیوں کو بروئےِ کار لاکر انہیں پے درپے ناکام بنا نے میں جیسے کل منہمک تھی آج بھی ویسے ہی مصروفِ عمل ہے اور مستقبل میں بھی افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی بھارتی خوابوں کو کبھی بھی بارآور ہونے نہیں دیں گے۔

About Admin

Google Analytics Alternative