PSL 2

پاکستان سپر لیگ میں شرکت کیلیے غیرملکی کرکٹرز سر گرم

کراچی:  پاکستان سپر لیگ میں شرکت سے قبل غیرملکی کرکٹرز نے ایسوسی ایشن سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد کے نام سے5ٹیمیں آئندہ برس 4 سے 24 فروری تک دوحا، قطر میں پی ایس ایل کے دوران ایکشن میں نظر آئیں گی، ایک ملین ڈالر انعامی رقم کے ایونٹ میں پی سی بی کا دعویٰ ہے کہ 40 انٹرنیشنل کرکٹرز شرکت کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایونٹ کے حوالے سے فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن (فیکا) کے ایگزیکٹیو چیئرمین ٹونی آئرش نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے،کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ سے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ بعض ممبر کرکٹرز نے پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے ہم سے معلومات طلب کی ہیں البتہ ان کے نام نہیں بتا سکتا،ٹونی آئرش نے کہا کہ فیکا پی ایس ایل سمیت کسی بھی ٹوئنٹی 20 لیگ میں پلیئرز کو شرکت کا موقع ملنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ البتہ بعض معاملات پر عمل درآمد ضروری ہے، ایک تو ایونٹ آئی سی سی سے منظور شدہ ہو، سیکیورٹی معاملات کے لحاظ سے کھلاڑیوں کی اس میں شرکت درست ہو،کھیل کا وقار برقرار رکھنے کے سلسلے میں اینٹی کرپشن اور ڈوپنگ کوڈز کا مکمل اطلاق کیا ہو، منفی عناصر سے بچنے کیلیے اینٹی کرپشن یونٹ کا تقرر بھی ضروری ہے۔ اسی کے ساتھ پلیئرز کے ساتھ درست اور منصفانہ معاہدے کیے جائیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارا اپنے رکن ارکان کو یہی مشورہ ہوگا کہ اگر ان تمام باتوں پر عمل درآمد کیا جائے تو ضرور پی ایس ایل میں شرکت کریں، ساتھ ان کے اپنے ملک کی کرکٹ بورڈ کا این او سی بھی ضروری ہوگا۔ یاد رہے کہ1998میں قائم شدہ فیکا دنیا بھر کے کرکٹرز کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے،آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ،سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی پلیئرز ایسوسی ایشنز اس کی رکن ہیں،بنگلہ دیشی کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا بھی فیکا سے اطلاق ہے، ٹیسٹ ممالک میں صرف پاکستان، بھارت اور زمبابوے اس کے رکن نہیں ہیں۔ ایک سوال پر ٹونی آئرش نے کہا کہ ماضی میں بعض ٹی ٹوئنٹی لیگز کے دوران کھلاڑیوں کو معاوضوں کے معاملے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اسی لیے ہم تمام ایسے ایونٹس کے منتظمین کو معاہدے میں یہ شق رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ فیس کا کچھ حصہ لیگ شروع ہونے سے قبل ادا کر دیا جائے گا۔ہم کھلاڑیوں سے بھی کہتے ہیں کہ اس بات پر اصرار کریں۔ بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیشی لیگز کے فکسنگ سے متاثر ہونے کے بعد فیکا چیف نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ سخت اینٹی کرپشن کوڈ کا اطلاق کریں، ایونٹ ہر حالت میں اینٹی کرپشن یونٹ کی زیرنگرانی کرایا جائے جو آئی سی سی کا ہو یا کونسل اسے جانچ چکی ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں