15

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی؛ ڈیرن سیمی حصہ بننے پر نہال

موہالی: لاہور میں پی ایس ایل فائنل کھیلنے پر سابق ویسٹ انڈین کپتان ڈیرن بدستور نہال ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کا چھوٹا سا حصہ بننے پر بھی مطمئن ہوں۔

ڈیرن سیمی کی قیادت میں پشاور زلمی نے پاکستان سپر لیگ کا چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا، وہ ان چند کھلاڑیوں میں سے ایک تھے جنھوں نے سیکیورٹی خدشات کی پروا نہ کرتے ہوئے لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلے اور اسی وجہ سے انھیں یہاں پر کافی پذیرائی بھی حاصل ہوئی تھی۔ وہ ابھی تک اس کو نہیں بھول پائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے چھوٹا سا حصہ ڈالنے پر کافی مطمئن ہوں۔

واضح رہے کہ ڈیرن سیمی اب ایک فری لانس کرکٹر ہیں اور دنیا بھر میں نجی لیگز کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کی قیادت میں گذشتہ برس کے آغاز پر پر ویسٹ انڈیز نے دوسری مرتبہ ورلڈ ٹوئنٹی 20 چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا تاہم اسی ایونٹ کی فاتح ٹرافی وصول کرنے کے موقع پر سیمی نے اپنے ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کی وجہ سے انھیں پھر انٹرنیشنل میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔

ڈیرن سیمی کا کہنا تھا کہ یہ کافی افسوسناک ہے کہ میرا آخری انٹرنیشنل ورلڈ ٹونئٹی 20 فائنل تھا، میں بدستور محدود اوورز کی کرکٹ کیلیے دستیاب ہوں مگر منتخب ہونے پر روتا نہیں ہوں، میں دنیا بھر میں مختلف لیگز کھیل رہا ہوں تاہم اگر ویسٹ انڈین بورڈ مجھے سلیکٹ کرتا ہے تو میں دستیاب ہوں لیکن میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو دودھ گرجانے پر رونے لگتے ہیں، میں ورلڈ ٹوئنٹی 20 جیتنے کے بعد جو کچھ کہا وہ میرے دل کی آواز تھی، میں نے وہی کہا جومجھے کہنا چاہیے تھا، اس کے بعد میں نے راتیں جاگ کر نہیں گزاریں، خدا نے مجھ پر بہت مہربانی کی ہے، وہی میرا سلیکٹر ہے، اس لیے اب جوکچھ ہوتا ہے مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں ہے، میں اب بھی ویسٹ انڈین کرکٹ کی فکر کرتا ہوں لیکن اگر وہ مجھے منتخب نہیں کرتے تو مجھے بھی کوئی پروا نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں