Home » کالم » پاکستان میں دخل اندازی پر غیر ملکی طاقتوں کو انتباہ

پاکستان میں دخل اندازی پر غیر ملکی طاقتوں کو انتباہ

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے غیرملکی ریاستوں اور انکے جاسوس اداروں کو کھلے الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ وہ بلوچستان میں دہشت گردوں کو مدد فراہم کرکے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں ترک کر دیں۔ دہشت گردوں کو کیفرکردار کو پہنچایا جائیگا اور انکے سرپرستوں‘ کمین گاہیں فراہم کرنیوالوں اور مالی مدد دینے والوں کو پاکستان میں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔بلوچستان میں بیرونی ریاستوں اور انکی ایجنسیوں کی پاکستان کی سلامتی کے منافی سرگرمیاں کوئی آج کا معاملہ نہیں‘ بدقسمتی سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کبھی مثالی نہیں رہی جو وہاں کی اب تک کی حکومتوں کی انتظامی اتھارٹی پر گرفت کمزور ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی طرح وفاق کی رقبے کے اعتبار سے بڑی اکائی ہونے کے باوجود وہاں پسماندگی اور بلوچ عوام میں بنیادی سہولتوں اور وسائل سے محرومی کے باعث پروان چڑھنے والے احساس محرومی نے بھی بلوچستان میں عدم اطمینان اور غیریقینی کی کیفیت پیدا کئے رکھی ہے اور یہی وہ ماحول ہے جس سے احساس محرومی کا شکار بلوچ عوام کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا ملک کی سلامتی کے درپے بیرونی عناصر کو موقع ملتا ہے۔ بدقسمتی سے بھٹو کی سول حکمرانی میں بھی بلوچستان کی محرومیوں کے ازالہ کی جانب کوئی توجہ نہ دی گئی اور جرنیلی آمروں ہی کی طرح ریاستی طاقت کے زور پر انکی آواز دبانے کے حربے اختیار کئے گئے جبکہ ضیاء الحق اور مشرف کی جرنیلی آمریتوں کے دوران بلوچستان میں فوجی اپریشن بھی شروع کئے گئے جس نے جلتی پر تیل ڈالا اور ناراض بلوچوں نے بلوچستان لبریشن آرمی کی شکل میں اپنی عسکری تنظیم تشکیل دے ڈالی۔ ہماری سلامتی کے درپے بھارت کو پاکستان کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایسے ہی مواقع کی تلاش رہتی ہے چنانچہ اس نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کرکے اپنی ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے سازشوں کے جال بچھانا شروع کر دیئے۔ مشرف کے فوجی اپریشن کے دوران ناراض بلوچوں نے کابل اور دوسرے ممالک میں جلاوطنی اختیار کی جن کی بھارت نے سرپرستی کرکے انکے علیحدگی کے مقاصد کو تقویت پہنچائی چنانچہ بلوچستان میں بالخصوص پنجابی آباد کاروں کی ٹارگٹ کلنگ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جبکہ بلوچستان کی حکومتیں بدامنی پر منتج ہونیوالے ایسے واقعات کے سدباب میں قطعی ناکام رہیں۔ مشرف حکومت نے بلوچستان میں امن و امان کی ذمہ داری ایف سی کے سپرد کی جس کے اقدامات سے بلوچ قوم میں مزید غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور وفاق کے ساتھ نفرتوں کی خلیج بڑھتی گئی۔ بدقسمتی سے مشرف دور کے بعد بھی سیاسی فہم و ادراک سے معاملات سلجھانے کے بجائے مشرف دور کی پالیسیاں ہی برقرار رکھی گئیں جس کے تحت لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ بھی برقرار رہا۔ بلوچستان میں نظر آنیوالی حکومتی کمزوریوں سے بھارت ہی نہیں‘ افغانستان اور ایران نے بھی فائدہ اٹھایا جس کے جاسوسی نیٹ ورک وہاں بدامنی پھیلانے کا باعث بنتے رہے ہیں جبکہ دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں میں بلوچستان کی ہزارہ کمیونٹی کو ٹارگٹ کرکے فرقہ ورانہ کشیدگی بھی بڑھائی گئی۔ اس صورتحال میں سوائے منافرت کی فضا کے بلوچستان میں اور کچھ بھی پروان چڑھتا نظر نہیں آیا۔ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے معاملہ کا نوٹس لیا‘ کوئٹہ میں بیٹھ کر مقدمات کی سماعت کی جس کے دوران ایف سی کی جانب سے پیش کی جانیوالی رپورٹوں سے مزید غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ آرمی چیف نے بلوچستان میں شورش کی پشت پناہی کرنے والی طاقتوں کو نہ صرف واضح الفاظ میں للکارا ہے بلکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والی ریاستوں اور غیر ملکی ایجنسیوں کو انتباہ بھی جاری کیا۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے دور امریکہ کے دوران بھی بلوچستان میں بھارتی در اندازوں اور بھارت نواز دہشت گردوں کے مسئلے کو اْٹھایا تھا۔ ان سے قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ میں منموہن سنگھ سے ملاقات میں بھی اس امر پر شکوہ کیا تھا کہ بھارت بلوچستان میں مسلح عسکریت پسندوں کی ہمہ جہتی مدد کر رہا ہے۔ سابق وزیر داخلہ اسمبلی کے فلور پر ایک سے زائد بار یہ کہہ چکے تھے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کی دگر گونی اور دہشت گردانہ و تخریب کارانہ کارروائیوں کے پیچھے غیر ملکی قوتوں کا ہاتھ ہے۔ تربت میں سندھی اور پنجابی 20 مزدوروں کے اذیت ناک قتل کی تحقیقات کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس واردات میں را اور اس کے گماشتے ملوث ہیں۔ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ اب آرمی چیف نے بھی انتباہ کیا ہے کہ بیرونی قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے سے باز آ جائیں۔ غیر ملکی ایجنسیاں بلوچستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں۔ بلوچستان میں غیر ملکی طاقتوں اور ایجنسیوں کی کار فرمائی کی تاریخ سے ہر باخبر اور باشعور پاکستانی آگاہ ہے۔ محب وطن بلوچ قیادت اور عوام بھی بلوچستان میں قیام امن کی دیرینہ خواہش کی تکمیل چاہتے ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی اور افغان ایجنسیوں کی مداخلت اورو ہاں افراتفری پیدا کرنے کے واقعات کے ثبوت میرظفراللہ جمالی سے اب تک کے تمام حکمرانوں کے پاس موجود ہیں جن کا گاہے بگاہے تذکرہ اور کبھی اس پر احتجاج بھی سامنے آتا رہتا ہے مگر یہ ثبوت کیا ہیں‘ بلوچ عوام کو بھی اس سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ یہ سارے ثبوت اب پارلیمنٹ کے ذریعے قوم کے سامنے لائے جائیں اور پھر عالمی اداروں کے ذریعے بھارت اور دیگر ممالک پر دباؤ بڑھایا جائے۔

About Admin

Google Analytics Alternative