Home » کالم » پاکستان میں سرمایہ کاری کی ضرورت

پاکستان میں سرمایہ کاری کی ضرورت

ہم جب کسی کو کسی چیزکےلئے مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک گھڑا گھڑایا جواب ملتا ہے یہ سب کچھ پچھلوں کا کیا دھرا ہے ۔ عوام اگر پوچھے کہ مہنگائی کیوں ہے تو جواب ملتا ہے کہ جناب پچھلی حکومت کی پالیسیاں اتنی ناقص تھیں جس کی وجہ ملک میں افراط زر اور طلب و رسد میں عدم توازن ہونے کے سبب مہنگائی ہے ۔ جناب آپ کو اسی لیے ووٹ دئیے گئے ہیں کہ آپ یہ خامیاں درست کر کے ملک کو درست سمت میں لے جائیں ۔ معاشرے کو ان ناسوروں سے نجات دلانے کیلئے ہی آپ کو ووٹ دیا گیا ہے ۔ اس کیلئے ہی اقتدار کا ہما اپ کے سر پر منڈھا گیا ہے ۔ جی جی بالکل آپ صحیح کہتے ہیں ۔ لیکن دراصل آپ سمجھتے نہیں ہیں کہ یہ کس قدر مشکل کا م ہے ۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود پچھلی حکومت کے گند کو صاف کرنے کیلئے کچھ وقت تو درکار ہے ۔ جناب اگر کوئی پالیسی غلط ہے تو اسے بدل دیا جائے ۔ پالیسی اتنی آسانی سے نہیں بدلی جا سکتی ۔ اس کے پیچھے بین الا اقوامی ہاتھ ہوتے ہیں ۔ اس کے پیچھے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے ہیں ۔ اس کے پیچھے امریکہ اور دیگر ممالک کے مفادات اور یہودیوں کی سازشیں ہیں ۔ پاکستان اس وقت سخت خطرات میں گھرا ہوا ہے ۔ ہ میں جمہوریت کو استحکام دینا چاہیے اور حکومت کو وقت دینا چاہیے تاکہ وہ ملک کے حالات کو بہتر کر پائے ۔ اپوزیشن پہلے حکومت میں تھی تو ہر کا م غلط ہور ہا تھا اور اب جبکہ اپوزیشن میں ہے تو پھر بھی ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ سیاسی اکابرین جو کہ حکومت میں ہوتے ہیں اپنی حکومت کی پالیسی یا اپنے اپ کو ڈیفنڈ کرنے کیلئے ہر کام کو اپوزیشن پر ڈال دیتے ہیں جبکہ سیاسی لوگوں سے اقتدار چھینا جائے تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ جب ان سے کسی بھی غلط پالیسی یا ان کے کسی غلطی پر گرفت کی کوشش کی جائے تو یہ سیاسی انتقام کا سبب قرار پاتا ہے ۔ سابقہ حکمران دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے دور میں ملک ترقی کی منازل طے کر رہا تھا اب ملک اناڑیوں کے ہاتھ لگنے سے دیوالیہ ہونے کو ہے ۔ بات کسی حد تک سوچنے کی بھی ہے کہ سابقہ دور میں ڈالر کی قیمت کیا تھی اور اب کیا ہے ۔ سونا کس بھاءو بک رہا تھا اور آج کس بھاءو پر ہے ۔ سٹاک ایکس چینج میں خسارہ کیوں ہو رہا ہے ۔ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار کس قسم کی سرمایہ کاری کیلئے اگے آ رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مائیکرو اکنامکس جسے کسی بھی معاشرے میں مصنوعی تنفس ہی کے مثل سمجھاجانا چاہیے کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج میں مصنوعی کمپنیاں کھڑی کر کے ان میں سرمایہ کاری سے کسی بھی معاشرے کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ بس چند خاندانوں اور سٹاک ایکسچینج سے متعلقہ لوگوں کو ہی اس کا فائدہ اور نقصان ہے ۔ چائنا نے اگر ترقی کی ہے تو اس کی سٹاک ایکسچینج میں انوسٹمنٹ کر کے ترقی نہیں کی بلکہ اس نے ملک میں صنعتی اور تجارتی زون بنا کر حقیقی سرمایہ کاری سے ترقی کی ہے ۔ چائنا میں حقیقی معنوں میں ہر طرف اندسٹری کھڑی کی اور اپنے عوام کو روزگار مہیا کیا ۔ جس سے عوام کو ضروریات زندگی کے حصول ممکن ہوا جس کی وجہ سے اس کے معاشرے میں استحکام پیدا ہوا ۔ لوگ ٹیکس دینے کے قابل ہوئے ۔ لوگوں کا صنعت و حرفت پراعتماد قائم ہوا ۔ سرمایہ کار نے اپنا سرمایہ مختلف قسم کی صنعتوں میں لگایا جس ملکی سرمایہ کاری کا حجم بڑھتا گیا ۔ چین میں اس کی اپنی ملکی سرمایہ کاری کا حجم کا تناسب غیر ملکی سرمایہ کاری سے بہت زیادہ ہے ۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کار وہاں سے اپنا سرمایہ نکالنے کی کوشش کریں بھی تو چین کو اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں بلکہ اس کے اپنے سرمایہ کاروں کیلئے جگہ خالی ہو گی اور وہ مزید مستحکم ہو جائیں گے ۔ کافی عرصہ پہلے یہ خبر چلائی تھی کہ جلد ہی وہ وقت آئے گا جب دنیا کا اسی فیصد لوہا چائنا لے جائے گا ۔ اس وقت کسی ذریعے سے یہ خبر ملی تھی کہ چائنا کے تاجر اس وقت لوہے کے سب سے بڑے خریدار ہیں ۔ چائنا کے تاجروں نے لوہا پیتل تیل اور گیس فائبر جیسی اشیاء کی خریداری پر سرمایہ کاری کو اس لیے ترجیح دی تھی کہ انہوں نے عالمی تجارت میں چین کے کردار کو بھانپ لیا تھا ۔ انہوں نے عالمی منڈی سے کئی اشیاء خرید کر چین میں سرمایہ کاری پر کئی عالمی کمپنیوں کو مجبور کر دیا ۔ جاپان جیسی معاشی امپائر کو دھچکا لگانے میں چین کا یہی قدم تھا ۔ آج عالمی سرمایہ کار کمپنیوں کے ہیڈکوارٹر ہی شاید ان کے اپنے ممالک میں ہیں باقی وہ تمام اشیاء چین میں تیار کرا کے ان کی پیکنگ پر اپنے ملک کا نام چھاپ کر بیچ رہی ہیں ۔ سام سنگ اور نیشنل جیسی کمپنیوں کا یہی عالم ہے ۔ مارکیٹ میں کسی چیز کی ڈیمانڈ کی جائے تو اس کے پیچھے چین کا ہاتھ موجود ہوتا ہے ۔ چین نے دنیا کے دیگر ممالک تک زمینی رسائی کیلئے سی پیک کی بنیاد رکھی ہے ۔ بیشک کہ اس کا زیادہ فائدہ چین کو اس لیے حاصل ہو گا کیونکہ اس کی تیار کردہ مصنوعات کو سمند ر کے راستے آسان رسد کا راستہ مہیا ہو جائے گا ۔ چین کا یہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ہے ورنہ چین کو یہی رسائی ایران اور بھارت کے رستہ بھی مل سکتی ہے ۔ چین ان ممالک پر پاکستان کو اہمیت دیتا ہے ۔ سی پیک کو اگر صحیح معنوں میں استعمال کیا جائے تو یہ علاقہ چین کے دیگر علاقوں کی طرح ایک صنعتی زون میں تبدیل ہو کر پاکستان کیلئے آمدن کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے ۔ یہ منی ہانگ کانگ جیسا بنانا ہماری اپنی حکمت عملی ہے ۔ معذرت کے ساتھ ہمارے منصوبہ سازوں نے صرف رئیل سٹیٹ کے بزنس کی پلاننگ کی ہو گی اور پراپرٹی کے سودوں میں ٹاپ اور کمیشن کے ذریعہ روپیہ بنانے کی سکیم بنا رکھی ہو گی کیا بنا رکھی ہیں اور انہی پر عمل پیرا بھی ہیں ۔ ہم کوئی اچھی پبلک ٹرانسپورٹ بس بنا کر اپنے معاشرہ کو نہیں دے سکے تو اور کیا کریں گے ۔ وہ بھی باہر سے منگاءو اور ملک کے ہر علاقہ میں ٹرانسپورٹ کو اپ گریڈ کرو ۔ کیا ہینو یہ سب کچھ نہیں بنا سکتی ۔ بنا سکتی ہے لیکن ہمارے اپنے یہ بنانے نہیں دیتے ۔ ایک شخص جہاز بنانے کی کوشش کر سکتا ہے تو کیا وجہ ہے ہم اچھی سواری نہیں بنا سکتے ۔ پاکستان کی کئی ایسی مصنوعات ہیں جو برآمد کی جاتی ہیں جن میں زرعی مصنوعات کے علاوہ کھیلوں کا سامان اہم ہے ۔ بجلی کا سامان بھی ہماری برآمدات کا اہم حصہ ہے ۔ ہمارے پاس کافی سکوپ ہے لیکن ہم صنعت و حرفت کو ترقی دینے کی منصوبہ بندی ہی نہیں کرتے ۔ اپنے لوگوں کو سہولت باہم نہیں پہنچاتے تاکہ وہ ترقی کر سکیں اور ان کا معیار زندگی بہتر ہو ۔ وہ ایک اچھی پرامن و پر آسائش زندگی گزار نے کیلئے دیار غیر میں مزدوری کیلئے جانے پر مجبور نہ ہوں ۔ پاکستان میں سیالکوٹ گجرات گوجرانوالہ فیصل آباد جیسے صنعتی علاقے موجود ہیں ۔ ایسے صنعتی زون دیگر علاقوں موجود خام مال کی دستیابی پر بنائے جا سکتے ہیں ۔ ہمارے منصوبہ ساز حکومتیں گرانے بنانے کی منصوبہ بندی کرتے یا پھر علاقہ کا ایس پی بدلنے کی کوئی پلاننگ کرنی ہوتی ہے ۔ سینیٹر ایم این اے ایم پی اے علاقہ کونسلر تک کسی کو کوئی غرض نہیں کہ وہ ووٹرز کے روزگار کیلئے کوئی منصوبہ بنا ئے ۔ سکول کالج یونیورسٹی بنانے کی طرف قدم اٹھائے ۔ کام کیلئے دوسروں کی طرف دیکھنے سے ترقی کی منازل نہیں طے کی جاسکتیں نہ ہی سابقہ کے کئے دھرے کا راگ الاپنے سے پاکستان ترقی کے زینے طے کر سکتا ہے ۔ پاکستان کو پاکستانی ویژن کے مطابق آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ایٹم بم اور میزائل ٹیکنالوجی کیلئے پاکستانی ویژن استعمال ہوا تو بن گئے ۔ جو کر نا ہے ہ میں کرنا اورخود کرنا ہے کوئی ہمارا نہیں جب تک ہم خود اپنے نہیں بنتے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative