Home » کالم » اداریہ » پاکستان کی ترقی جمہوریت سے وابستہ ہے
adaria

پاکستان کی ترقی جمہوریت سے وابستہ ہے

adaria

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے لاہور چیمبر کی اچیومنٹ ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے حکومت کاروبار نہیں کرسکتی حکومت صرف سہولتیں دے سکتی ہے اور آپ کی مدد کرسکتی ہے پاکستان کی ترقی جمہوریت سے وابستہ ہے موجودہ حکومت ملک کی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جس نے ٹیکس کی شرح میں کمی کی ہے ٹیکس ادا کرنا آپشن نہیں ہوتا بلکہ یہ قانونی ذمہ داری ہے ٹیکس ادائیگی سے بڑی حب الوطنی ہوہی نہیں سکتی۔ حکومت کا کام سہولتیں اور مراعات دینا ہے جو حکومت نے دی ہیں اب ایکسپورٹرز کیلئے چیلنج ہے کہ وہ اپنا کاروبار کس طرح بڑھاتے ہیں، مشکلات کے باوجود 65 سال سے زیادہ کام کیا ملکی ترقی کیلئے برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا ۔ حکومت نے تمام وعدے پورے کیے عالمی منڈیوں میں مسابقت کیلئے ہمارے ہاں صلاحیت موجود ہے ، برآمدات 100 ارب ڈالر تک پہنچائی جائیں برآمد کنندگان کیلئے مراعات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں الیکشن جولائی میں ہونگے جو بھی حکومت آئی پالیسیاں جاری رہیں گی ۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا حکومتی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہنا چاہیے لیکن صد افسوس ہمارے ہاں پالیسیوں کا تسلسل جاری نہیں رہتا اور ہر آنے والی حکومت نئی پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتی ہے جس سے سابقہ پالیسیوں کے مقاصد تشنہ تکمیل رہ جاتے ہیں یہ درست ہے کہ پاکستان کی ترقی جمہوریت سے ہی وابستہ ہے حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ایسی پالیسیاں مرتب کرے جو کارآمد قرار پائیں اور ادارے ترقی کریں ۔ اس وقت ہمارا تعلیمی نظام روبہ تنزل ہے اور انحطاط تعلیم کا رونا رویا جارہا ہے۔ اگر مربوط تعلیمی پالیسیاں ہوتی تو اور سابقہ پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھا جاتا تو آج یہ حال نہ ہوتا ، جمہوری دور حکومت میں جمہور کاآہ و بکا کا لمحہ فکریہ اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی سرفہرست ہے جس کیخلاف پاکستان موثر جنگ لڑ رہا ہے، ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ سیاسی استحکام ہو اس وقت ملک میں عدم سیاسی استحکام ہے جس کی وجہ سے ہر طرف سیاسی ہلچل دکھائی دیتی ہے، بدامنی سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے، ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی آئے روز بڑھتی جارہی ہے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے اگر حکومت اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ نبھاتی تو آج فارغ التعلیم نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے دربدر کی ٹھوکریں نہ کھاتے پھرتے، حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی برداشت کے کلچر کو فروغ دے تاکہ جمہوریت مضبوط ہو۔حکومت کا اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ آج کا سیاسی منظر نامہ انتہائی دھندلا دکھائی دے رہا ہے، حکومت فرائض کی ادائیگی میں فرض شناسی کا مظاہرہ کرتی تو آج عدلیہ کو بنیادی حقوق کیلئے ازخود نوٹس نہ لینا پڑتا۔ وزیراعظم نے یہ درست فرمایا کہ ٹیکس ادا کرنے سے بڑی حب الوطنی کوئی نہیں، موجودہ حکومت نے جوٹیکس پالیسی دی ہے اس کے مثبت ثمرات سامنے آئیں گے، پالیسیوں اور جمہوریت کا تسلسل جاری رہنا ہی نیک شگون ہے، آئندہ کس کی حکومت بنتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا اس وقت مسلم لیگ(ن) مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے، ایک طرف سابق وزیراعظم کا بیانیہ متنازع بنا دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف اداروں سے تصادم کی راہ ہموار کرنے کا عمل ملک کیلئے سودمند نہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بھی کم و کاست ہے کہ حکومت کو چار سال بہت سی مشکلات درپیش رہیں اس کے باوجود اس نے کئی کام کیے ہیں جو گزشتہ حکومتیں نہ کرپائیں لیکن مسائل کا ادراک حکومت ہی کی ذمہ داری قرارپاتی ہے، لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ، عوام کا معیار زندگی بلند کرنا اور امن و امان قائم کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت اور دیگر سہولتوں کی فراہمی حکومت ہی کا فرض قرارپاتا ہے۔ حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے۔ اس وقت سیاسی عدم استحکام جمہوریت کیلئے ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی ترقی جمہوریت سے وابستہ ہے۔

جنوبی وزیرستان چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کا حملہ
جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی چیک پوسٹ پر افغانستان کی طرف سے شدت پسندوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 6پاکستانی سیکورٹی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا، شہداء میں نائب صوبیدار ظفر، حوالدار عارف، سپاہی آصف، سپاہی کریم، سپاہی فیصل اور مرتضیٰ زخمی ہونے والوں میں شامل ہیں، حملے کے بعد شدت پسند افغانستان فرار ہوگئے، شہداء اہلکاروں کے جسد خاکی ان کے آبائی علاقوں میں پہنچا دئیے گئے جہاں سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کی جائے گی، افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کیخلاف استعمال ہونا لمحہ فکریہ ہے، پاکستان کئی بار افغانستان سے احتجاج کرچکا ہے لیکن افغان حکومت دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کی آماجگاہوں کی موجودگی خطے کے امن کیلئے خطرے کا باعث ہے پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور چاہتا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے لیکن افغان حکومت کا عدم تعاون دہشت گردی کوروکنے میں رکاوٹ ہے۔ پاکستان دہشت گردی کیخلاف موثر کن جنگ لڑ رہا ہے اس میں اس کو جانی و مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ افغانستان سے چیک پوسٹ پر حملہ قابل مذمت ہے، افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی اور تفاوت پیدا نہ ہو۔ یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔
نیلم پل طلباء کیلئے موت کی وادی
وادی نیلم میں خستہ حال کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے پنجاب سے سیر کیلئے آئے24 سے زائد طلباء اور طالبات نالے میں بہہ گئے ان میں سے رات گئے تک5لاشیں نکال لی گئیں جبکہ 13افراد کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔ دیگر کی تلاش کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں ، دریا کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس دلخراش واقعہ کا پیش خیمہ پل کی خستہ حالی بتائی جاتی ہے جو زیادہ گنجائش برداشت نہ کرسکا اور ٹوٹ گیا جس نے کئی ہنستی بستی زندگیوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔ حصول علم کے متلاشی طلباء تفریح سرگرمیوں کیلئے وادی نیلم گئے جہاں موت کے بے خبر ساتھی نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس جانکاہ حادثے کا شکار ہونے والا طلباء کا تعلق فیصل آباد ، لاہور،بورے والا اور جھنگ سے بتایا جاتا ہے۔ حکومت اس واقعہ کی تحقیقات کرے اور متاثرہ خاندان کی مالی امداد کو یقینی بنائے ،پل کی خستہ حالی کا نوٹس لیا جائے، خداوند کریم اس دلخراش واقعہ کے شکار طلباء کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا کرے۔

About Admin

Google Analytics Alternative