Home » کالم » پاکستان کی جاسوسی کرنے کا بھارتی اعتراف

پاکستان کی جاسوسی کرنے کا بھارتی اعتراف

آخر کار بھارتی آرمی چیف نے یہ اعتراف کر ہی لیا کہ ہم پاکستان کی جاسوسی کے لئے لائن آف کنٹرول پرکواڈ کاپٹرز بھیجتے ہیں اور ایل اوسی پر بھی فائرنگ کرتے ہیں ۔ ان کو یہ بھی پتہ ہے کہ پاکستان کی جانب شہری آبادی ایل اوسی کے قریب ہے ۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس میں انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستانی فوج نے ہمارے دو کواڈ کاپٹرزمارگرائے ہیں ۔

بھارت پاک سرحد پر اپنے ڈرونز بھیج کر ہماری نقل و حرکت اور پاک فوج کی موجودہ پوزیشنوں کا اندازہ کرتا ہے تاکہ وہ تاک کر سرحدی علاقوں میں گولہ باری کر سکے اور جواب میں اس پر فائر نہ ہو سکے ۔ پاک فوج نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والا بھارتی جاسوس ڈرون مار گرایا تھا ۔ جاسوس ڈرون ناپاک عزائم لیے پاکستانی سرحد میں داخل ہوگیا تھا ۔ لیکن2 روز بعد بھارت کا دوسرا ڈرون پاک فوج کا نشانہ بنا ۔ پاک فوج نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے ڈرون کو باغ سیکٹر کے قریب نشانہ بنایا تھا ۔ اس کے بعد بجائے شرمندہ ہونے کے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی جس کا دفتر خارجہ نے بھرپور انداز میں جواب دیا اور پاک فوج نے سرحد پر بھارتی فوج کے عزائم کو خاک میں ملایا ۔ دو دنوں میں دو بھارتی ڈرونز کا پاکستان کی طرف سے گرایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان اپنی سالمیت کے خلاف کوئی حرکت برداشت نہیں کرے گا ۔

پاکستان کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں پے درپے ناکامیاں سمیٹنے کے بعد دہشت گرد سوچ رکھنے والا بھارت پاگل ہو چکا ہے ۔ جب ڈرونز سے کام نہیں چلا تو توپوں کا رخ سرحد کی جانب موڑ دیا ۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں بلکہ جب سے مودی حکومت برسر اقتدار آئی ہے سرحد پر فائرنگ تو معمول بن گئی ہے ۔

گزشتہ روز بھی بھارتی فوج نے سما ہنی سیکٹرکے سرحدی علاقوں کہاولیاں بنڈالہ ، پنڈوڑی، باغ ہریاں اور نالی پتنی پر شدید گولہ باری کی اور کئی گھنٹے جاری رہنے والی گولہ باری کے نتیجے میں پورا علاقہ لرز اٹھا ۔ پاک فوج نے موَثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بنایا جہاں سے فائرنگ ہو رہی تھی اور انہیں بھاری جا نی و مالی نقصان پہنچایا ۔ گزشتہ ساری رات شدید گولہ باری کے بعد بھی ہلکا فائر جاری رہا اور ویری لایٹس کا استعمال کیا گیا ۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا ’بھارتی فوج کا غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل جاری ہے ۔ ‘

حقیقت میں بھارتی سرکار کسی نہ کسی طرح پاکستان کیخلاف جنگ چھیڑنے کا بہانہ ڈھونڈ رہی ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ اس طرح پاکستان کو طیش دلا کر اپنا مقصد حاصل کر لے گی ۔ کیونکہ بھارت کا خیال ہے کہ جب تک امریکہ افغانستان میں موجود ہے اسے کوئی خطرہ نہیں ۔ وہ جو کچھ مرضی کرتا رہے ۔ گو کہ امریکہ اس کی پشت پناہی کےلئے موجود ہے ۔ اسی لئے گزشتہ دنوں بھارتی وزیراعظم مودی نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی ۔ اس دھمکی کے بعدلائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نے ایک جاسوس ڈرون پاکستان کی سرحدی حدود میں داخل کرنے کی کوشش کی ۔ کچھ عرصہ قبل بھی بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید ہوگئیں ۔ جبکہ دو خواتین اور تین بچوں سمیت نو افراد زخمی ہوگئے ۔ گزشتہ برس لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باوَنڈری پر بلا اشتعال بھارتی فائرنگ کے باعث متعدد افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ برس کے آخری ماہ دفتر خارجہ نے بتایا کہ 2018 میں بھارت نے 2312 مرتبہ ایل او سی کی خلاف ورزی کی تھی ۔ بھارتی جارحیت 35 پاکستانی شہری شہید جبکہ 135 افراد زخمی ہوئے تھے ۔

پچھلے چند برسوں سے بھارت کی بربریت اورجارحیت میں جس رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے اگر عالمی برادری نے اس کا ادراک نہ کیا تو فقط خطے کا امن ہی نہیں وہ اپنے ساتھ اور بہت کچھ لے کر ڈوب جائے گا ۔ بھارتی جارحیت نہ اب کسی سرحد کو خاطر میں لا رہی ہے نہ بنیادی انسانی اخلاق کو ۔ نہ عالمی اداروں کی قراردادوں کو ۔ اگر پاک فوج بھارتی اشتعال انگیزیوں کے جواب میں تحمل و برداشت کامظاہرہ نہ کرے تو خوفناک تصادم کے رونما ہونے میں کون سی کسر باقی رہ جاتی ہے ۔ بھارت جان بوجھ کر شعلوں کو ہوا دے رہا ہے یا حقائق کوسمجھنا نہیں چاہتا ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ بھارتی افواج نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں ۔ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پرشہری کی شہادت بھی ہوئی ۔ بھارت فائرنگ کے ذریعے دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانا چاہتا ہے ۔ بھارتی عزائم سیز فائر کی لگاتارخلاف ورزیوں سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ پاکستان بھارتی تشدد کے باوجود انتہائی ضبط کا مظاہرہ کر رہا ہے جسے ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے ۔ پاکستان کو ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں کیا جا سکتا اور ہم کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی سرزمین کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں دانستہ اضافہ علاقائی امن و سلامتی کےلئے خطرہ ہے ۔ یہ بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور بے گناہ افراد کے خلاف بدترین نوعیت کے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے ۔ ہماری مسلح افواج فائر کرنے میں پہل نہیں کرتیں لیکن وہ کسی بھی جارحیت کا ہمیشہ بھرپور انداز میں جواب دیں گی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative