Home » کالم » پاکستان کی نا قص سفارت کاری اور ناکام میڈیا

پاکستان کی نا قص سفارت کاری اور ناکام میڈیا

سال1979 سے روس کا افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد اور پھر 2001 میں امریکہ کا افغانستان پر حملہ کرنے کے بعد ، پورے 41 سال سے پاکستان دہشت گردی اور انتہاپسندی کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ دھشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کے 70 ہزار لوگ شہید ہوئے جن میں ڈاکٹر، انجینیر ز، مسلح افواج ، پولیس اور قانون نا فذکرنے والے اداروں کے اہل کار، سائنس دان ، پروفیسر، وکلاء، سکول اور کالج کے طالب علم ، صف اول کے پاکستانی سیاست دان ، سیاسی ورکرز، مزدور ، راہگیر اور یہاں تک کہ زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس سے وابستہ لوگ دہشت گر دی کی جنگ میں شہید یازخمی نہیں ہوئے ۔ ہمارے سیاست دان ، قانون ساز اداروں میں حکومتی اور مخا لف بنچوں پر بیٹھے سیا ست دان جب بھی قومی ، صوبائی اسمبلی ، سینیٹ یا عام اجتماعات یا قومی اور بین الاقوامی فورم پر تقریر کر رہے ہوتے ہیں تو وہ ضرور دہشت گردی کی جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں کی شہادت اور اس جنگ کی وجہ سے 120 ارب ڈالر کے نُقصان کا ذکر کرتے ہیں ۔ مگر یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہماری میڈیا اور بیرون ممالک سفارت کار پاکستان کے اس قربانیوں کو اصلی شکل میں اُجاگر کرنے میں ناکام رہے ۔ نتیجتاً امریکہ ، اور دوسرے یو رپی ممالک کی طرف سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے پاس کوئی ایسا ٹی وی، ریڈیو چینل نہیں جسکی وساطت سے عالمی سطح پر پاکستان کے ان قربانیوں کو منظم طریقے سے ;80;ortrayیا انکی تشہیر کی جائے ۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک اور بیدار معزاقوام کے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو وہ ملک کے مُثبت امیج کو اچھے طریقے سے پروجیکٹ کرتے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہم نے دہشت گردی اور انتہائی پسندی کی جنگ میں اتنی بھاری قربانیاں دیں جو دنیا میں کسی قوم نے نہیں دی مگر اسکے باجود بھی ہ میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہ میں ہل من مزید کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اُردو،انگریزی یا علاقائی زبان کا کوئی ایسا ریڈیو ٹی وی چینلز نہیں جس کے ذریعے بیرونی دنیا کو پاکستان کی آواز پہنچائی جائے ۔ اگر ہم غور کریں تو بر طانیہ کا بی بی سی ، امریکہ کا سی ا ین این ، پشتو چینل ڈیوہ، اور بھارت کے سینکڑوں ٹی وی چینلز کس منظم طریقے سے اپنے ملکوں کے ا یجنڈے کو آگے لے کے جا رہے ہیں ۔ بی بی سی کی اُردو سروس اور ڈیوہ ریڈیو کی پشتو سر وس کی خبریں میوزیکل پروگرام اور تبصرے سوشل میڈیا کے اس دور میں سامعین ریڈیو کو بھی انتہائی انہماک سے سُنتے ہیں ۔ ہمارا الیکٹرانک، پرنٹ و سوشل میڈیا پاکستان کے کاز کو لوگوں تک پہنچانے میں ناکام ہے جبکہ اسکے بر عکس دشمن یا پاک مخالف ممالک ہمارے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈہ کرتا ہے اور پاکستان اور پاکستانی عوام کو ایک دہشت گرد اور انتہا پسند کی شکل میں پیش کرتے ہیں ۔ افسوس کی بات ہے کہ ریاستی الیکٹرانک میڈیا کے نام پر ہر مہینے بجلی کے بل میں 35 روپے لئے جاتے ہیں مگر اسکے با وجود ریاستی الیکٹرانک میڈیا کا رکردگی بالکل صفر ہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ اچھی ڈپلومیسی اور سفارت کاری کسی ملک کی اچھے امیج کو اُجاگر کرنے میں اہم کام ادا کرتا ہے مگر مُجھے پھر انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی طرح ہماری ڈپلومیسی اور سفارت کاری بھی صفر ہے ۔ بیرون ممالک سفارت کار اور ڈپلومیٹ ملک کے اچھے اور نرم امیج بنانے میں ناکام ہیں ۔ وہ اپنے فراءض منصبی کے دوران ملکی مفادات سے زیادہ ذاتی مفا دات کو اہم سمجھتے ہیں اور ان میں اکثر بیرون ملک تجارت اور کاروبار کرتے ہیں ۔ جو سفارت کار اور دُپلومیٹس بیرون ممالک بھیجے جاتے ہیں اُنکا تعلق اکثر و بیشتر حکمران پا رٹی یا فوجی حکومت سے ہوتا ہے اور انکی تقرری میرٹ اوراہلیت کے بجائے سفارش پر ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انکی نا اہلی کی وجہ سے وہ ملکی مفادات کی حفاظت نہیں کر سکتے ۔ اگر ملکی میڈیا اورسفارتکاری اچھی ہوتی تو آج کل پاکستان کو یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے ۔ اورپاکستان کا امیج انتہائی اچھا ہوتا اور قدر اور عزت سے دیکھا جاتا ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہ میں قومی اور بین الاقوامی زبانوں کے سا تھ ساتھ پشتو، پنجابی، سندھی اور بلوچی میں ٹی وی چینلز ہونے چاہئیں تاکہ عام پاکستانی کو بھی وطن عزیز کے مسائل سمجھنے میں آسانی ہو ۔ اسکے علاوہ جو ڈپلومیٹ اور سفارت کار باہر بھیجے جاتے ہیں اُنکی تقرری بھی صاف شفاف اور میرٹ پر ہو تاکہ وہ صحیح ، محب وطن پاکستانی ہو کر ملک اور قوم کی صحیح ترجمانی کر سکیں ۔ میڈیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ;77;edia is the eye and ear of society یعنی میڈیا کسی معاشرے کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں جبکہ سفارت کار اور ڈپلومیٹ اس سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ ونسٹن چر چل کہتے ہیں

;68;iplomate is a man who thinks twice before saying any thingکہ ڈپلومیٹ ایک ایسا انسان ہوتا ہے کہ کچھ نہ بولنے سے بھی دو دفعہ سوچتا ہے ۔ جو کچھ آج کل ہم بھگت رہے ہیں اسکی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ نہ تو ہمارے پاس اچھا میڈیا ہے اور نہ اچھے سفارت کار اور ڈپلومیٹ جو ملک اور قوم کے کاز کو اچھے طریقے سے دنیا کو دکھا سکیں ۔ اچھی سفارت کاری سے ناکامی کامیابی میں بدل جاتی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative