Home » کالم » پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی امید
asgher ali shad

پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی امید

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے تناظر میں جو مثبت تاریخی فضا وجود میں آئی ہے، اس سے بجا طور پر بہت سی خوش کن امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں ۔ اسی کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کی بابت جو ریمارکس دیئے ہیں ان سے بھی بہت سی خوش گمانیوں نے جنم لیا ہے ۔ بہرکیف آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ خوش گمانیاں کوئی ٹھوس شکل بھی اختیار کرتی ہیں یا نہیں ۔ ماہرین کے مطابق وطن عزیز میں ہندوستانی دہشت گرد کلبھوشن یادو سے متعلق جس اتحاد اور اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا گیا وہ انتہائی خوش آئند بات ہے ۔ سیاسی قیادت نے بھی اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستانیت کا ثبوت دیا گویا وطن عزیز کے ہر فرد نے یہ مقدمہ لڑا اور اپنی اپنی سطح پر وطن عزیز میں جاری بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا موثر جواب دیا ۔ تبھی تو بین الاقوامی عدالت انصاف کے بھارت کی طرف سے دہشتگرد کلبھوشن یادو مقدمے کے سینئر وکیل نوکرن سنگھ نے بھارتی میڈیا کو باور کرایا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے کلبھوشن جھادو سے متعلق فیصلے میں ایسا کچھ نہیں جس پر بھارت خوش ہو ، عدالت نے کلبھوشن یادو کے جاسوس ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارتی میڈیا کی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی دیرینہ عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سچ کا سامنا کرنے کا ذرا سا بھی حوصلہ باقی نہیں ۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی موقف کو ہر سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی جو قابل تحسین کردار ادا کیا گیا، اسے بجا طور پر سراہا جانا چاہیے ۔ دوسری طرف سابقہ فاٹا کے آٹھ اضلاع میں جس پر امن ڈھنگ سے انتخابی عمل انجام پایا، وہ اپنے آپ میں اس امر کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی تمام تر سیاسی جماعتیں دیگر مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سوچ اپنا رہی ہیں ۔ یہ بھی خوش آئند ہے کہ انتخابات میں خواتین کی خاصی بڑی تعداد نے رائے حق دہی استعمال کیا، جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ دھیرے دھیرے مگر تسلسل کے ساتھ ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے ۔ ایسے میں مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی یہ بات پوری طرح حق بجانب ہے کہ ان انتخابی نتاءج سے کسی بھی پارٹی کی فتح یا شکست نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کی جیت ہوئی ہے ۔ اس امر سے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت اور چند دیگر ممالک کی معاونت سے پاکستان میں بعض حلقے بھی اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت بلوچستان اور دیگر پاک علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر نسلی و لسانی تعصبات کو ابھار کر باہمی منافرت کو پھیلانے میں عرصہ دراز سے سرگرم ہیں ۔ اگرچہ پاک افواج ردالفساد اور ضرب عضب کے ذریعے ان کے تدارک میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہیں مگر اس کے باوجود مخالفین اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کبھار بوجوہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔ اسی تناظر میں بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر گذشتہ چند مہینوں سے جاری ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی اسی سلسلے کو پھیلایا جا رہا ہے ۔ ہندوستان نے ہتھیار اور اسلحہ کی خریداری کے جو بڑے بڑے معائدے کیے ہیں ان کا سیدھا مقصد ہی بھارت کے جنگی عزائم کی معاونت ہے ۔ حالانکہ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے جو کارنامے انجام دیئے، ان کا معترف ہر ذی شعور کو ہونا چاہیے ۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کے کردار کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے ۔ انسان دوست حلقوں کے مطابق اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت اور افغان انتظامیہ کے بعض حلقے تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کےخلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے، ان طبقات کی جانب سے لگاتار پاکستان کےخلاف اس قدر زہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔ تاہم اس حوالے سے یہ امر غالباً زیادہ توجہ کا حامل ہے کہ اسلامی تعلیمات کسی بھی طور اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ مذہب کو بنیاد بنا کر کسی بھی طبقے کے خلاف جبر و استبداد کا طرز عمل اختیار کیا جائے، لہٰذا ماضی میں اگر کسی بھی جانب سے اس قسم کی روش اپنائی بھی گئی ہے تو اسے کسی بھی طور قابل ستائش نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ ہر سطح پر اس کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں یہ بات خصوصی طور پر پیش نظر رہنی چاہیے کہ تمام علمی اور تحقیقی پلیٹ فارم پر شعوری کوشش کی جائے کہ سول سوساءٹی کے تمام حلقوں کی طرف سے قومی سطح پر ایسا بیانیہ تشکیل پا سکے جس کے نتیجے میں باہمی منافرت، فرقہ وارانہ اور گروہی تعصبات کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ اس حوالے سے ایسا ’’متبادل بیانیہ‘‘ تیار ہونا چاہیے جس کے ذریعے اس امر کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ واضح کیا جائے کہ اسلام میں تشدد، جبر اور انتہا پسندی کسی بھی لحاظ سے قطعاً نا قابل قبول ہیں اور کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس طرز عمل کے فروغ کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ قومی ریاست کی تشکیل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے ۔ ایسے میں دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا وطن عزیز کو دہشت گردانہ ذہنیت کے حامل گروہوں کے شر سے محفوظ رکھے ۔ امید ہے کہ اس ضمن میں عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔ علاوہ ازیں قوم کے سبھی سوچنے سمجھنے والے حلقے اپنی قومی ذمہ داریوں کا بروقت احساس کرتے ہوئے نئے سرے سے قومی شیرازہ بندی کو ایک مضبوط و مربوط مہم کی شکل دیں گے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative