Home » کالم » اداریہ » پاک فوج کے ترجمان کا انٹرویو۔۔۔۔۔۔ بھارت کو دوٹوک پیغام
adaria

پاک فوج کے ترجمان کا انٹرویو۔۔۔۔۔۔ بھارت کو دوٹوک پیغام

adaria

ایک ڈرون واپس نہیں جاسکتا تو سرجیکل سٹرائیکس کرکے بھارتی کمانڈو کیسے واپس جاسکتے ہیں۔ بھارت کو بتانا چاہتے ہیں کہ باتوں سے سرجیکل سٹرائیکس نہیں ہوتا۔ پاک فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے یہ باتیں ایک انٹرویو کے دوران کہیں۔ پاک فوج کی جانب سے بھارت کو بھارت کی گیدڑ بھبکیوں اور اس کی جانب سے کی جانے والی ہرزہ سرائی کا دوٹوک جواب دیا گیا جس میں اس پر واضح کردیا گیا کہ اگر اس نے اپنے کسی بھی مذموم ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے قدم اٹھایا تو اس کو منہ کی کھانا پڑے گی۔پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی خواہش کی ہے اور وہ خطے میں امن چاہتا ہے، جنگ کی دھمکیوں سے مسئلے حل نہیں ہونگے، اگر بھارت نے جنگ کی تو پاک فوج بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نیز انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور ایک مستحکم افغانستان ہی مستحکم پاکستان کیلئے بہتر ہے۔ میجر جنرل آصف غفور کی یہ بات بالکل 100فیصد درست ہے کہ اگر بھارت نے کوئی بھی قدم اٹھایا تو اسے پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب ملے گا۔ نیز افغانستان کے حالات بھی پاکستان کے ساتھ منسلک ہیں جب وہاں امن ہوگا تو پھر پاکستان میں بھی امن ہوگابلکہ پورے خطے میں امن قائم ہوگا۔ بھارت کی جانب سے اس کے انتخابات میں پاکستان کے سلوگن کو استعمال کرنے کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان نے کہاکہ ایسی باتیں ان کے سیاسی ا نتخابات کی ہیں، پاکستان نے اپنے ملک کے مفاد میں جو کرنا ہے کرے گا، ہمیشہ جنگ کی بات بھارت نے کی، پاکستان نے کبھی ایسی بات نہیں کی، ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی دھمکیوں کا اثر پاکستان اور انڈیا کے ساتھ ساتھ خطے کے امن پر بھی پڑتا ہے۔ حالات بہتری کی طرف جارہے تھے تو بھارت نے سیاچن کا مسئلہ کھڑا کردیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ کوئی بھی ریاست جنگ کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی اور نہ ہی ان سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم خود کہتا ہے کہ سرجیکل سٹرائیک کو ہمارے ملک کے لوگ نہیں مانتے یہ بالکل ٹھیک ہے کہ ایک چیز جو ہوئی ہی نہیں اس کو لوگ کیسے مانیں گے۔ ترجمان پاک فوج کی یہ باتیں سو فیصد درست ہیں، بھارتی وزیراعظم کا بیان خود ہی ان کے منہ پر اپنا طمانچہ ہے، جب وہاں کے عوام ہی سرجیکل سٹرائیک کو تسلیم نہیں کرتے کہ ایسا کوئی وقوعہ پیش ہی نہیں آیا تو پھر آئے دن بھارت اور اس کی فوج کی جانب سے اس قسم کی ہرزہ سرائی کیا معنی رکھتی ہے۔ جب بھارتی عوام ہی بھارتی حکومت کے دعوؤں کو تسلیم نہیں کرتی تو یہ محض گیدڑ بھبکیوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں اگر بھارت یہ سمجھے کہ وہ دھمکیوں سے پاکستان جیسی خودمختار ریاست کو دبا لے گا تو ترجمان پاک فوج نے واضح کردیا ہے کہ کوئی بھی ریاست کسی بھی ریاست کو دھمکیوں سے دبایا نہیں جاسکتا۔ نیز جب بھی بھارت کے انتخابات آتے ہیں تو وہ خوا ہ مخواہ پاکستان مخالف کارڈ استعمال کرنا شروع کردیتا ہے مگر شاید اس مرتبہ ایسا نہیں چل سکے گا۔پوری دنیا کے سامنے بھارتی مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان میں جتنی آزادی میڈیا کوحاصل ہے اور کسی ملک میں نہیں۔ جتنی حمایت میڈیا نے مسلح افواج کو دی ہے وہ کسی کو نہیں دی گئی، جہاں تک میڈیا کی جانب سے فوج کو حمایت دینے کاتعلق ہے تو صحافت کے بنیادی اصول ہیں کہ وہ اسٹیٹ ، جوڈیشری اور آرمی کے حوالے سے انتہائی محتاط رہتی ہے چونکہ ان تینوں اداروں کا تعلق ملکی استحکام سے ہے اور کبھی بھی پاکستان میں ایسی صحافت نہیں ہوئی جس سے ملکی استحکام کو نقصان ہو، پھر پاک فوج کی قربانیوں ہی کی وجہ سے اس ملک میں استحکام ہے ، امن و امان ہے ،سرحدیں محفوظ ہیں تو کیوں نہ میڈیا پاک فوج کی حمایت کرے، ہمارے پاک فوج کے جری جوان قوم کے ماتھے کے جھومر ہیں ان کی قربانیوں کو جتنا بھی زیادہ سراہا جائے اتنا ہی کم ہے۔

172 افراد کے نام ای سی ایل میں، مسئلہ جائزہ کمیٹی کے سپرد
172افراد کے نام ای سی ایل سے فوری نکالنے کے معاملے کو وفاقی کابینہ نے جائزہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے اور فی الحال ان ناموں کو ای سی ایل سے نہیں نکالا جارہا ، اب کمیٹی جائزہ لے گی کہ کن افراد کے نام کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے یا نہیں۔ گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے ہونے والے اجلاس میںیہ فیصلہ کیا گیا ۔واضح رہے کہ ای سی ایل میں شامل کیے گئے 172 افراد کے ناموں سے متعلق سپریم کورٹ نے ازسرنو جائزہ لینے کا کہا تھا۔ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا پورا طریقہ کار ہے ، متعلقہ ادارہ سفارشات وزارت داخلہ کو بجھواتا ہے اور وزارت داخلہ وہ سفارشات کابینہ میں پیش کرتا ہے جس کے بعد نام ای سی ایل میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ وفاقی کابینہ نے گورنر سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی جس کی نگرانی میں وفاق کا پیسہ کراچی سمیت سندھ بھر میں خرچ ہوگا۔ چونکہ وفاقی حکومت کے یہ تحفظات ہیں کہ اگرسندھ حکومت کو براہ راست پیسہ دیا گیا تو یہ پیسہ مبینہ طورپر لندن یادبئی سے برآمد ہوگا، انہی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی بنائی گئی جس کے تحت چیک اینڈ بیلنس قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
احتساب ہونا چاہیے انتقام نہیں
پاکستان پیپلزپارٹی کے احتساب کے حوالے سے تحفظات واضح ہیں ان کا کہنا ہے کہ احتساب کے نام پر ہماری حکومت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے ، ان سطور میں یہ بات متعدد بار تحریر کی جاچکی ہے کہ کسی خاص کو ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے اس سے احتساب پر انتقام کا الزام عائد ہو جائے گا ۔ گزشتہ روزپاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھ گئی،ڈالر مہنگا ہو گیا اور حکومت کہتی ہے لوٹی رقوم ملکی خزانے میں جمع کرائے گی،اگر حکومت کو لوٹی دولت کا انتظار ہے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر عوام کو بیوقوف بنایا گیا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات ایس کے نیازی کیساتھ میں کیا۔ایک سوال کے جواب میں پی پی رہنما سید نوید قمر نے مزید کہا کہ پاکستان میں احتساب کی تاریخ بہت گھناونی ہے،ہمارے ملک میں ہمیشہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے،اب کی بار بھی احتساب کے نام پر ہماری حکومت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی جارہے ،جے آئی ٹی رپورٹ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے،ای سی ایل میں نام ڈالنے کا کوئی سینس نہیں بنتا،ای سی ایل میں تو ان لوگوں کے نام بھی ہیں جو ابھی زندہ ہی نہیں،پیپلزپارٹی کو پہلے بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،ہمارے لیڈر پہلے بھی پیشیاں بھگت چکے ہیں ،آصف زرداری گیارہ سال جیل گزار چکے ہیں ،حکومت کہتی ہے کہ لوٹی گئی رقوم ملکی خزانے میں جمع کرے گی ،یہ حکومت بیوقوفوں کی جنت میں رہتی ہے ،اگر لوٹی گئی رقوم کا انتظار ہے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے،ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ڈالر مہنگا ہو رہا ہے ،یہ تو ابھی کچھ بھی نہیں عوام انتظار کرے ابھی مستقبل میں اور بھی بحران آئیں گے۔

About Admin

Google Analytics Alternative