Home » کالم » پاک مخالف پروپیگنڈا کیوں؟
asgher ali shad

پاک مخالف پروپیگنڈا کیوں؟

پچیس دسمبر کو جہاں ایک جانب دنیا بھر کی مسیحی برادری کرسمس کا تہوار پورے مذہبی جوش و خروش سے مناتی ہے۔ وہیں وطنِ عزیز میں قائداعظم کے یومِ پیدائش کے حوالے سے پوری قوم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ پاکستان کی سا لمیت اور آزادی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا ۔ یومِ قائد کے موقع پر انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ وطنِِِ عزیز کے قیام کے لئے قائداعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور اگرچہ قیام پاکستان کے بعد تاحال بوجوہ سر زمین پاک ایک مثالی شکل اختیار نہیں کر پائی مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ چند مٹھی بھر افراد اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے لگ جائیں ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے چند مٹھی بھر سازشی عناصر مذہب کے نام پر وطنِ عزیز کو نقصان پہنچانے پرتلے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف ظلم و سفاکیت پر مبنی بھارتی روش میں گزشتہ اڑھائی برس سے جو شدت آئی ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ایسے میں غالبا پاکستان بھر کے لوگوں کو اچھی طرح سے واضح ہو جانا چاہئے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے ۔ تاریخ انسانی میں یوں تو ایسی بے شمار شخصیات گزری ہیں جنھوں نے اپنے اپنے ڈھنگ سے تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور تاریخ میں مختلف حوالے سے زندہ رہیں مگر چند ایسے افراد بھی ہیں جنہیں رجحان ساز قرار دیا جا سکتا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح ایسے لوگوں میں سرفہرست ہیں جنہوں نے گزرے بلکہ آنے والے ادوار پر بھی انمٹ نقوش چھوڑے۔ حالات کے تھپیڑوں میں برصغیر کے مسلمان ادھر سے ادھر بھٹکتے رہے، کبھی وہ کانگرس کی پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تو کبھی کسی دوسرے گروہ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے مگر بقول علامہ اقبال
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
گویا ان کی امید بر آئی جب قائداعظم کی شکل میں انہیں وہ دیدہ بینا رہنما میسر آگیا جس کی تلاش گویا زمانے کو صدیوں سے تھی۔ اس مرحلے پر بھی اقبال نے گویا ان کی صحیح رہنمائی کی جنھوں نے نہ صرف نظریہ پاکستان کی شکل میں نشان منزل ڈھونڈی تھی بلکہ قائداعظم کے روپ میں انہیں ایسا رہنما بھی تلاش کر دیا تھا جو مسلمانان ہند کی ڈولتی ناؤ کو ساحلِ مراد تک لے کر گیا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایک مرحلے پر اپنوں اور بیگانوں سے مایوس ہو کر قائد نے واپس لندن کا رخت سفر باندھ لیا تھا مگر پھر اقبال اور چند دیگر ساتھیوں کے اصرار پر وہ واپس تشریف لائے۔ شیکسپیئر کہتے ہیں کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد اور کارناموں کی بدولت عظمت حاصل کر لیتے ہیں۔ گو کہ بانیِ پاکستان میں عظمت و قابلیت اور نیک نامی کی ساری خوبیاں پیدائشی تھیں اور انھوں نے وہ لازوال جدوجہد کی جس کے نتیجے میں بر صغیر میں انگریزوں اور ہندوؤں کے ستائے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کے حصول کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ ہندو کانگرس اور برطانوی سامراج نے ہر ممکن کوشش کی کہ مسلمانوں کو ان کی منزل تک نہ پہنچنے دیا جائے اور انھیں ایسی بھول بھلیوں میں بھٹکا دیا جائے جس سے نشانِ منزل دور سے دور تر ہوتا چلا جائے۔ اپنی ان کوششوں میں کسی حد تک وہ کامیاب بھی رہے مگر دوسری طرف سر سید احمد خان اور کئی دوسری ہستیاں مقدور بھر سعی کرتی رہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کسی طور شعور اور آگاہی سے بہرہ ور کیا جائے۔ اس پس منظر میں دو ایسی شخصیات برصغیر پاک و ہند کے افق پر نمودار ہوئیں جن کی رہنمائی میں اس خطے کے مسلمانوں نے اپنی منزل کو پا لیا۔ اس حوالے سے اقبالؒ اور قائد اعظمؒ نے جو ناقابل فراموش کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاست میں غیر متنازعہ رہنا ہی اصل کمال ہے اور اس کے لئے جس بے داغ اور اجلے کردار کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ذاتی قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کیا، دنیا میں بھی اس کی مثالیں کم کم ہی ملتی ہیں کہ کسی سیاست دان کے کردار کو اس کے مخالفین بھی سراہتے ہوں۔ قائداعظمؒ عالمی سیاست کی ایسی ہی ایک غیر معمولی شخصیت ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عظمت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بے غرض اور بے لوث ہو کر اجتماعی فلاح کے لئے ایسے کام سرانجام دیئے جائیں، جن سے انسانوں کی بڑی تعداد کو فائدہ پہنچے اور قائداعظم عظمت کے ان اصولوں پر پورا اترتے تھے۔ یاد رہے کہ ابتدا میں ان کی پوری کوشش تھی کہ ہندو مسلم اتفاق سے برصغیر میں رہیں اور دونوں کو مذہبی آزادی حاصل رہے مگر کانگرس نے ان کی اس کوشش کو سازشوں کے ذریعے سبوتاژ کر دیا اور انتہا پسند اور جنونی ہندؤں نے مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس ضمن میں مسلمانوں پر ہر وہ ظلم ڈھائے گئے جو تاریخ میں ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کی سحر انگیز شخصیت کے لئے لاتعداد کتب لکھی گئیں ۔ سابق بھارتی وزیر خارجہ ، وزیر خزانہ اور BJP کے سینئر رہنما جسونت سنگھ کی کتاب Jinnah: India, Partition, Independence قابل ذکر ہے جس میں اس اعتدال پسند ہندو مصنف نے ببانگ دہل لکھا کہ قائداعظم جیسے رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ، جسونت سنگھ لکھتے ہیں کہ محمد علی جناح ہندو مسلم اتحاد کی علامت تھے مگر کانگرسی رہنماؤں کی انگریزوں کے ساتھ مل کر کی گئی سازشوں اور مسلمانوں کی نسل کشی نے ان کے سامنے علیحدہ مملکت کے قیام کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔
یاد رہے کہ مذکورہ کتاب 2009 میں شائع ہوئی جس کی اشاعت کے بعد BJP اور( RSS راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ)نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور جسونت سنگھ کو جان کے خطرے کے پیش نظر فول پروف سیکورٹی مہیا کرنی پڑی، جسونت سنگھ کو BJP سے نکال دیا گیا اور پورے بھارت میں ان کو پاکستان کا ایجنٹ ہونے کے علاوہ بھی مختلف خطابات سے نوازا گیا، جسونت سنگھ نے کتاب میں لکھا کہ محمد علی جناح کو بھارت میں ایک ولن کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل بھارت کی تاریخ کے مکروہ ترین کردار ہیں ، قائد اعظم کا تو خواب تھا کہ برصغیر میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا جائیں۔ واضح رہے کہ بھار ت کے چوٹی کے رہنما اور BJP کے سینئر ترین لیڈر ایل کے ایڈوانی نے 2005 میں اپنے دورہ پاکستان کے دوران مزار قائد پر حاضری دی اور محمد علی جناح کے لئے وہ عظیم رہنما جس نے تاریخ رقم کی کے الفاظ استعمال کیے جس کے بعد بھارت میں حسب روایت ایک بھونچال کھڑا ہو گیا۔ اس کے علاوہ سروجنی نائیڈو، پرشانت بھوشن، رچند ناتھ سچر، معروف صحافی کرن تھاپڑ (یاد رہے کہ کرن تھاپڑ کے والد پی این تھاپڑ 1962 کی بھارت چین جنگ میں بھارت کے آرمی چیف تھے)سمیت بھارت کی متعدد نمایاں شخصیات کی جانب سے مختلف مواقع پر قائد کی عظمت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ اسے اک ستم ظریفی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بعض حلقے ملکِ عزیز کی بابت ایک شعوری پراپیگنڈہ تاحال جاری رکھے ہوئے ہیں، میڈیا سے تعلق رکھنے والی کچھ شخصیات دانستہ پاک مخالف پراپیگنڈے کو تقویت پہنچانے کے اپنے ایک نکاتی ایجنڈے پر پوری طرح سے عمل پیرا ہیں اور ان کا ہدف خصوصی طور پر افواج پاکستان ہیں۔اس طرز عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ وطن عزیز کے سبھی حلقے اپنے اختلافات بھلا کر یومِ قائد پر اس عزم کا اعادہ کیا کریں کہ پاکستان کو درپیش تمام اندرونی اور بیرونی خطرات کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہو کر دہشتگردی کے عفریت کو اپنے اتحاد کی ضرب کاری سے کچل دیں گے ۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative