Home » کالم » اداریہ » پشاور میں انتخابی جلسہ پر خودکش حملہ
adaria

پشاور میں انتخابی جلسہ پر خودکش حملہ

adaria

صوبائی دارالحکومت پشاور میں سرکلر روڈ پر عوامی نیشنل پارٹی کے پی کے 78 کے امیدوار ہارون بلور کی انتخابی مہم کے دوران کارنر میٹنگ میں خودکش حملے میں بیرسٹر ہارون بلور سمیت21 افراد شہید اور 70 زخمی ہوگئے جن میں سے کئی افرادکی حالت نازک بتائی جاتی ہے، کارنر میٹنگ کے دوران آتش بازی کی جارہی تھی کہ خودکش حملہ آور ہارون بلور کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا ۔ دھماکے میں 8کلو ٹی این ٹی مواد استعمال کیا گیا ہارون بلور کے والد بشیر بلور بھی 2012 میں دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے نگران وزیراعظم سمیت سیاسی و عسکری قیادت نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ دہشت گردی کی یہ بزدلانہ کارروائی الیکشن کیخلاف سازش قرار دی جاسکتی ہے ، سیکورٹی اداروں کیلئے دہشت گردی کا یہ وقعہ ایک سوالیہ نشان ہے حکومت امیدواروں کی سیکورٹی کو یقینی بنائے ۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور وہ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں ، امیدواروں کو بھی انتخابی مہم کے دوران اپنی سیکروٹی کا خود انتظام کرنا ازحد ضروری ہے۔ دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہیں اور پڑوسی ملک بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں تو طشت ازبام ہوچکی ہیں ،’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان کے اندر دہشت گردی بھارتی عزائم کی عکاس ہے ، بھارت پاکستان کے اندر افراتفری پھیلا کر اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائے گا ، پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ، پشاور کا واقعہ اس امر کا عکاس ہے کہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار ابھی موجود ہیں جو چھپ چھپا کر اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کررہے ہیں ، اے این پی کے جلسہ میں دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ نگران حکومت الیکشن کمیشن اور دیگر ادارں کو چاہیے کہ وہ انتخابی عمل کو پرامن بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی کو مزید فعال بنائیں تاکہ امیدواروں اور دیگر لوگوں کی جانوں کا تحفظ ہو پائے ، دہشت گردوں کا کوئی دین اور کوئی مذہب نہیں معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنا ان کا مشغلہ بنتا جارہا ہے جس کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا اسلام تو امن و سلامتی کی تعلیم دیتا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے انسانیت اور امن کے دشمنوں سے اس پاک سرزمین کو محفوظ رکھنے کیلئے آپریشنز میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے ، فوج نے کئی علاقے دہشت گردوں سے واگزار کروا کر ان کے ٹھکانے تباہ و برباد کردئیے ہیں لیکن بچے کھچے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا ابھی باقی ہے ، پاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں دہشت گردی کی لہر میں کمی آئی ہے لیکن ابھی دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کیلئے آپریشن ردالفساد کو تیز کرنے کی ضررت ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے میں پاک فوج کی قربانیوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ترقی و خوشحالی کاذریعہ قرار پاسکتا ہے۔ اے این پی کے انتخابی مہم کے دوران خودکش حملہ بزدلانہ کارروائی ہے دہشت گردی اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر رہیں گے ، پاک فوج کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی ، دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ، دہشت گردی کیخلاف سیاسی و عسکری قیادت پرعزم ہے۔ انشاء اللہ بچے کھچے دہشت گرد بھی عبرت کا نشان بنیں گے اور ملک میں امن کی فضاقائم ہوگی ، دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے سیاسی و عسکری قیادت کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے ۔
فوج غیر جانبدارانہ الیکشن کمیشن کی مدد کرے گی
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس میں واضح کیا ہے کہ افواج پاکستان کا انتخابات میں براہ راست کوئی تعلق نہیں، الیکشن کے عمل کو غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہوکر ادا کریں گے۔ فوج کا انتخابی عمل میں بے ضابطگی خود دور کرنے کا اختیار نہیں تاہم اگر فوجی اہلکاروں نے کسی جگہ بے ضابطگی نوٹ کی تو ان کا کام الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنا ہے ۔ 25 جولائی کو عوام جس کو ووٹ دے کر وزیراعظم بنائیں گے ہمیں قبول ہوگا ، ہر الیکشن پر دھاندلی کے الزامات لگتے ہیں اور لوگ پارٹیاں بدلتے ہیں ، فوج خلائی نہیں خدائی مخلوق ہے ، پولنگ اسٹیشنز پر فوج صرف سیکورٹی اور ضابطہ اخلاق پر عمل کرانے کی پابند ہے، آرمی کو بدنام کرنے کی کوشش برداشت کررہے ہیں ، ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جیپ ہماری نہیں جب کسی پارٹی کو ہار کا خطرہ ہو الزام لگاتی ہے۔ فوجی ترجمان نے بجا فرمایا ہے۔ فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو درست نہیں ہے۔ پاک فوج کا کام سیکورٹی اور ضابطہ اخلاق کی پابندی کروانا ہے جو عناصر فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کررہے ہیں ان کو جان لینا چاہیے کہ وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے ۔ اس بار الیکشن کا انعقاد صاف و شفاف ہوگا جس نے جو بویا وہی کاٹے گا ، عوام جسے چاہیں گے وہی کامیاب قرار پائے گا، پاک فوج پرامن انتخابات کیلئے بلائی گئی ہے اور اس کی زیر نگرانی کسی قسم کی دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جو لوگ دھاندلی کے خدشے کا اظہار کررہے ہیں دراصل ان کو اپنی ہاردکھائی دے رہی ہے نگران حکومت الیکشن کمیشن اور پاک فوج پرامن صاف و شفاف انتخابات کیلئے پرعزم ہے، فوج پر الزام تراشی سے گریز کیا جائے انتخابات صاف و شفاف ہونگے ۔ فوج خلائی مخلوق نہیں خدائی مخلوق ہے اس پر الزام میں کوئی صداقت نہیں۔ ترجمان پاک فوج کی وضاحت کے بعد اب شک و شبہات دور ہو جانے چاہئیں فوج غیر جانبدارانہ الیکشن کمیشن کی مدد کرے گی۔
بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کی معطلی مستحسن اقدام
الیکشن کمیشن نے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں اور عہدیداروں کو 25 جولائی تک معطل کردیا ۔ اسلام آباد سمیت ملک بھر کے تمام میئر، ڈپٹی میئر ، چیئرمین ، وائس چیئرمین ، یونین ، ولج ، وارڈ کونسل وغیرہ کے تمام اختیارات معطل کردئیے گئے ہیں ، ہائیکورٹ سے بھی بلدیاتی نمائندہ کی انتخابی مہم میں شرکت پر پابندی برقرار ہے الیکشن کمیشن نے ہر ضلع کے سیکورٹی انچارج اور اہلکاروں سے غیر جانبداری کا حلف لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کی معطلی کا فیصلہ قابل ستائش ہے ۔ الیکشن کو صاف و شفاف بنانے کیلئے الیکشن کمیشن کا یہ اقدام مستحسن ہے اس کے مثبت اور دوررس نتائج برآمدہونگے انتخابی مہم کے دوران بلدیاتی اداروں کے عہدیداروں کا اثرورسوخ کو روکنا ضروری تھا الیکشن کمیشن نے برموقع و برمحل قدم اٹھا کر بعض سیاسی پارٹیوں کے خدشات کو دور کردیا ہے اس وقت صاف و شفاف انتخابات کی ضرورت ہے۔ ماضی میں دھاندلی زدہ الیکشن ملکی مفاد کیلئے نقصان دہ ثابت ہوئے ، دھاندلی کی روک تھام کیلئے پاک فوج کی خدمات کو حاصل کرنا ضروری تھا الیکشن کمیشن صاف و شفاف انتخابی عمل کیلئے جو اقدامات کررہا ہے یہ وقت کی ضروت اور تقاضا ہیں ان کے بغیر الیکشن پر دھاندلی کے نشان رہتے اب کوئی دھاندلی کا الزام عائد نہیں کرسکے گا ہر طرح کے اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے پرامن صاف و شفاف انتخابات ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار دئیے جاسکتے ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative