Home » کالم » پھونک برائے فروخت
Mian-Tahwar-Hussain

پھونک برائے فروخت

 

 

Mian-Tahwar-Hussain

ہم بحیثیت قوم ضعیف العقیدہ لوگ ہیں ذاتی پریشانیاں جو اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے تجزیہ کیا جائے تو اپنے اعمال اور عقلمندیوں سے پیدا شدہ ہیدا شدہ ہوتی ہیں ان کے حل کے لیے کسی نہ کسی کے کہنے پر جعلی پیروں فقیروں کے پاس جاکر حل کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی روزی روٹی کا ذریعہ بن سکیں۔ ظاہری حلیہ ان لوگوں نے ایسا بنا رکھا ہوتا ہے کہ مصیبتوں کا مارا ان کے جال میں پھنسں ہی جاتا ہے اس لیے عاملوں کاملوں کی معاشرے میں بھرمار ہے۔ اکثر ہاتھوں میں تین تین چار چار بڑے نگینے والی انگوٹھیاں پہنے رومال کندھے پر ڈالے آنکھوں میں سرمہ لگائے ایک دو یا حسب ضرورت تسبیح نما پتھر کے منکے گلے میں لٹکائے چرس کا سوٹا لگائے اپنے ڈیرے پر گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے دو چار ایسے کارندے بھی چھوڑے ہوتے ہیں جو کرنی والی سرکار کے من گھڑت واقعات وہاں جا کر سناتے ہیں جہاں دو یا چار بوڑھے ایک چارپائی پر بیٹھے حقے کے کش لیتے ہوئے اپنی باتوں میں مگن ہوں ان کی سنگت، صحبت میں حقے کی باری لگاتے ہوئے یہ کارندے کرنی والی سرکار کے بارے میں تجسس بھرے واقعات سنا کر گاہکوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ان بوڑھے افراد سے بات متعدد گھروں تک پہنچ جاتی ہے پھر خواتین جو ان معاملات میں اندھا یقین کرنے والی ہوتی ہیں ان سے بات آگے سے آگے سفر کرتی رہتی ہے ان کے منہ سے یہ جملہ ضرور ادا ہوتا ہے کہ بہن میں تمہیں رازداری سے بتا رہی ہوں کیونکہ آپ حالات سے بہت پریشان ہیں اس لیے میرے دل میں آئی کے آپ کے گوش کوزار ضرور کر دوں تاکہ آپ کا بھلا ہو جائے مجھ سے تو آپ کی پریشانی دیکھی نہیں جاتی۔ ہاں بھائی صاحب(یعنی شوہر)کو نہ پتا چلے مرد ذات تو ان کو مانتی ہی نہیں آپ خاموشی سے ان کے پاس جائیں اللہ نے چاہا تو آپ کی پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔ وہ خاتون اگر ایک دفعہ کرنی والی سرکار کے پاس چلی جائے تو پھر وہ وہاں جاتی ہی رہتی ہے کیونکہ نہ زندگی کی پریشانیاں ختم ہوں اور نہ خاتون کا جانا بند ہوگا۔ کرنی والی سرکار سفید کاغذ پر آڑی ترچھی لکیریں گھسیٹ کر تعویز گھر میں جلانے اور درختوں سے باندھنے کے لیے دیں گے پانی کی بوتل کا ڈھکن اتار کر دو تین بار اس میں پھونک مار دیں گے اور فرمائیں گے دن میں تین چار بار یہ پانی پی لیا کریں شفا ہوگی۔ اس عمل کو مکمل کرنے کے بعد کرنی والی سرکار کے پاس ایک خالی ڈبہ پڑھا ہوتا ہے جس میں کم از کم دو سرخ ڈال کر جانے کی اجازت مل جاتی ہے شام تک ان کی اچھی خاصی دیہاڑی بن جاتی ہے یہ کردار آپ کو معاشرے میں پھیلے ہوئے ملیں گے جو معصوم اور پریشان حال لوگوں کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑی تعداد میں چھپنے والے اخبار میں ان لوگوں کے اشتہار بھی آنا شروع ہو گئے تھے یعنی آمدنی میں اضافے کے لیئے اخبار والے ان فراڈیوں کی تشہیر کے کام میں نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔ اب کافی عرصے سے ایسے اشتہار دیکھنے اور پڑھنے کو نہیں ملے۔ جہالت اور ضعیف العتقادی لوگوں کو اس راہ پر چلنے کے لئے مجبور کرتی ہے۔ حکومت کی طرف سے ایسے لوگوں پر کوئی چیک نہیں جو لوگوں کو دھوکے سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ تعجب کا مقام ہے کہ ہم اپنی مرضی سے ایسے فراڈیوں کے ہاتھوں میں سرنڈر کرتے ہیں خواتین کا آنا جانا اکثر اوقات آبروزریزی کے واقعات کا سبب بنتا ہے۔ ایسے لوگوں کا اگر گھر میں آنا جانا شروع ہوجائے تو پھر سمجھئے جان مال عزت دا ؤپر لگ گئے۔ پڑھا لکھا طبقہ اور اعلیٰ عہدوں پر فائز اشرافیہ بھی ایسے لوگوں کا شکار ہیں خود ساختہ پیروں فقیروں کے چہروں پر چھائی خباثت نظر آجاتی ہے۔ لیکن لوگ پھر بھی ان کے ہاتھوں پر بوسہ دینا اپنے لیے خیروبرکت تصور کرتے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے مجھے ایچ ایٹ قبرستان میں ایک دوست کے قریبی عزیز کے جنازے میں شرکت کا موقع ملا وہ صاحب وقفے وقفے سے بتا رہے تھے کہ فلان نامور پیر صاحب نماز جنازہ پڑھائیں گے آخر کار وہ پہنچ گئے بڑی لینڈ کروزرسے ان کا ظہور ہوا اور ایک دوسری گاڑی سے ان کے چند پیروکار برآمد ہوئے۔ پیر صاحب کے چہرے پر تکببررعونت اور خود نمائی تھی کسی کے سلام کا نہ تو انہوں نے جواب دیا اور نہ ہی خود بڑھ کر حاضرین سے مصافحہ کیا ان کے خوشامدی ٹولے نے صفیں سیدھی کرنے کی آواز لگائی اور پھرپیر صاحب مصلیٰ پر آکر نماز جنازہ پڑھانے لگے اس سے فارغ ہوئے تو گھر والے جنازہ کندھوں پر اٹھا کر دیگر لوگوں کے ہمراہ اسے قبر تک لے آئے۔ لاش کو قبر میں اتار کے اور قبرکو بند کرنے کے بعد دعا کا وقت آیا تو پیر صاحب نے اپنے ایک پیروکار کو رعب سے کہا قرآن پڑھو۔ اس نے چند قرآنی آیات پہلے سپارے کا چوتھائی حصہ اور درود پاک صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا ہی تھا کہ پیر صاحب نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا دیئے سب حاضرین نے پیروی کی انہوں نے چند جملے مغفرت کیلئے کہے اور اپنی قیمتی گاڑی کی طرف چل دیئے یعنی آئے بھی وہ گئے بھی وہ ختم تماشہ ہو گیا کے مصداق یاد چھوڑ گئے۔ میں سوچتا رہا کیا عبادت، ریاضت اگریہ کرتے ہوں گے تو اس عبادت نے ان کو متکبر کیوں بنا دیا لوگوں کو یہ اپنا ہاتھ چومنے سے منع کیوں نہیں کرتے ان میں نرمی محبت پیار اور انسانیت کیلئے پرخلوص رویہ کیوں نہیں۔ ان خود ساختہ سجادہ نشیں گدی نشیں اور عامل لوگوں میں مروت اور مودت کیوں نہیں انسانیت کی عزت اور تکریم کیوں نہیں۔ یہ مزاروں کی کمائی کھانے والے مجبور اور پریشان حال لوگوں کو اپنے گیٹ آپ سے مرعوب کرکے جیبیں خالی کیوں کرواتے ہیں۔ اپنے سامنے جھکنے والوں، ہاتھوں پر بوسہ دینے والوں، نذرانہ پیش کرنے والے لوگوں کو منع کیوں نہیں کرتے میں تو پیر سائیں کی گاڑی پر پڑی دھول کو ہاتھوں پر لگا کر عقیدت سے منہ پر ملتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ سونے چاندی کے زیورات پیش کرتے اور ان کو ہڑپ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ مالدار تو شادی بیاہ اور جنازہ پڑھانے تک ان لوگوں کی خدمت حاصل کرنا باعث فصل اور بھاری رقوم بطور نذرانہ پیش کرنا سعادت سمجھتے ہیں۔ پیرسائیں کو کبھی انکار کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں سوچتا ہوں یہ اللہ کو کیا جواب دیں گے اگرچہ سارے ایسے نہیں لیکن اکثریت سادہ لوح لوگوں کے مال پر ہی چلتی ہے گرمیوں اور سردیوں میں ان کی اولادیں یورپ امریکہ سے پاکستان آتی ہیں۔ اکثر کے بچے انگلینڈ اور امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بگڑی ہوئی نسل کا یہ حال ہے اندر پریشانی اور اوپر شیروانی۔ جو خود اپنی اولادوں کو دین سے دوری پر برداشت کیے ہوئے ہیں وہ لوگوں کی پریشانیوں کو کیا دورکرسکتے ہیں اللہ تو فرماتا ہے کہ تم دل میں خاموشی سے دعا کرو یا گڑ گڑاتے ہوئے میں سن لیتا ہوں وہ تو انسان کی شہ رگ کے قریب ہے۔ اس مالک سے ایسے مانگنا چاہیے جس طرح مانگنے کا حق ہے اس مالک کے احکامات کو اپنی زندگی پر رائج کرنے سے دکھوں تکلیفوں سے اور ان بہروپیوں سے بھی نجات ملتی ہے جو جگہ جگہ اپنی دکانیں چمکائے بیٹھے ہیں۔ اللہ انہیں ہدایت عطا فرمائے جو دین کو بیچ کر دنیا سنوار رہے ہیں۔ قرآن شفا ہے اپنے گھروں میں ہمیں تلاوت کو معمول بنانا چاہئے درود پاک کثرت سے پڑھیں تاکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمتوں کا آپ کے گھر پر نزول ہو آپ کے بچے آپ کی پیروی کریں گھر کا پاکیزہ ماحول ہو اور آپ کی زندگی آسودہ ہو۔

About Admin

Google Analytics Alternative