Home » کالم » چھٹی امن مشقوں کا انعقاد، عالمی امن کیلئے پاک بحریہ کے عزم کا ثبوت
adaria

چھٹی امن مشقوں کا انعقاد، عالمی امن کیلئے پاک بحریہ کے عزم کا ثبوت

adaria

بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاست بحر ہند میں میری ٹائم ڈائنامکس پر غور و فکر کے عنوان کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افئیرز کے زیر اہتمام سہ روزہ انٹر نیشنل میری ٹائم کانفرنس منعقد ہورہی ہے، صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی تھے۔ بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ علاقائی اور غیر علاقائی بحری قوتوں کی موجودگی سے بحر ہند کی اہمیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بحر ہند میں امن و استحکام کے حصول کیلئے پاک بحریہ کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بحری تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے پرامن سمندر ناگزیر ہے۔اس موقع پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بحری افواج کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کا کہنا تھا کہ امن مشق میں تمام ممالک ’امن کے لیے متحد‘ ہونے کے ایک عزم کے ساتھ شرکت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ نے بحر ہند میں علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرول کے تحت خلیج عدم میں تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی کا آغاز کیا ہے۔میری ٹائم سیکٹر کی آگاہی میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاک بحریہ کی جانب سے کثیرالقومی بحری مشقوں امن 2019 کا افتتاح جمعہ 8فروری کو ہوا تھا۔پانچ روزہ بحری مشقوں میں دہشت گردی، اسمگلنگ اور بحری قزاقوں سے نبرد آزما ہونے کی مشقیں ہونگی۔ امریکہ، برطانیہ اور جاپان سمیت پینتالیس ممالک کی بحریہ کے مندوبین بحری مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ دیگر ممالک میں برازیل، روس، سعودی عرب، نائجیریا، ملائیشیا، لیبیا اور چین کے وفود بھی شامل ہیں۔ شمالی بحیرہ عرب میں پانچ روزہ بحری مشقوں کا مقصد دہشت گردی، اسمگلنگ اور بحری قزاقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کثیر القومی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ پاک بحریہ کے مطابق ان مشقوں میں شرکت کے لیے متعدد ممالک نے بحری جہاز اور بحری عملہ بھیجا ہے۔امن مشق 2019 کے حوالے سے پاک بحریہ نے خصوصی نغمے پر بنی ’ہم متحد‘ کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

پاکستان 2007 ء سے ان بحری مشقوں کی میزبانی کر رہا ہے جو ہر دو سال بعد باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہیں۔پاکستان نیوی ملک کی بحری حدود اور سمندری و ساحلی مفادات کی محافظ اور دفاعی افواج کا حصہ ہے۔یہ1,046کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی کے ساتھ ساتھ بحیرہ عرب اور اہم بندرگاہوں و فوجی اڈوں کے دفاع کی بھی ذمہ دار ہے۔پاک بحریہ 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد وجود میں آئی۔پاکستان کے دفاع کے لیے پاک بحریہ کا بنیادی کردار رہا ہے، خصوصاً 65ء کی جنگ میں اس نے بھارت کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔یہ جدت اور توسیع کے مراحل سے گزر رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اس کا اہم کردار رہا ہے۔ 2001 سے پاک بحریہ نے اپنی آپریشنل گنجائش کو بڑھا کر عالمی دہشت گردی، منشیات سمگلنگ اور قزاقی کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی قومی اور بین الاقومی ذمہ داری میں تیزی لائی ہے۔گوادر بندر گاہ اور سی پیک جیسے عظیم منصوبے کے بعد اسکی ذمہ داریوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ سمندری راستے کو پر امن رکھنے کی ذمہ داری اب اس کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔پاک بحریہ کے سربراہ نے بھی اس ذمہ داری کو نبھانے کا عزم کرتے کا کہا کہ پاک بحریہ تمام ملکی بندرگاہوں کی حفاظت اور انتظام کی ذمہ دار ہے،دنیا کی90فیصد تجارت سمندری راستوں سے ہورہی ہے، سمندروں میں امن و سلامتی کا قیام مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بلیو اکانومی اور بحری وسائل کے موثر استعمال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ امر پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ بحر ہند دنیا بھر کیلئے خوراک،میری ٹائم نقل وحمل اور توانائی کی سپلائی کا اہم راستہ ہے اور اس خطے میں موجود بڑی قوتوں کی یہاں موجودگی موجودہ پیچیدہ سیکیورٹی ماحول میں اسکی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے۔صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یہ بھی کہا کہ امن2019ء کی صورت میں خطے کی اور عالمی بحری قوتوں کے ساتھ مشترکہ مشقیں عالمی امن اور خوشحالی کے لئے پاکستان کے عزم کی مظہر ہیں۔پاکستان خطے کا اہم ملک ہونے کے حیثیت سے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتا ہے تاکہ خطے کی عوام کے لئے امن، استحکام اور معاشی خوش حالی کے مشترکہ مقاصد حاصل کئے جا سکیں‘۔ پاکستان ہمیشہ سے عالمی میری ٹائم کو آپریشن کا خواہاں رہا ہے اور کمبائنڈ میری ٹائم ٹاسک فورس150اور151کا اولین رکن ہونے کے ناطے افرادی اور مادی معاونت کے حوالے سے ان ٹاسک فورسز میں سب سے زیادہ اعانت کرتا رہا ہے۔اسی طرح قومی سطح پر پاک بحریہ ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پیٹرولنگ کا آغاز کر چکی ہے جس کا مقصد بحر ہند کے اہم حصوں کی سیکیورٹی یقینی بنانا ہے۔بلاشبہ یہ بات درست اور بجا ہے کہ روائتی اور غیر روائتی خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے جنگی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی خاطر دنیا بھر کی بحری افواج کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا اور چھٹی امن مشق کا انعقاد عالمی امن اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے پاک بحریہ کے عزم کا ثبوت ہے ۔
مرض کے علاج کے لئے اقدامات تیز کئے جائیں
وزیر اعظم عمران خان ننکانہ صاحب کے علاقے بلوکی میں پلانٹ فار پاکستان مہم کے آغاز کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جس مرض کی تشخیص کی ہے وہ سو فیصد درست ہے کہ ملک کو دو ’این آر اوز‘ نے تاریخی نقصان پہنچایا اور ملک کی موجودہ معاشی زبوں حالی کی وجہ یہی این آر او ہیں۔ایک این آر او جنرل (ر)پرویز مشرف نے سال 2000ء میں نواز شریف کو دے کر انہیں ملک سے باہر جانے دیا گیا اور ان کے کرپشن کے کیس روک دیئے گئے جبکہ دوسری جانب آصف علی زرداری کے سوئس کیس حکومت جیت گئی لیکن این آر او کی وجہ سے اس کیس کو بھی چھوڑ دیا گیا۔عمران خان کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ ان 2 این آر اوز سے طاقتور لوگوں نے سمجھا چوری کوئی بری چیز نہیں، جتنی مرضی چوری کرو اس ملک میں کسی کو نہیں پکڑا جاتا۔ ان این آر او کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کا قرضہ6 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر30ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ سب وجوہات اپنی جگہ اور اس مرض کی تشخیص بھی درست ہے ،ان کا تدارک وقت کا تقاضہ ہے لیکن اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو درست سمت پر ڈالنے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں۔اپوزیشن یہی چاہتی ہے کہ حکومت بیان بازی میں الجھی رہے اور اس کی توجہ عملی اقدامات سے ہٹی رہے۔ یہ صورتحال مزید کچھ عرصہ چلتی رہی تو اس کا نقصان حکومت کو ہی ہوگا لہذا حکومت عملی اقدامات کی طرف توجہ دے۔

About Admin

Google Analytics Alternative