Home » کالم » چیئرمین نیب کا واضح اوردوٹوک موقف
adaria

چیئرمین نیب کا واضح اوردوٹوک موقف

ملک کا نظام اسی وقت درست انداز میں چل سکتا ہے جب ادارے آزاد اور اپن حدود میں رہ کر کام کرتے ہوں ، یہی جمہوریت اور جمہور کیلئے فائدہ مند ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا یہ بنیادی خاصا ہے کہ اس نے اداروں کو آئین و قانون کے مطابق آزادی دی اسی وجہ سے آج کرپشن کیخلاف وسیع بنیادوں پر کام ہورہا ہے، ادارے آزاد ہیں عدلیہ آزاد ہے، آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہورہے ہیں ، سب اپنی اپنی حدودو قیود میں رہ کر کام کررہے ہیں ، تاجروں نے آرمی چیف سے ملاقات میں جن تحفظات کا اظہار کیا ان کوچیئرمین نیب نے واضح اور دوٹوک انداز میں پریس کانفرنس کے دوران مسترد کردیا ۔ چیئرمین نیب نے کہا نیب اپنے دائرہ کار میں کام کررہا ہے اور جو کام جس ادارے کا ہے وہی کرے گا، نیب کسی صورت کسی کے کام میں مداخلت نہیں کرے گا ۔ یہ بات بالکل درست ہے سب کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے، دراصل ہمارے ملک کا کلچر 70سال سے بگڑا ہوا ہے اس کو درست کرنے میں وقت تو درکارہوگا پھر ہماری عادت ہی نہیں کہ ہم کسی کے سامنے جوابدہ ہوں ، اگر حکومت نے اس جانب کوئی مثبت قدم اٹھائیں ہیں تو ہم سب پر فرض ہے کہ اس سلسلے میں تعاون کریں ۔ اس وقت جو نیب کام کررہا ہے اس سے قومی خزانے کو لوٹی ہوئی رقوم خاصی تعداد میں واپس مل رہی ہیں ۔ ہ میں نظام کو مزید بہتر بنانے اور اصلاحات پر عملدرآمد کرنے کیلئے قربانی دینا ہوگی ۔ چیئرمین نیب نے کہاکہ نیب کا کوئی افسر اب کسی تاجر کو کال نہیں کرے گا ۔ نیب آج کے بعد ٹیکس کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا ۔ ٹیکس ریفرنسز واپس لے لیے جائیں گے ۔ یقین کریں کہ نیب کی کبھی سعودیہ ماڈل کی خواہش نہیں رہی ۔ ادارہ الزامات کی زد میں آئے گا تو بطور سربراہ خاموش نہیں رہ سکتا ۔ پالیسیاں بنانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے ۔ بینک ڈیفالٹ کا معاملہ بھی نیب نہیں بلکہ متعلقہ بینک یا سٹیٹ بینک دیکھے گا ۔ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے، ہر طبقہ قانون کی حکمرانی کو زندہ رکھے ۔ ہاءوسنگ سوساءٹیز کے مالکان 8 ہفتوں میں متاثرین کی شکایات کا ازالہ کردیں ، قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے ۔ اگر ادارے پر بلا جواز تنقید ہوگی تو اس کا جواب دینا ضروری ہے ۔ چند دن پہلے لاہور میں بزنس کمیونٹی سے ملاقات ہوئی اور ان کو نیب کی جانب سے کاروباری طبقے کی بہتری کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان اقدامات سے کیا نتاءج نکلے ہیں ۔ ملک کی تین بڑی کاروباری شخصیات نے نیب کو خط لکھے ہیں جن میں نیب کی کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے ۔ نجی ہاءوسنگ سوساءٹیوں کے مالکان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں کیونکہ انہوں نے غریب لوگوں سے ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی لوٹی ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو نہ پلاٹ دیے اور نہ ان کی رقوم واپس کی ہیں جس کے باعث وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ غریبوں کی خون پسینے کی کمائی کے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک بھاگ جانے والوں کو نیب کسی صورت نہیں چھوڑے گا ۔ اگر ہاءوسنگ سوساءٹی کے مالکان 8 ہفتوں میں متاثرین کو ان کے پلاٹ، مکان دے دیں یا پیسے واپس کردیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ ہاءوسنگ سوساءٹی کی جانب سے لوٹے گئے اربوں روپے وصول کر کے متاثرین میں تقسیم کیے جبکہ رقوم اور پلاٹ واپس دلائے ہیں ۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کو وجود میں آئے21 سال ہو چکے جبکہ بطور چیئرمین میری تقرری کو 22 ماہ ہوئے ہیں اور اس دوران میں نے دیانتدارانہ کوشش کی ہے کہ نیب کا امیج بہتر ہو، اس کے قیام کے مقصد پر خصوصی توجہ دی ہے جو کہ کرپشن کا خاتمہ ہے ۔ وطن عزیز میں کرپشن کی تاریخ نئی نہیں ، اکتوبر 1947 میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی فرمایا تھا کہ بدعنوانی اور اقربا پروری پاکستان کے دو بڑے مسئلے ہیں ۔ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے معیشت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ جب معیشت مضبوط ہو گی تو دفاع مضبوط ہوگا اور ملک مستحکم ہوگا،مستحکم معیشت کے بغیر نہ دفاع مضبوط ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی ملک ۔ نیب کے کسی اقدام سے تاجر برادری کیلئے مشکلات پیدا نہیں ہوئیں اور نہ ہوں گی ۔ بینک نادہندگی کے مقدمات میں نیب براہ راست کارروائی نہیں کرتا، سٹیٹ بینک یہ کیس نیب کو بھجواتا ہے، جب بینک اور صارف کے درمیان بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو وہ اس پر کارروائی شروع کرتے ہیں ۔ نیب نے بینک نادہندگی کے مقدمات میں بینک کی شکایت کے بغیر کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور نہ ہی اٹھائے گا، ایسے مقدمات بینکنگ کورٹس میں بھیجے جائیں گے ۔ نیب نے گزشتہ 22 ماہ کے دوران 71 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بر;200;مد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے جبکہ نیب کے 1230 بدعنوانی کے ریفرنس مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت 900 ارب روپے بنتی ہے ۔ نیب کی جانب سے بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کا مطلب مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے، قانون میں درج ہے کہ ان ریفرنسز کا فیصلہ 30 دن میں ہو ۔ نیب میگا کرپشن مقدمات کی تحقیقات کرتا ہے، یہ مقدمات پیچیدہ ہوتے ہیں ، یہ مقدمات لاہور سے شروع ہوتے ہیں اور ان کا سرا خلیجی ممالک میں جا کر ملتا ہے، ایسے ممالک میں بدعنوان عناصر نے املاک بنائی ہوتی ہیں جن سے پاکستان کا کوئی معاہدہ نہیں ہوتا، صرف مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے معلومات حاصل نہیں کی جاسکتیں ۔ نیب مختلف ممالک سے میوچل لیگل اسسٹنس کے تحت معلومات حاصل کرتا ہے، نیب کو بعض مقدمات میں بعض بڑے اور کچھ چھوٹے ممالک نے معلومات فراہم نہیں کیں ، یہ معلومات دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں ۔ نیب مقدمات کی تفتیش کے دوران کسی کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرتا، عزت و احترام اور وقار سے انہیں نیب میں بلایا جاتا ہے ۔ ملکی مفاد، ضمیر، پاکستان کی بہتری، معیشت کی بہتری، دیانتداری سے کام کرنے والے اور ہزاروں مزدوروں کو روزگار دینے والی بزنس کمیونٹی کو کسی صورت بھی ہراساں نہیں کیا جائے گا ۔ نیب کا کوئی بھی افسر کسی بزنس مین کو ٹیلی فون پر کال نہیں کرے گا اگر بلانا ضروری ہوا تو ڈائریکٹر جنرل ذاتی طور پر اس حوالے سے مطمئن ہوں گے تو نوٹس بھیجا جائے گا اور نوٹس بھیجنے کی وجوہات لکھی جائیں گی، نوٹس کا جواب دینا آپ کی ذمہ داری ہے، جواب میں تشنگی اور درست نہ ہونے پر بھی بزنس مین کو نہیں بلائیں گے بلکہ سوالنامہ بھیجیں گے ، سوالنامے کا جواب درست نہ ہوا تو پھر جواب دینے کیلئے بلائیں گے ۔ نیب میں مقدمات کو شروع اور ختم کرنے سے پہلے ان کے قانونی پہلوءوں پر غور کیا جاتا ہے ۔ میں ذاتی طور پرنیب آرڈیننس کے تحت کام کرنا اور بدعنوانی کا خاتمہ چاہتاہوں جس کو نیب افسران قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں ۔

ایف اے ٹی ایف

کی شرائط اور پاکستان

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے پاکستان کوشاں ہے ک اس سلسلے میں سرخرو ہو گوکہ بھارت پاکستان کے مخالف سرگرم ہے لیکن ابھی تک اسے ایف اے ٹی ایف میں قابل ذکر کامیابی نہیں ملی ہے ۔ مجموعی طورپر دیکھا جائے تو پاکستان کی کارکردگی بہتر ہے ۔ جن نکات پر ایف اے ٹی ایف نے تحفظات کا اظہار کیا ان پر بھی پاکستان کوشاں ہے کہ عملدرآمد کیا جائے تاہم ایشیاء پیسفک گروپ نے کہا ہے کہ ریگولیٹرز میں سوجھ بوجھ میں کمی ہے ۔ 40 سفارشات میں سے ایک پر مکمل عملدرآمد کیا گیا ہے ۔ 26 پر جزوی عمل کیا گیا ۔ چارسفارشات کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ یہ باتیں درست لیکن حکومت پاکستان تگ و دو کررہی ہے کہ جو بھی شرائط ملک و قوم کےلئے فائدہ مند ہوں ان پر قطعی طورپر عملدرآمد کیا جائے ۔ نیز ادھرایشیاپیسفک گروپ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 40 میں سے 36نکات پر پیشرفت کی جبکہ جوائنٹ ورکنگ گروپ نے واضح کیاکہ پاکستان نے 27 میں سے 10نکات پر مکمل، 10 نکات پر جزوی عمل درآمد کیاجبکہ 7نکات پرکچھ بھی عملدر آباد نہیں ہوا ۔ نیکٹا کی ویب ساءٹ فعال کرنا،نو یوئر کسٹمرز سے متعلق اسٹیٹ بینک کے اقدامات، ٹیرر فنانسنگ کیخلاف ڈومیسٹک ایجنسیوں کا موثر استعمال، اسٹیک ہولڈرز کو آگاہی مہم جیسے نکات پر پاکستان نے مکمل عمل درآمد کیا،ایشیا پیسفک گروپ نے مچوئل ایویلویشن رپورٹ 2019 جاری کردی ۔ رپورٹ ایف اے ٹی ایف کے آئندہ ہفتے اجلاس میں اہم کردار ادا کریگی ۔ ایشیاء پیسفک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے اہم نکات پر مکمل، جزوی اور بڑے پیمانے پر پیشرفت دکھائی، 228صفحات پر مبنی رپورٹ بعنوان مچوئل ایویلویشن رپورٹ 2019ایف اے ٹی ایف کے13سے 18اکتوبر تک پیرس میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی درجہ بندی کا تعین کرنے کے حوالےسے فیصلہ کرنے میں کردار اداکرے گی ۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان نے 40 میں سے جن 4نکات پر عمل درآمد نہیں کیا ان میں لیگل انتظامات کی بی او اینڈ ٹرانسپیرنسی شامل ہے ۔ آئندہ ہفتے پیرس میں ہونےوالے ایف اے ٹی ایف کےاجلاس میں پاکستان کی جانب سے وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں 5 رکنی وفد شرکت کریگا جبکہ اعلی فوجی حکام، ڈی جی ایف ایم یو اور دفتر خارجہ کا ایک نمائندہ بھی ان کے ہمراہ ہوگا ۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ ایشیا پیسفک گروپ کی میچوئل ایویلویشن اور جوائنٹ ورکنگ گروپ کے ذریعے جاری ایف ٹی ایف کے جائزوں میں تفریق کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ دونوں پروسس علیحدہ چل رہے ہیں ۔ پاکستان نے گزشتہ 4سے12ماہ کے دوران اچھی کارکردگی دکھائی اورایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نے کامیابی کیساتھ ایف اے ٹی ایف کے جوانٹ ورکنگ گروپ سطح کے تشخیص کاروں کو قائل کرلیا ہے ۔ ہماری کوششوں نے اس بھارتی لابی کو بے نقاب کردیا جو پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے کےلئے ایف اے ٹی ایف کو استعمال کر رہی تھی،انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی ایف اے ٹی ایف میں درجہ بندی کم نہیں ہوگی،اگر میرٹ پر بات کی جائے تو پاکستان نے جوائنٹ ورکنگ گروپس کے 27ایکشن پلان میں سےکم و بیش 20 نکات پرعمل درآمد کیا ،لہذا حکام چاہئیں گے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال کر گرین یا سفید لسٹ میں ڈالا جائے ۔

آزادی مارچ

اپوزیشن میں رابطے تیز

فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے اپنی اپنی جگہ تحفظات موجود ہیں کیونکہ یہ جماعتیں اس مارچ کی تاریخ کو آگے بڑھانا چاہتی ہیں نیز پیپلزپارٹی نے کہا ہے کہ وہ مارچ کی تو حمایت کرے گی لیکن وہ دھرنے کی حمایت نہیں کرے گی ۔ فضل الرحمن کو چاہیے کہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے اس مارچ اور دھرنے کے حوالے سے فیصلہ کریں اور وہی قدم اٹھائیں جس سے ملک اور قوم کو فائدہ ہو ۔ گوکہ اس حوالے سے اپوزیشن متحرک ہے اور ان کی ملاقاتیں بھی جاری ہیں ۔ ادھرپیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی میں ملاقات ہوئی ہے جس میں آزادی مارچ سے قبل آل پارٹیز کانفرنس یا رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے پراتفاق کیاگیا ۔ دونوں رہنماءوں کا کہنا تھا کہ وہ مولانا کا ساتھ دینگے ۔ فرحت اللہ بابر اور میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں ملکر حکومت کو گھربھیجیں گی، شفاف الیکشن وقت کی ضرورت ہے، موجودہ سیٹ اپ قبول نہیں ،فوج کی نگرانی کے بغیرالیکشن کرائے جائیں ۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کا کہناہے کہ آزادی مارچ کیلئے دی گئی تاریخ حتمی ہے، 27اکتوبر کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہونگے،اسلام آبادجانے سے روکاگیاتو پورا ملک جام کر دینگے ۔ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی میں ملاقات ہوئی ہےجس میں آزادی مارچ سے قبل آل پارٹیز کانفرنس یا رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے پراتفاق کیاگیا ۔ ملاقات میں رہبر کمیٹی یا اے پی سی بلانے پر اتفاق کیا گیا ہے، آزادی مارچ کو کیسے لےکرچلنا ہے یہ دیکھنا ہوگا،دیکھنا ہے ہم کس حدتک جا سکتے ہیں ،اپوزیشن متحدہے اور اس متحد رہنا ہوگا، شفاف انتخابات وقت کی ضرورت ہے اور انتخابات میں فوج کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے 27 اکتوبر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی تاریخ بن جائیگی اور وہ مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دینگے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative