Home » کالم » اداریہ » چیف جسٹس کا ایوان اقبالؒ میں تقریب سے خطاب
adaria

چیف جسٹس کا ایوان اقبالؒ میں تقریب سے خطاب

adaria

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے شہر مشرق کی برسی کے موقع پر ایوان اقبال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ مکمل طورپر آزاد ہے۔ انہوں نے کہاکہ میرا وعدہ ہے کہ ہم کسی کا دباؤ قبول نہیں کرینگے، ووٹ کی عزت لوگوں کو ان کا حق دینا ہے، کسی کی ہمت ہے مارشل لاء لگائے ایسا ہوا تو سپریم کورٹ کے 17ججز نہیں ہونگے،قائد کے پاکستان میں صرف جمہوریت رہے گی، عوامی نہیں ملک اور قوم کا چیف جسٹس ہوں، قوم کی سپورٹ نہ رہی تو منصب چھوڑ دوں گا، میرا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں پاپولر ازم پر لعنت بھیجتا ہوں، ملک میں قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے تصور کے مطابق جمہوریت رہے گی۔امتیازی کلچر کو ختم کرنا ہوگا، عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، کیا وہ پوری کی گئی؟، یہ میری ڈیوٹی ہے اور اس پر پرفارم کرنے کو تیار ہوں، اس میں میری مدد کریں اگر فیل ہوجاؤں تو اپنے آپ کو ساری زندگی معاف نہیں کر پاؤں گا، ووٹ کی قدر اور عظمت کی بات کی جاتی ہے تو لوگوں خدمت کریں انہیں وہ حق دیں جو انہیں آئین نے دیا ہے ۔ بد نصیب ہیں وہ لوگ جن کا اپنا ملک نہیں ہوتا ۔اتفاق سے گزشتہ رات ایک کتاب موصول ہوئی جس کا سرورق پڑھا، ایک فیملی بھارت سے پاکستان آرہی تھی تو صرف ایک بچی زندہ بچ گئی، اس بچی کانام کنیز تھا،مجھے جو کتاب موصول ہوئی وہ اسی نے لکھی تھی، اس بچی کنیز نے کتاب میں پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہدبیان کی۔علامہ اقبالؒ اورقائد اعظمؒ کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی کی وجہ سے ہمیں پاکستان کی صورت میں تحفہ مل گیا لیکن اس کی اتنی بے قدری ،کوئی اپنے ملک ،دھرتی ماں کی اتنی بے قدرتی کرتا ہے ۔اپنی ذاتی خواہشات ، مفادات ، اپنی تشہیر اور ذاتی دولت پر اسے قربان کر دیا گیا ۔ہم نے علامہ اقبال کے خواب کو چکنا چور کر دیا ۔ میری نظر میں سب سے اہم چیز تعلیم ہے، آج بہت سے قومیں تعلیم کی وجہ سے ترقی کے مینار قائم کر رہی ہیں ۔تعلیم سے متعلق کسی چیز پر سمجھوتا نہیں کروں گا، قوم کی بقا ء کیلئے تعلیم بہت ضروری ہے، کیا ہم نے ایسے موقع پیدا کیے جو بچہ ڈاکٹر بن کے ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہے اسے بلا سفارش یا ایسا تعلیمی نظام میسر ہو جہاں جاکر وہ تعلیم حاصل کرسکے۔ حکومت کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کی 80کنال اراضی مانگی جارہی ہے ، کیا کرنا ہے اس پر گرڈ اسٹیشن تعمیر ہونا ہے ۔ تعلیم کو فروغ دینے کی بجائے اسے تباہ کیا جارہا ہے ۔ ہم امتیازی کلچر کو ختم کریں گے۔ ایک بستہ ، ایک سکول، ایک یونیفارم ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ عوام کے بنیادی حقوق ہیں ۔ اس وقت کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں،پاپولر ازم پر لعنت ہے ۔ تعلیم سے بچوں کا مقدر ہے اور اسی کے ذریعے یہ خود کفیل ہو سکیں گے او راپنا روز گار کما سکیں گے۔ ہمارے ملک میں تعلیم کا یہ عالم ہے، بلوچستان میں 6 ہزار پرائمری سکول پانی اور بیت الخلا ء کے بغیر چل رہے ہیں ، بچیاں حاجت کے لیے فصلوں میں جاتی ہیں، پینے کے لئے پانی میسر نہیں ، پنجاب میں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے، خیبر پختوانخواہ گیا جہاں مجھے بتایا گیا وہاں بہت سے سکول ہیں جہاں پانی اور چار دیوار نہیں ہوسکی، یہ کون دے گا؟ ہمارا ٹیکس کا پیسہ تعلیم پر خرچ نہیں ہوتا تو کہاں ہوتا ہے۔یہ میری قوم اور میری نسلوں کا حق ہے انہیں تعلیم چاہیے ،جو والدین اپنے بچوں کو تعلیم دینے میں کوتاہی کررہے ہیں وہ مجرم ہیں۔ پہلے اپنے اوپر وہ کیفیت طاری کریں جس میں قوم کی خدمت کا جذبہ ہو، بنیادی حقوق دینے کا جذبہ ہو۔ امتیازی کلچر کو ختم کرنا ہوگا، بنیادی حقوق کی ذمہ داری کس کی ہے، کیا وہ پوری کی گئی، یہ میری ڈیوٹی ہے اور اس پر پرفارم کرنے کو تیار ہوں، اس میں میری مدد کریں اگر فیل ہوجاؤں تو اپنے آپ کو ساری زندگی معاف نہیں کر پاؤں گا۔اینکرز پرسن بھی تعلیم کے معاملے پر پروگرام کریں ۔انسان کی زندگی بہت نایاب اور قیمتی ہے، ہم کیڑے مکوڑے نہیں، کیا یہ زندگی بے چارگی، ماریں کھانے، کسمپرسی اور ناجائز قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لیے ہے ، زندگی بولنے کے لیے ہے لیکن جب کوئی بولنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بولنے نہیں دیا جاتا۔زندگی صحت کے ساتھ جڑی ہوئی، جس ہسپتال میں گیا وہاں ایم آر آئی مشین نہیں، سی سی یو نہیں، کہیں الٹرا ساؤنڈ مشین نہیں ۔چیف جسٹس کا خطاب پر تاثیر اور فکر انگیز ہے، حکومت اگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی تو چیف جسٹس کو عوامی حقوق کیلئے میدان میں نہ آنا پڑتا، تعلیم اور صحت کی فراہمی کے ساتھ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنا حکومت کی ذمہ داری قرارپاتی ہے، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف لوگوں میں عدم تحفظ کا احسا س پایا جاتا ہے تو دوسری طرف وہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، چیف جسٹس عوام کی چیخ و پکار پر توجہ دے کر ازخود نوٹس لے کر عوام کو حقوق دلانے میں مصروف ہیں، عوام کی نگاہیں بھی عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں، حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہے کاش ہماری حکومت اپنے فرائض کی ادائیگی میں تساہل پسندی کا مظاہرہ نہ کرتی، قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے تصور کے مطابق ملک میں جمہوریت رہنی چاہیے یہی ملک اور قوم کے مفاد میں ہے، آزاد عدلیہ کے آزادانہ فیصلے دوررس نتائج کے حامل ہیں۔ امتیازی کلچر ختم کیے بغیر تعلیمی ترقی ممکن نہیں ، قوم کی بقا کیلئے تعلیم بہت ضروری ہے۔

پاک افغان مسائل کے حل کیلئے و رکنگ گروپ بنانے پر اتفاق
پاکستان اور افغانستان دوطرفہ تجارتی مسائل حل کرنے پر رضا مند ہوئے ہیں یہ امر دونوں ملکوں کیلئے نیک شگون اور دور رس نتائج کا حامل ہے۔ ورکنگ گروپ بنانے کایہ فیصلہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں افغان وزیر خزانہ اکلیل احمد حکیمی اور پاکستان کے مشیر خزانہ مفتاح اسمعیل کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ ماہ مئی کے پہلے ہفتے میں ایک اور ملاقات کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔افغانستان کے ساتھ تجارتی مسائل کو حل کرنے کے لیے ملاقات میں پاکستانی وفد میں وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیور کے حکام شامل ہوں گے جبکہ افغان حکومت نے بھی اسی سطح کا وفد پاکستان بھیجنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔پاکستان نے افغان حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کم ہونے والی تجارت پر تشویش کا اظہار کیا تھا جبکہ کابل حکام نے پاکستان پر بھارت اور افغانستان کے درمیان زمینی راستے سے تجارت کی اجازت دینے پر زور دیا۔دوسری جانب پاکستانی حکام نے ملاقات کے دوران افغان حکام کو بتایا کہ ماضی میں ایسی تجارت نے پاکستان کے لیے کافی مسائل کھڑے کیے کیونکہ بھارتی اشیا افغانستان جانے کے بجائے پاکستان میں ہی فروخت ہونے لگی تھیں۔تاہم پاکستانی حکام نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ ایک مرتبہ یہ مسائل حل ہونے کے بعد پاکستان بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کے لیے اپنی سرحد کھول دے گا۔ملاقات کے دوران پاکستانی حکام نے افغان حکام کو بتایا کہ 11-2010 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2 ارب 40 کروڑ ڈالر تک تھا تاہم اب یہ کم ہو کر صرف 80 کروڑ ڈالر تک رہ گیا ہے۔ملاقات کے دوران پاکستانی حکام نے دوطرفہ تجارت میں کمی کے محرکات کے حوالے سے اپنے افغان ہم منصب کو آگاہ کیا تھا۔گزشتہ برس کابل نے افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈینیشن اتھارٹی(اے پی ٹی ٹی سی اے) کا اجلاس ملتوی کردیا تھا جو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مسائل حل کرنے کا اعلی سطحی فارم ہے۔پاکستان افغانستان خوشگوار تعلقات سے ہی خطے میں بہتری لائی جاسکتی ہے، پاکستان افغانستان سے ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہے، دوطرفہ تجارتی مسائل دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں اس سے خطے میں ترقی و خوشحالی کی راہیں ہموار ہونگی۔

About Admin

Google Analytics Alternative