Home » کالم » چینی قونصل خانے پر حملے کے پس پردہ محرکات
rana-biqi

چینی قونصل خانے پر حملے کے پس پردہ محرکات

rana-biqi

گزشتہ سے پیوستہ
جس میں اب سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک بھی سرمایہ لگانے کیلئے سامنے آ رہے ہیں ۔ البتہ امریکی حمایت یافتہ بھارت ایران چاہ بہار تجارتی منصوبہ خطے میں متبادل تجارتی روٹ کی حیثیت سے افغانستان اور وسط ایشیائی ملکوں میں بھی تاحال خدشات کا شکار ہے جبکہ سی پیک منصوبے کو وسط ایشائی ممالک سے لیکر روس تک پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے بلکہ یورپ اور برطانیہ میں بھی سی پیک منصوبے میں فراہم کی گئی تجارتی سہولتوں کو مثبت انداز سے دیکھا جا رہا ہے ۔ چنانچہ یہی وہ سیاسی چبھن ہے جسے بھارت ، اسرائیل و امریکا تکون جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے برعکس سمجھتے ہوئے بلوچستان اور کراچی میں نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی اور کنٹریکٹ دہشت گرد ایجنسیوں کے ذریعے سی پیک منصوبے کی اہمیت کم کرنے کیلئے ملک میں اندرونی خلفشار پھیلانے میں پیش پیش ہیں اور چینی قونصل خانے پر حملہ اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ درج بالا تناظر میں امریکا ، اسرائیل و بھارت کی حمایت سے نہ صرف بلوچستان کی نام نہاد آزادی کی جدوجہد کے نام پر فنڈز جمع کئے جا رہے ہیں جن کا بیشتر حصہ پاکستان بل خصوص بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کو جنم دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ اسرائیل میں گریٹر بلوچستان تحریک کے حامی میر آزاد خان بلوچ کی سرکردگی میں میں نام نہاد آزاد بلوچستان کا دفتر یروشلم میں قائم کیا گیاہے ۔ اگر گزشتہ عشرے میں بلوچ دہشت گردوں کی سیاسی و معاشی سپورٹ کے حوالے سے بیرونی صورتحال کا ایک غیر جانبدار جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان مخالف مخصوص مفادات کے پیش نظر امریکاو اسرائیلی ایجنسیوں اور بھارتی سفارتی مشن کی مدد سے امریکہ میں احمد مستی خان بلوچ کی قیادت میں بلوچ یہودی ہندو اتحاد قائم کیا گیا ہے جبکہ ڈاکٹر واحد بخش بلوچ امریکا میں ہندو ، یہودی کمیونٹی کی مدد سے بلوچستان کی نام نہاد آزادی کی تحریک کیلئے کام کر رہے ہیں جسے امریکا میں حق خوداختیاری کے تھنک ٹینک کے سربراہ والٹر لینڈری اور بھارتی راء کے سفارتی افسران و ریسرچ سکالرزپر مشتمل ساؤتھ ایشین ہندو تھنک ٹینک کی حمایت حاصل ہے اور جو ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں بلوچ شدت پسندی کو اُبھارنے میں پیش پیش ہیں۔ گو کہ پاکستان خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پُر جوش ہے اور جس کیلئے پاکستان فوج ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ پاکستانی عوام نے بھی ستر ہزار سے زیادہ افراد کی قربانی پیش کی ہے جسے دنیا مانتی بھی ہے لیکن امریکہ بھارت ا سرائیل اتحاد خطے میں اپنے مذموم سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان پر امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی پالیس پر بدستور قائم ہیں جسے گزشتہ دس برس میں بل خصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے دور میں معذرت آمیز پالیسی اختیار کئے جانے کے باعث فروغ حاصل ہوتا رہا ہے۔ البتہ ملک میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے قیام کے بعد اُس وقت تبدیلی کی فضا دیکھنے میں جب موجودہ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بھارت نواز بیانات کے بعد امریکہ کو صاف طور پر بتا دیا کہ موجودہ حکومت اب کسی بیرونی ملک کے جنگی عزائم کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ پاکستان کے مفاد کیلئے کام کریگی۔یہی فکر صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کے جواب میں پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیانات سے بھی جھلکتی ہے۔ حیرت ہے کہ خطے میں امن و امان اور جنوبی ایشیا کی اقوام کے درمیان امن و بھائی چارے کی فضا پیدا کرنے کیلئے پاکستان کی زبردست کوششوں کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی بدستور پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈے کو مہمیز دینے میں مصرف ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ یقیناًمبارک باد کے مستحق ہیں کہ اُنہوں نے امریکہ بھارت دفاعی و سیکورٹی اتحاد کی موجودگی میں پاکستان مخالف مذموم پروپیگنڈے کے باوجود ہمسایہ ممالک کی اقوام کے درمیان دوستی اور امن و امان کی پالیسی کو فروغ دینے کی کوششوں کوجاری رکھا ہے چنانچہ سکھ قوم کے متبرک تاریخی مقام گردوارہ بابا گرونانک کو نہ صرف 72 برس کے بعدکھول دیا ہے بلکہ بھارتی سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے کرتارپور سرحد سے چند کلو میٹر کی دوری پر گردوارہ بابا گرونانک تک پہنچنے کیلئے سڑک و ریل کی سہولتیں مہیا کرنے اور یاتریوں کے ٹھہرنے کیلئے ایک جدید ہوسٹل بنانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یقیناًحکومت پاکستان کا یہ اقدام خطے کی مذہبی قوتوں کے درمیان بھائی چارے کے جذبات کو تقویت پہنچانے کیلئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ پاکستان کیلئے پریشان کن بات یہی ہے کہ ماضی میں جنرل مشرف حکومت کی جانب سے افغانستان میں امریکا نیٹو اتحاد کی مدد کئے جانے کے باوجود امریکا ، اسرائیل اور بھارت خطے میں ایک گریٹر گیم پلان کے ذریعے افغانستان اور بھات کو مضبوط تر اور پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ پاکستان خطے میں پُر امن بقائے باہمی کے تحت امن و استحکام قائم کرنے کا حامی ہے؟خطے میں پاکستان کی امن کی خواہش کے جواب میں بھارت کا رویہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف جنگی جنون پر مبنی لگتا ہے جس کی تصدیق بھارتی آرمی چیف کے سرحد پار حملے کرنے کے متعدد دھمکی آمیز بیانات اور کشمیر کنٹرول لائین کی ایک تسلسل سے خلاف ورزی سے بھی ہوتی ہے جبکہ بھارت میں 2014 کے عام انتخابات سے قبل راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) کے چیف ڈاکٹر موہن بھگوت، سنگھ پریوار کی تمام جماعتوں کے اشتراک عمل سے ماضی میں کہہ چکے تھے کہ انتخابات کے بعد نریندر مودی کے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کی صورت میں بھارت ماتا کے سیکولر کردار کو حقیقی معنوں میں ہندو ریاست میں تبدیل کر دیا جائیگا ۔ چنانچہ مودی سرکار کے قیام کے بعد آر ایس ایس کی فکر کو آگے بڑھانے کیلئے بھارت میں مسلمانوں عیسائیوں اور دلتوں کے خلاف تعصب کی آگ کو اسقدر پھیلایا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسند سنگھ پریوار کے عسکریت پسند گروپوں نے بھارتی پولیس کی خاموش حمایت سے مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے کے ناکردہ جرم میں اُن کے گھروں کے دروازوں پر تشدد کرکے موت کے گھاٹ اُتارنے سے بھی گریز نہیں کیا جبکہ اِسی شدت پسندانہ سلوک کا مستحق عیسائی مشنری کی ٹیموں ، پادریوں اورد لتوں کو سمجھا جا رہا ہے ۔ اِسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ بھارتی فوج کی مدد سے شیو سینا، بجرنگ دل، ویشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے متعصب انتہا پسند ہندو گروپ، شدت پسندی کی اِسی آگ کو مقبوضہ کشمیر کے طول و ارض میں پھیلانے میں بھی پیش پیش ہیں ۔ بھارتی مسلمان جو اپنی مذہبی رسومات چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ بھارت چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں جبکہ مسلم دانشوروں کو کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو وہ ہندوازم سے اپنے روابط استوار کریں اور اسلامی اصطلاح استعمال کرنے کے بجائے بھارتی تہذیب کیمطابق ہندو بھارت میں اپنے آپ کو محمڈن ہندو کہلوائیں ۔ حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے بھارتی مسلما ن سیاسی رہنما اکبرا لدین اویسی نے اِس اَمر کی تصدیق کی ہے کہ بھارتی انتہا پسند ہندو تواتر سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ مسلمان ہیں تو پھر وہ پاکستان چلے جائیں ۔ اِسی فکر کے تحت نریندرا مودی حکومت ایک مرتبہ پھر انتخابات 2019 کی الیکشن مہم جوئی میں پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈے میں مصروف ہے حتیٰ کہ کرتار پور سرحد کھولنے کی تقریب میں بھی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے نہ صرف پاکستان آنے سے گریز کیا بلکہ ایک مرتبہ پھر اعلان کر دیا کہ بھارت پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کریگا جس سے بھارت کے خطے میں مذموم عزائم کا بخوبی ادراک ہوتا ہے۔ صد افسوس کہ پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی پالیسی کو فروغ دینے کی بہترین کوششیں کئے جانے کے باوجود جنوبی ایشیا میں امریکا، بھارت ، اسرائیل اتحاد بھارت کو خطے پر مسلط کرنے اور پاکستان کو بھارت کی طفیلی ریاست بنانے میں مذموم کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ بھارت نے نریندرا مودی کی قیادت میں سابق وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کی فیملی سے دوستی کا لبادہ اُوڑھ کر اینٹی پاکستان فکر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور جناح و اقبال کی اسلامی تمدن کی فکر کو بھی ہندوازم میں جذب کرنے کیلئے پر تولتا رہا ہے۔چنانچہ پاکستان میں گزشتہ عشرے کی جمہوری حکومتوں نے صورتحال کی نزاکت کو سمجھنے اور فکرِ جناح و اقبال کو وفاق اور صوبائی سطح پر متحرک کرنے کے بجائے پاکستان میں نئی نسل کے طلبأ و طالبات کو دین اسلام اور تحریک پاکستان سے نابلد رکھنے کیلئے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں مغربی سیکولرازم کو تقویت پہنچانے کیلئے تبدیلی کی ابتدا کی گئی جسے مملکت خدادداد پاکستان کی سلامتی کے منافی ہی سمجھا جانا چاہیے۔ البتہ عمران خان کی نئی وفاقی حکومت کے آنے کے بعد عوام کو یقین ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف جناح و اقبال کی فکرِ اسلامی کو آگے بڑھانے میں موثر کردار ادا کریگی بلکہ چین پاکستان سی پیک منصوبے کے خلاف بھارتی تخریب کاری کا بھی موثر تدارک کرتی رہیگی کیونکہ سی پیک منصوبہ ہی پاکستان کی معاشی ترقی کا ضامن ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative