Home » کالم » چین کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ
adaria

چین کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ

چین کے صدر نے دورہ بھارت سے قبل مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی قیادت سے ملاقات کا اہتمام کیا اور دورہ چین کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کے سفیر ہونے کا حق ادا کردیا ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اس سطح پر اجاگر کیا جہاں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔ چین کے صدر کے دورہ سے قبل عمران کا دورہ ،چینی صدر و دیگر چینی رہنماءوں سے ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل رہیں اور اس موقع پر چین نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ بھارتی وزیراعظم مودی کے سامنے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے باقاعدہ آواز اٹھائیں گے ۔ وادی میں بھارت کی دہشت گرد لاکھوں فوج نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے ۔ چین نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات ضروری ہیں ۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین سی پیک میں توسیع کیلئے تیار ہے اقتصادی راہداری سے علاقائی ترقی تیز ہوگی ، چین پاکستان کی ترقی اور بہتری کےلئے ہر طرح سے مدد کرے گا،پاکستان ادارہ جاتی اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کی طرف بھرپور طریقے سے بڑھ رہا ہے پاکستان کے ساتھ شراکت داری چٹان کی طرح مضبوط اور لافانی ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ سی پیک منصوبوں کی تیزی سے تکمیل ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے چین پاکستان کا ثابت قدم اتحادی اور مضبوط شراکت دار اور آئرن برادر ہے چین کے مالیاتی تعاون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار دونوں رہنماءوں نے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کیا ۔ ملاقات کے بعد چین کے صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم کے اعزاز میں ظہرانہ دیا ۔ اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہاکہ چین نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی اقتصادی و قومی ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے پاکستان مشکل اقتصادی حالات سے نکل چکا ہے اس حوالے سے ہم چین کے مالیاتی تعاون کو کبھی فراموش نہیں کریں گے ،چین نے ہماری غیرمشروط معاونت کی کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا ۔ عمران خان نے کہا کہ مسلسل لاک ڈاءون کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سنگین انسانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے وہاں سے کرفیوفوری طور پر اٹھایا جائے ۔ صدر شی جن پنگ نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بنیادی قومی مفاد کے تمام معاملات پر چین کی طرف سے غیر متزلزل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری چٹان کی طرح مضبوط اور لافانی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلق مستقبل میں مزید گہرا اور وسیع ہوگا ۔ صدر شی جن پنگ نے سی پیک منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، صدر شی جن پنگ نے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان ادارہ جاتی اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے حصول کی طرف بھرپور طریقے سے بڑھ رہا ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے اختتام پر بیجنگ میں جاری ہونے والے مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان اور چین نے سی پیک کی جلد سے جلد تکمیل کا اعادہ اور خصوصی اقتصادی زونزکے فوری قیام اور بجلی ، پیٹرولیم ، گیس،زراعت تجارت دفاع تعلیم اور صنعتی شعبے میں تعاون بڑھانے، چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر جلد عمل درآمد، پاک چین مشترکہ اقتصادی تجارتی کمیشن سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کرلیا اور یہ فیصلہ کیاہے کہ پاک چین کوآپریشن کمیٹی کا نواں اجلاس نومبر میں اسلام آباد میں ہوگا ۔ چین نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زوردیاکہ وہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کرے ۔ چینی قیادت نے کہا کہ چین مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، مسئلہ کشمیر تاریخ کا ادھورا چھوڑا ہوا تنازعہ ہے، اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جبکہ پاکستان نے اس امر کو دہرایا کہ ہانگ کانگ کے معاملات چین کا اندرونی معاملہ ہے، دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔ عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کیاچیانگ کی دعوت پر چین کا8 سے 9اکتوبر تک کادورہ کیا ۔ وزیراعظم نے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ ،چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور نیشنل پیپلزکانگریس کے چیئرمین سے ملاقات کی ۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین سے دونوں دوست ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزیدمستحکم ہوں گے ۔ چینی سرمایہ کاروں نے ملک میں معاشی استحکام لانے کے لئے پاکستان میں سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے اور وزیراعظم کے دورے سے ثابت ہواہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں میں کوئی سست رفتاری نہیں آئی ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں چین نے عالمی برادری پر زور دیاکہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرانے کے لئے بھارت پر دباءو ڈالے ۔ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطے میں امن وخوشحالی اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اورکشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیرحل کئے بغیرممکن نہیں ۔

ملک بھرکے تاجروں کاحکومتی معاشی پالیسیوں پرعدم اعتماد

ایف بی آرکے ٹیکسز، خرید و فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط اور مذاکرات میں حیلے بہانوں سے اکتائے ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر اسلام آباد میں احتجاج کیا ۔ ملک بھر سے آئے ہوئے تاجر ہاکی گراءونڈ میں جمع ہوئے جہاں سے شرکا نے ایف بی آر کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے کیلئے مارچ شروع کیا تو سرینا چوک پر انہیں روک دیا گیا ۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے آگئے جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جبکہ تاجروں نے پتھرا ءوکیا اور سرینا چوک پر لگی خار دار تاریں پھلانگنے اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی ۔ مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراءو کیا ۔ ایف بی آر حکام سے مذاکرات ناکام ہونے پر انجمن تاجران نے 28 اور 29 اکتوبرکو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا ،صورتحال کے پیش نظر واٹر کینن جبکہ پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی ۔ تاجر رہنماءوں کا کہنا ہے کہ وہ شناختی کارڈ دیں گے اور نہ ہی ٹیکس رجسٹریشن کروائیں گے ۔ تاجر رہنماءوں کا کہنا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر خود آکر مذاکرات کریں ، فکس ٹیکس سمیت مطالبات پورے ہونے تک احتجاج ختم نہیں ہوگا، عمران اور ان کی ٹیم کو معیشت کی الف ب کا پتہ نہیں ، نا دیدہ مشیر کاروبار کیساتھ ملک تبا ہ کر رہے ہیں ۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر سے روزانہ ایک گھنٹہ جبکہ 28 اور 29 اکتوبر کو 2 روزہ ملک گیر ہڑتال کی جائے گی،تاجر رہنمانے کہا کہ وہ شناختی کارڈ کی شرط کو نہیں مانتے اورحکومت جو مرضی کر لے ہم شناختی کارڈ نہیں دیں گے،اجمل بلوچ نے کہا ہے کہ وزرا کہتے ہیں تاجر چور ہیں ، کل عمران خان خود کہتا تھا ایف بی آر چور ہے ۔

سانحہ گولڈن ٹیمپل، برطانوی کمیشن کی رپورٹ، پاکستان کلیئر

بھارت کو ہر قدم پر شکست فاش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ سفارتی سطح پر مودی کو تاریخی ناکامیوں کا سامنا ہے گولڈن ٹیمپل سانحہ کے حوالے سے بھارت نے جو الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا ۔ اس سلسلے میں برطانیہ نے پاکستان کو کلین کردیا ۔ اس بات سے واضح ہوگیا ہے کہ دراصل دہشت گرد بھارت ہی ہے ۔ خود حالات خراب کرکے پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے اسی طرح ایل او سی پر بھی بلا اشتعال شر انگیزیاں کرکے شوروغوغا مچاتا رہتا ہے لیکن برطانوی کمیشن کی رپورٹ کے بعد تو بھارت کا غیر جمہوری چہرہ مزید بے نقاب ہوگیا ہے ۔ جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگانے والا بھارت پھر دنیا بھر میں رسوا ہوگیا ۔ برطانوی حکومت کے مالی تعاون سے متعلق کمیشن برائے انسداد انتہا پسندی نے مودی حکومت کا چہرہ اور داغ دار کردیا ۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کمیشن کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سکھ اگر بھارت سے الگ ریاست چاہتے ہیں تو اس کی پشت پر کسی صورت پاکستان نہیں بلکہ خود سکھوں کو لگتا ہے کہ بھارت میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک اختیار کیا جارہا ہے ۔ سکھوں کو پاکستانی ایجنٹ کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔ اسی کی دہائی سے سکھوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے الگ وطن کےلئے تحریک چلائی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انیس سو چوراسی میں سکھوں کی عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر حملے کے بعد بھارت سے نفرت میں مزید اضافہ ہوا ۔ مودی کے دوبارہ اقتدار میں ;200;نے کے بعد اب خالصتان تحریک میں اس لیے بھی اور تیزی ;200;ئی ہے کیونکہ بھارت میں انتہا پسندی کا جن بے قابو ہوچکا ہے ۔ ہندوتوا کا نظریہ عام ہورہا ہے ۔ بھارتی حکومت کئی برسوں سے یہ الزام لگاتی ;200;رہی ہے کہ خالصتان تحریک کی پاکستان پشت پناہی کررہا ہے لیکن برطانوی ادارے کی اس رپورٹ کے بعد متعصب مودی حکومت کا یہ الزام بھی جھوٹا ثابت ہوگیا ۔ بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بھی اس بھارتی طرز عمل پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔

پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کی دوررس نتاءج کی حامل گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹراور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف وہ ہے جو ہوتا نظر آئے ،کام بھی ہوتا نظر آنا چاہیے،ملک کی معاشی صورتحال کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہیں ،عمران خان نے سلامتی کونسل میں اچھی تقریر کی ، اس کا فالو اپ بھی آنا چاہیے،چین ہمارا دوست ہے ، چین کو ہماری ہر پریشان کا احساس ہے، چین نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی کھل کر حمایت کی ہے،پاکستان کی معیشت کا پہیہ رئیل اسٹیٹ اور سٹاک مارکیٹ کے ذریعے چلتا ہے،ٹیکس نیٹ ورک بڑھنا چاہیے،ڈرانے اور خوف پھیلانے سے ٹیکس نیٹ نہیں بڑھتا،حکومت اور تاجروں کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات ہونے چاہئیں ، وزیراعظم نے دورہ چین میں بھی کشمیر کے حوالے سے بات کی ہے ۔ پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے سابق نگران وزیر دفاع جنرل (ر)نعیم خالد لودھی نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے اعلامیہ میں مثبت چیزیں سامنے آئی ہیں ،صرف سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جا سکتا،ان دنیا کشمیر یوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سے نہیں جوڑ سکے گی،مودی کے اندازے غلط ثابت ہوں گے، کشمیریوں کی جدوجہد دبائی نہیں جا سکتی ۔ چیئرمین آ ل کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اربوں روپے کمانے والے لوگ ٹیکس دینے کیلئے تیار نہیں ہیں ،ایف بی آر ،آئی ایم ایف کی ایماء پر یورپ طرز کا ٹیکس نظام لانا چاہتی ہے،ملک بھر کے چھوٹے تاجر پر اتنا بوجھ ڈالنا چاہیے جتنا ٹیکس آسانی سے ادا کر سکیں ،ملک میں کاروبار منجمد ہے، کاروباری افراد شدید پریشانی کا شکار ہیں ،حکومت کو چاہیے کہ پہلے کاروباری سرگرمیاں بحال کرے پھر ٹیکس لے ۔ چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ پنجاب سردار تنویر الیاس نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ،صحت اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے،پرویز مشرف دور میں بھی ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوشش پر عوام کا شدید رد عمل آیا،سمگلنگ کی وجہ سے بھی ملکی معیشت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے،ملک میں ریٹیلرز کے پاس گاڑیاں اور بڑے بڑ گھر ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے،تاجروں کے مسائل ہڑتالوں اور دھرنوں سے حل نہیں ہوں گے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative