Home » کالم » ڈالر اور مہنگائی، حکومتی اور عوامی مشکلات

ڈالر اور مہنگائی، حکومتی اور عوامی مشکلات

ڈالر کی قدر میں روز افزوں اضافہ جاری ہے ۔ جس کے اثرات سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے ۔ مہنگائی میں روز بروز اضافہ نے عام لوگوں کا جینا دو بھر کر دیا ہے ۔ عام تاثر یہ ہے کہ ڈالر آہستہ آہستہ مارکیٹ سے غائب ہو رہا ہے ۔ گزشتہ دنوں یہ بھی اطلاعات تھیں کہ حکومت نے ایک ارب ڈالر نجی بینکوں اور مارکیٹ سے اٹھایا ہے ۔ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان سے بڑے پیمانے پر ڈالر افغانستان سمگل ہو ہرا ہے ۔ ڈالر کی قدر میں بڑھتے اضافے کو دیکھتے ہوئے کئی لوگوں نے ڈالر خرید کر زخیرہ کر لیا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں کےا حقیقت ہے اور حکومت اس بارے میں کیا کر رہی ہے ۔ ابھی تک حکومت کی طرف سے کچھ نہیں بتایا جا رہا ۔ کیا یہ تاثر درست ہے کہ سب کچھ حکومتی منشاء کے مطابق ہے ۔ اور یہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیئے گئے معاہدے کو نہ تو ابھی تک پارلیمنٹ میں لایا گیا ہے جس کا اپزیشن نے بار بار مطالبہ بھی کیا ہے ۔ نہ ہی اس معاہدے کے بارے میں عوام کو بتاےا گیا ہے ۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ کیئے گئے معاہدے کے بارے میں کچھ چھپا رہی ہے ۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ ابھی فائینل نہیں ہواہے ۔ فی الحال یہ معاہدہ صرف شرائط پر رضامندی کا اظہار ہے ۔ یعنی حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط تسلیم کی ہیں ۔ معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کے مجاز بورڈ کی اجازت سے ہوگی ۔ اور توقع ہے کہ معاہدے کی اگر منظوری دی گئی تو اسی سال جولائی میں قرضے کی پہلی قسط پاکستان کو مل سکتی ہے ۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے میں یہ شامل ہے کہ ڈالر کی قیمت کا تعین سٹیٹ بینک نہیں کرے گا بلکہ یہ تعین مارکیٹ کے مطابق کیا جائے گا ۔ دوسرے الفاظ میں ڈالر کی قیمت کا تعین حکومتی دائیرہ اختیار سے نکل کر اوپن مارکیٹ کو دیا جائے ۔ اور حکومت نے دیگر شرائط کی طرح اس پر عمل درآمد شروع بھی کر دیا ہے ۔ جس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ تبدیل کیا ۔ ایف بی آر کے چیئر مین کو تبدیل کیا ۔ لیکن صورتحال جوں کی توں ہے ۔ اور تمام تر کوششوں کے باوجود تبدیلی نا ممکن نظرآتی ہے ۔ اگر معاہدے کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو چھ ارب ڈالرز مل بھی جائیں تب بھی مہنگائی میں کمی نہیں آسکتی ۔ کیونکہ ڈالر کی قیمت کے تعین کے لیئے حکومت جس شرط پر راضی ہوئی ہے اور اس پر عمل درآمد بھی کیا گیا ہے اس کی وجہ سے مہنگائی میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ تو ہوگا لیکن کمی ممکن نہیں ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈالر کی بڑھتی قیمت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگوں نے ڈالر خرید کر زخیرہ کر لیا ہے ۔ ڈالر کی بیرون ملک سمگلنگ کو بھی نظر انداز نہیں کیا سکتا ۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے پورے ملک میں مہنگائی کا سونامی آیا ہے ۔ اور روز مرہ استعمال کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں ۔ ہر ہفتے بجلی،گیس اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں بے حد اضافہ کر دیا ہے ۔ حکومت کی نہ کوئی واضح معاشی پالیسی ہے نہ مہنگائی کے خاتمے کے لیئے کوئی اقدامات ہیں ۔ رمضان بازاروں کے نام پر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی بھی سراب ثابت ہوا ۔ جب حکومت خود بجلی،گیس،پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرتی جائے گی تو ایسی حکومت مہنگائی کو کیسے قابو میں لا سکتی ہے ۔ خود سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ مالیاتی خسارہ 2;46;3 فیصد سے بڑھ کر 2;46;7 فیصد ہو گیا ہے ۔ مہنگائی کی شرح8;46;8 فیصد تک ہے ۔ اور ان تمام اعشاریوں میں مزید اضافہ ہوگا ۔ صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ ملک میں جاری134 ترقیاتی اسکیموں کی لاگت میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے 9 کھرب 45 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ کی صورت میں اس لاگت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ریلوے کو 3;46;5 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے ۔ اس کے علاوہ اب ریلوے کے لیئے جو نئے انجن خرید نے کا منصوبہ ہے ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے انجنوں کی خریداری کی تخمینہ لاگت میں 32سے 79 کروڑ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ اسی طرح نیلم جہلم منصوبہکی لاگت میں چار سو ارب روپے کے لگ بھگ اضافہ ہوا ہے ۔ اسی طرح دیگر تمام 134 منصوبوں کی لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ ایک مفتی صاحب نے کہا ہے کہ ڈالر زخیرہ کرنا شرعی طور پر گناہ ہے ۔ شرعی طور پر ملاوٹ ۔ کم ناپ تول اور اجناس کا زخیرہ کرنا بھی گناہ ہے ۔ اس کے علاوہ کئی کام گناہ ہیں ۔ اور یہ سب کو پتہ بھی ہے کہ لیکن عمل کون کرتا ہے ۔ جب تک حکومت کی طرف سے سخت قوانین اور عمدرآمد نہ ہوں ۔ اس وقت ملک جس بدترین معاشی بحران کا شکار ہے اور اس سے جس طرح ہر پاکستانی خصوصاً غریب عوام بری طرح متاثر ہیں ۔ اس میں ڈالر ہو یا اجناس ہوں ذخیرہ کرنا نہ صرف شرعی طور پر بہت بڑا گناہ ہے بلکہ یہ ملک کے ساتھ غداری کے بھی مترادف ہے ۔ کیونکہ جو بھی ایسا کوئی قدم اٹھائے گا جو بھی ایسا کام کرے گا جس سے ملک و قوم کو نقصان پہنچتا ہو وہ غداری کے زمرے میں آئے گا ۔ اس لیئے ڈالر اور اجناس زخیرہ کرنا معاشی دہشت گردی اور ملک و قوم کے ساتھ واضح طور پر غداری ہے ۔ اگر حکومت چاہے تو ایسے زخیرہ اندوزوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہے ۔ اور اس طرح اربوں ڈالرز برآمد ہو سکتے ہیں ۔ ملک میں جاری ناقابل ِبرداشت مہنگائی اور معاشی بحران شاید حکومت کے لیئے مزید مشکلات پیدا کریں ۔ اور حکومت کا برقرار رہنا مشکل ہو جائے ۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے آچکا ہے ۔ اور بجٹ کے بعد اس میں بہت بڑی گراوٹ آسکتی ہے ۔ عمران خان کو ووٹ دینے والے اور ان کے ہمدرد سب اب پچھتاوے کا کھلے عام اظہار کر رہے ہیں ۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے یک زبان ہو کر عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ حکومت کی حامی جماعتوں کی عوام میں ایسی پوزیشن نظر نہیں آتی کہ وہ حالات پر قابو پا سکیں گے ۔ اس کے علاوہ حکومت کی حامی جماعتوں میں بھی مہنگائی میں پستے عوام سے ہمدردی میں کوئی شک شبہ نہیں ہے ۔ حکومت کے ساتھ کئی معاملات میں میں ان کے تحفظات بھی اپنی جگہ قائم ہیں ۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت عید کے بعد وزارتوں اور بعض اہم عہدوں میں تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے ۔ لیکن یہ سب کچھ مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے حکومت کے غلط فیصلوں اور ناکامی کی غمازی ہوتی ہے ۔ ان تمام مذکورہ عوامل کو دیکھتے ہوئے کہیں سے کسی بہتری کی امید نظر نہیں آتی ۔ جب تک کہ حکومت کے ایسے اقدامات نظر نہ آئیں جن سے عوام مطمئن ہو جائیں ۔ ما جولائی سے اندازہ ہونا شروع ہو جائے گا کہ حالات کس طرف جا ہرے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative