Home » کالم » ڈالر سے جان چھڑانی ضروری ہے

ڈالر سے جان چھڑانی ضروری ہے

یہ حقیقت ہے کہ ڈالر کی بلند پروازنے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگیوں کو بھی اجیرن کردیا ہے ۔ گو کہ حکومت نے زیادہ منافع کے حصول کےلئے ڈالر ذخیرہ کرنے والوں کو سزا کی دھمکی کے باعث ڈالر کی روزبروز بڑھتی ہوئی قیمت کو روکنا ممکن ہوا ہے ۔ معیشت کو مستحکم بنانے کےلئے حکومت کو مزید موَثر اور بروقت اقدامات کرنے ہوں گے ۔ تبھی ہم معاشی و اقتصادی بحران سے بخوبی نکلنے کے قابل ہو سکیں گے ۔ ہمارے ہاں جب بھی سیاسی، اقتصادی یا معاشی طور پر غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو امرا ء اور سرمایہ دار طبقہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ۔ ڈالر کی چوربازاری اور دھڑا دھڑ خریداری کر کے وہ اپنے آپ کو تو مستحکم کر لیتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ ایسا کرنے سے ملک کتنا کمزور ہوجاتا ہے ۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ۔ ڈالر کی قلت کے بعد اس کی قیمت میں اضافہ ہونا ہی تھا ۔ پھر روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بھی ڈالر کی قیمت میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ۔ زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ گئے ۔ غیرملکی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ۔ ان حالات میں بالآخر حکومت کو ہی الیکشن لینا پڑا تو ڈالر کی قیمت میں کمی ممکن ہو سکی ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے بے لگام عناصر کو بھی لگام ڈالے جو ملک و قوم کے مفاد سے زیادہ اپنے ذاتی مفادات کو عزیز رکھتے ہیں تاکہ کسی معاشی بحران میں یہ لوگ مزید اضافے کا باعث نہ بن سکیں ۔ اصل میں ہم تیل، ایل این جی، کھانے کی اشیاء ، زرعی اشیاء ، کوکنگ آئل سمیت کئی چیزیں درآمد کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ سی پیک کے پروجیکٹس کے حوالے سے مشینریاں بھی درآمد کی جارہی ہیں ۔ اس وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ قدرتی تھا ۔ اگر ہم نے اپنے امپورٹ بل کو کم کرنے کی کوشش نہیں کی اور برآمدات کو نہیں بڑھایا تو صورتحال ایسی ہی رہے گی ۔ اس سے بچنے کےلئے بیرونی سرمایہ کاری ملک میں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ہماری برآمدات بڑھ سکتی ہیں ۔ بڑے ممالک اگر اپنی صنعتیں یہاں لگاتے ہیں ، ہمارے سرمایہ کار اپنی مسابقانہ صلاحیت بڑھاتے ہیں اور اگر ہم زیادہ مصنوعات ایکسپورٹ کرتے ہیں تو یقیناً اس سے ہم کو فائدہ ہوگا اور ہمارا تجارتی خسارہ کم ہوگا، جس سے ہماری کرنسی بھی مضبوط ہو سکتی ہے ۔ جب دو ہزار آٹھ میں سرمایہ دار ممالک میں بحران آیا تو انہوں نے فری مارکیٹ اور آزاد تجارت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کئی اداروں اور بینکوں کو قومی ملکیت میں لیا ۔ تو ہم بھی وقتی طور پر ایسا کر سکتے ہیں اور آئندہ ایسی پالیسیاں بنائیں جو ملکی معیشت اور ملک کے لئے بہتر ہوں نہ کہ کچھ مالیاتی اداروں کے لئے ۔ اس کےلئے ہ میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کو خصوصی اختیارات دینے ہوں گے کہ وہ ڈالر کے کاروبار میں ضامن کا کردار ادا کرے ۔ پرائیویٹ کمپنیوں کی بجائے ڈالر سٹیٹ بنک جاری کرے ۔ جس سے ڈالر کی آزادانہ خرید و فروخت ختم ہو جائے گی ۔ اگر کسی شخص کو ڈالر کی ضرورت ہو تو سٹیٹ بنک ہی اس کی ضرورت کے مطابق اسے ڈالر فراہم کرے ۔ یوں زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم نہیں ہوں گے اور بحران بھی نہ پیدا ہوگا ۔ عوام کو ڈالر کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے ۔ ایک وقت تھا جب برطانوی سامراج دنیا میں طاقت کی علامت تھا ۔ اسی لیے 20ویں صدی کے آغاز تک دنیا میں سکہ راءج الوقت یا یوں سمجھیں کہ دنیا کی طاقتور ترین کرنسی برطانوی پاوَنڈ تھی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک طرف تو یورپی معیشتیں تباہ ہو چکی تھیں اور دوسری جانب امریکہ مغرب میں بڑی عالمی طاقت بن کر ابھرا اور امریکی ڈالر دنیا کی ریزروو کرنسی بن کے سامنے آیا ۔ دنیا میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس کے تحت دو ممالک کے درمیان لین دین کا ڈالر میں ہونا ضروری ہو ۔ اگر پاکستان اور چین آج طے کر لیں کہ وہ چینی کرنسی یوآن میں ایک دوسرے سے لین دین اور تجارت کریں گے تو ان دو خود مختار ریاستوں کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ ماضی میں کئی مرتبہ ایسی کوششیں ہو چکی ہیں کہ لین دین اور تجارت کرنے کےلئے ڈالر کا استعمال ترک کر دیا جائے ۔ تو اس صورت میں یہ لازم ہوگا کہ آپ دنیا کے ہر ملک کے ساتھ الگ الگ تجارتی معاہدہ کریں ۔ اسی طرح ہم ڈالر سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں ۔ موجودہ صورتحال میں ہ میں اپنے دوست ملک ترکی کی طرح ڈالربائیکاٹ مہم کیلئے متحد ہونا ہوگا اور ملک اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ڈالرکے بدلے پاکستانی روپے کوترجیح دیں اوراسے قومی تحریک بنانا ہوگا ۔ جن کے پاس گھروں میں ڈالرموجود ہے وہ باہر لائیں اور ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو بچانے میں اہم کردار ادا کریں ۔ اب ڈالرگراوَ اورپاکستانی روپے کواٹھاوَکا نعرہ لگانے کا وقت آگیا ہے ۔ نفع کیلئے ڈالرخریدنا ملک کیساتھ بے وفائی ہے ۔ پاکستان اس وقت مشکل ترین معاشی بحران کا شکارہے ہم سب کوڈالر بائیکاٹ مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے ۔ بحیثیت پاکستانی ہ میں چاہیے کہ کچھ عرصہ کےلئے ڈالرز کی خریدو فروخت بند کر دیں ۔ پاکستان اسوقت مشکل ترین معاشی بحران کا شکار ہے اور اس مشکل وقت میں ڈالر کی خریدوفروخت صرف اور صرف اس لئے کی جائے کہ اسکو بیچ کر کاروبار کی غرض سے منافع کمانا مقصود ہو تو یہ ملک پاکستان سے غداری کے مترادف ہے ۔ غیر ملکی کرنسی ایکسچینج ڈیلرز صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں انکو روکا جائے ۔ ہم سب کواس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ ڈالر کا بائیکاٹ کرنا ہے اور پاکستان روپے کی قدر کو بڑھانا ہو گا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative