Home » کالم » ڈالر کی پرواز روکنے کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت
adaria

ڈالر کی پرواز روکنے کیلئے منصوبہ بندی کی ضرورت

adaria

پاکستان کی تاریخ میں روپے کی جس انداز میں بے قدری ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ، ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ ابھی اس میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ آئی ایم ایف کا وفد جب پاکستان آیا تو اس نے کچھ شرائط عائد کی تھیں یوں تو حکومت نے بہت مصمم ارادے ظاہر کیے تھے کہ وہ کسی صورت آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے مگر مجبوری ایسی آن پڑی کہ جب عنان اقتدار چلانے کیلئے اسباب ہی نہ رہیں ہوں تو پھر آخر کیا کرتے، مجبوراً آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ، ڈالر کی اس پرواز کے بعد بیرونی قرضوں میں 902ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوئی، سونا 62 ہزار روپے فی تولہ ہوگیا، اب اس قدر مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے جس کے آگے بند باندھنے کیلئے حکومت کو باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا ہوگی، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے کتنا بیل آؤٹ پیکیج لیتی ہے اگر تو یہ 10ماہ تک محیط ہے تو پھر حکومت کو مزید ایک سال قدموں پر کھڑے ہونے کیلئے مل جائے گا اگر اس سے زیادہ عرصہ جو کہ دو یا تین سال پر محیط ہوا تو حکومت کو زیادہ مسائل درپیش ہوں گے، ڈالر کے اضافے کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو جائے گا، کہایہ جارہا ہے کہ ڈالر کی پرواز یہاں نہیں رکے گی یہ 140یا 150 تک جاسکتا ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قبل حکومت نے بہت ہاتھ پاؤں مارے کے اسے دائیں بائیں سے امداد مل جائے لیکن کہیں سے بھی خاطر خواہ امید نہ ہوسکی اس کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ کچھ ممالک سے ہماری بات چیت چلی ان کی ایسی شرائط تھیں ایک طرف ہمارے اسٹرٹیجک معاملات تھے تو دوسری طرف معاشی، لہٰذا ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا ہے گو کہ اب حکومت نے ایک سفر شروع کردیا ہے، حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ مشکل وقت زیادہ دیر نہیں رہے گا آنیوالا وقت اچھا ہوگا ، معاشی حالات مضبوط ہونگے، یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست ہیں ، حکومت کے دعوے بھی اپنی جگہ ہیں اور جو عوام کو انتخابات سے قبل وعدے وعید کیے ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں ان کو اب کس طرح پورا کرنا اس کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، ہوم ورک اور فائل ورک انتہائی اہم ہے یہ جب تمام چیزیں ہونگی تب ہی منصوبے کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں گے۔ ملک میں امیر سے لیکر غریب تک ایک نظام رائج کرنا ہوگا، جب مہنگائی کی صورت میں عوام قربانی دے رہی ہے تو سہولیات دینا بھی اس کا حق ہے یہ نہ ہوکہ کسی امیر زادے یا اقتدار میں بیٹھے ہوئے شخص کو ذرا سا زکام بھی ہو جائے تو وہ لندن یا امریکہ میں جاکر علاج کروائے جبکہ غریب کا بچہ یہی ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جان جان افرین کے حوالے کردے،اچھے حالات کیلئے ہمیشہ اس عوام نے قربانیاں دی ہیں مگر وہ سبز باغ جو اسے ہر آنے والی حکومت دکھاتی ہے آج تک حاصل نہیں ہوسکے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے عوام کو بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اگر ان امیدوں کو پورا نہ کیا گیا تو آنے والا وقت مشکلات کا شکار ہوسکتا ہے، ڈالر کی اتنی پرواز آخر کس وجہ سے ہوئی حکومت کو اس چیز کا علم تھا یہ تو ایک روایتی بات ہے کہ سابقہ حکومت نے خزانہ خالی دیا یہ ایک ایسی بلیم گیم ہے جو ہر آنے والی حکومت سابقہ حکومت پر عائد کردیتی ہے۔ اس الزام تراشی کے کھیل سے نکل کر ملک کیلئے کچھ کرنا ہوگا، گو کہ وزیراعظم نے مزیدمہنگائی کی نوید بھی سنا رکھی ہے جب ہر طرف سے شکنجہ سخت ہوتا جائے گا پھر آخر کار اس کا حل کیا ہوگا۔ حکومت باخوشی آئی ایم ایف کے پاس جائے ان کے بیل آؤٹ پیکیج لے مگر جو رقم آئے وہ جہاں جہاں اور جن جن منصوبوں پر خرچ کی جائے اس کا کچھ نہ کچھ مثبت حاصل ہونا چاہیے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو بھی کنٹرول کرنا ہوگا جتنی عوام کو سہولیات دی جائیں گی اتنے ہی حالات اچھے اور پرامن رہیں گے نہیں تو اسی طرح حکومت اپنا تمام وقت آئی ایم ایف کے شکنجے سے نہیں نکل سکے گی۔

روز نیوز کی ڈیمز فنڈ میراتھون ٹرانسمیشن قابل تقلید
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز کایہ وطیرہ رہا ہے اورتاریخ بھی اس امر کی گواہ ہے کہ ایس کے نیازی کی زیر ادارت شائع ہونے والے اخبارات اور ان کی چیئرمین شپ کے تحت چلنے والے ٹی وی روزنیوز نے ہمیشہ عوامی مسائل کیلئے آواز بلند کی اور اس آواز کو ایوانوں تک پہنچایا جس سے عوام کو اس کے حقوق حاصل ہوسکیں۔ چونکہ اس وقت صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں پانی کا بحران ہے اور آنے والے وقت میں جنگیں بھی پانی ہی کی خاطر ہونگی، پاکستان نے تو پانی کی صورتحال بہت ابتر ہے، ڈیموں کی حالت اتنی تسلی بخش نہیں ، پانی کاذخیرہ نہ ہونے کے برابر ہے، آخر آنے والی نسلوں کو ہم کیا دے کر جائیں گے یہی حالات رہے تو خدانخواستہ خشک پاکستان ہوگا، پاکستان کو سیراب اور سرسبز و شاداب کرنے کیلئے باقاعدہ ایک مہم کی ضرورت تھی اس سلسلے میں پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز ایک مہم کا آغاز کیا جس میں ڈیمز بناؤ،ملک بچاؤ مہم کیلئے ڈیمز فنڈ ریزنگ کیلئے خصوصی ٹرانسمیشن کا اہتمام کیا جس کا نام ڈیمز فنڈ ریزنگ میراتھون ٹرانسمیشن تھا اس میں دنیا اور ملک بھر سمیت پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دل کھول کر ڈیمز فنڈ کیلئے عطیات دئیے۔روز نیوز کی ڈیمز فنڈ ریزنگ میراتھون ٹرانسمیشن کے ذریعے جمع ہونیوالی2کروڑ10لاکھ 37ہزار800روپے کی رقم کا چیک گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کوپیش کر دیا گیا،یہ چیک چیف ایڈیٹرپاکستان گروپ آف نیوزپیپرزایس کے نیازی اور سردارگروپ آف کمپنیزکے صدرسردارتنویرالیاس ،سی ای اویاسرالیاس نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارسے ملاقات کے دوران پیش کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے روزنیوزکی خصوصی نشریات کوخوب سراہا۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارنے روزنیوزکی فنڈریزنگ ٹرانسمیشن کوخوب سراہا اور نیک مشن میں حصہ بننے پرچیف ایڈیٹرپاکستان گروپ آف نیوزپیپرز اورچیئرمین روزنیوزایس کے نیازی کاشکریہ اداکیا۔ خصوصی نشریات کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی ڈیمزفنڈ میں اپنی جانب سے مزید ایک لاکھ روپے دینے کااعلان کیاتھا۔روز نیوز کی ٹرانسمیشن دیگر میڈیاہاؤسز کیلئے قابل تقلید ہے ہم سب کو مل کر وطن عزیز کیلئے اسی طرح کاوشیں کرنا ہونگی۔
اداروں کو آزاد ہی رہنا چاہیے
الیکشن کمیشن نے 14اکتوبر کے ضمنی انتخابات سے قبل آئی جی پنجاب محمد طاہر کے تبادلے کانوٹس لیتے ہوئے امجد جاوید سلیمی کی آئی جی پنجاب تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا اور سیکرٹری اسٹیبشلمنٹ ڈویژن سے دو روز میں جواب طلب کیا ہے، حکومت کا موقف یہ ہے کہ آئی جی پنجاب طاہر خان کو حکومت کی جانب سے دی گئی ذمہ داری پوری نہ کرنے پر ہٹایا گیا ۔ ایک جانب حکومت یہ کہتی ہے کہ ادارے آزاد ہیں اور وہ شفافیت پر یقین رکھتی ہے تو ایسے میں یہ تبادلہ بعید از خیال ہے، جب تک ادارے آزاد اور خودمختار نہیں ہونگے اس وقت تک اسی طرح کے حالات پیدا ہوتے رہیں گے۔ ضمنی انتخاب کے باعث آئی جی کی تبدیلی نہیں ہوسکتی، آئی جی پنجاب کا تبادلہ کرکے الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔ دریں اثناچیئرمین پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن ناصر درانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی نے استعفیٰ ممکنہ طور پر آئی جی پنجاب طاہر خان کے تبادلے کے باعث دیا۔ ناصر درانی نے آئی جی پنجاب کے تبادلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ سابق آئی جی کے پی کے ناصر درانی کو پنجاب پولیس میں اصلاحات کا خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے ناصر درانی کو پولیس میں عدم مداخلت کی یقین بھی دہانی کرائی تھی۔وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ ادارے آزاد ہیں اور ان کے فیصلوں میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔

About Admin

Google Analytics Alternative