Home » کالم » ڈسٹرکٹ آوران ۔حقائق مسخ نہ کیئے جائیں

ڈسٹرکٹ آوران ۔حقائق مسخ نہ کیئے جائیں

ڈسٹرکٹ آواران بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سے تقریباً ساڑھے نوسو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، آواران ڈسٹرکٹ ایرانی سرحد سے ملحق پاکستانی سرزمین ہے، یاد رہے یہی ہے وہ پاکستان کا سرحدی علاقہ جہاں سے بھارتی نیوی کے ایک حاضر سروس جاسوس کلبھوشن جادیوکو پاکستانی اعلیٰ خفیہ ادارے آئی ایس نے اپنی جان توڑ لگاتار کوششوں کے بعد گرفتار کیا تھا، جس نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ’را‘ کی ہدایات پر قائم اپنے دہشت گردی کے نیٹ ورک کے ذریعے مقامی ’غدار‘ آلہِ کار پہلے خریدے جاتے تھے اور پھر اُن سے دہشت گردی کی سفاکانہ کاروائیاں کروائی جاتیں تھیں جس کا اعتراف کلبھوشن جادیو نے پاکستانی ملٹری کورٹ میں کیا بھارت کا یہ اہم ’ریاستی دہشت گرد‘ جس کے اعترافات کے بعد پاکستانی فوج نے معروف ملٹری رولز کے تحت مکمل شفاف طور پر باقاعدہ کورٹ مارشل کے تحت سزائےِ موت کا اُسے حق دار قرار دیا ، جسے بھارت نے کافی عذروبہانوں کے بعد اب اپنا ’فرزند‘ تسلیم کرلیا ہے بھارت نے اپنے اِسی’’ جاسوس فرزند ‘‘کی سزا کے خلاف عالمی عدالتِ انصاف سے حکم امتناعی حاصل کیا ہوا ہے، چلیئے بھارت بھی انتظار کررہا ہے ،ہم بھی عالمی عدالتِ انصاف کے اگلے فیصلے کے منظر ہیں کلبھوشن جادیوکی گرفتاری کے بعد سے آواران ضلع کو بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ہے جیسا کہ سبھی آگاہ ہیں پاکستان کے مسلم برادر پڑوسی ملک ایران نے اپنی ایک ’چاہ بہار بندرگاہ ‘ٹھیکے پر بھارت کے حوالے کررکھی ہے، جسے بھارت صرف تجارتی مقاصد‘ کے لئے استعمال کرنے کا پابند بتایا گیا ہے لیکن بھارت نے کبھی دوسرے ممالک کے ساتھ کئے جانے والے معاہدات پرعمل درآمد کرنے کی پاسداری کی ہی نہیں، عین ایسا ہی ’چاہ بہار بندرگاہ‘ میں دیکھا جاسکتا ہے، یہ کلبھوشن جادیوچاہ بہار بندرگاہ میں ہی تعینات تھا ،لیکن وہاں وہ پڑوسی پاکستانی ملک کے خلاف عملاً ایک بڑے پھیلائے ہوئے جاسوسی کے نیٹ ورک کو چلارہا تھا، بلاآخر ’دھر‘لیا گیا، یوں صوبہ بلوچستان کا ڈسٹرکٹ آواران کا علاقہ ملکی سیکورٹی اداروں کی نظروں ’اہم سیکورٹی رسک‘ بن گیا، سب پھر کیا تھا؟ بلوچستان کو’ترنوالہ‘ سمجھنے والی طالع آزما عالمی وعلاقائی قوتوں نے پاکستان کے خلاف ایکا کرلیا عالمی پروپیگنڈا مشنریز اور تیز ہوگئیں کئی سوالات اُٹھنے لگے ’رائی کو پہاڑ بنا کرپیش کیا جانے گاہمار اکہنا ہے کہ واقعات کی درستگی یاسچائی کااندازہ سینکڑوں میل دوربیٹھ کر نہیں لگایا جاسکتا ہے یا سنی سنائی باتوں پر اپنی مرضی کے نتائج کوئی اگر اخذ کرلے تو عقل وخرد رکھنے والا اُنہیں کیسے مان لے گا جب تک یقین نہ ہوجائے طویل ترین’دوردرازاور دشوارگزارعلاقوں کی جو بھی ’متاثرہ تصویر‘ دکھلائی جارہی ہے کیا وہ اسٹوری(کہانی) چیزوں کی حقیقی کھوج اور پوری طرح سے چھان بین کے نتیجے میں جیسی وہاں موقع موجود ہے وہ حقیقتاً ایسی ہی ہے یا نہیں؟ جیسی سنائی یا دکھائی جارہی ہے، کہیں ایسا تو نہیں ہے جو کچھ بیان کیا جارہا ہے، ا لیکٹرونک میڈیا پریاسوشل میڈیا کے مختلف ایپس کے توسط سے اُن علاقوں کے واقعات کی ‘من پسند منظر کشی’ کی جارہی ہے حالات وواقعات وہاں پر اُس کے برعکس ہیں اور خاص کرپاکستان اور پاکستانی فوج کو نشانے پر لئے کر بات ہورہی ہو گی اور جب بلوچستان کی بات ہورہی ہو کوئٹہ شہر سے لگ بھگ نوسو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایران کے بارڈر کے منسلک بلوچستان کے ڈسٹرکٹ آواران کی بات کی جارہی ہو تو کیا معاملہ اور بھی نازک اور حساس نہیں ہوجاتا ہمارے لیئے؟ عالمی وعلاقائی طالع آزماؤں نے قیامِ پاکستان سے تادمِ تحریر اپنی استعماری ہوس پرست نگائیں مسلسل بلوچستان پر گاڑھی ہوئی ہیں جناب والہ!ِ وہاں کوئی واقعہ رونما ہوجائے تودنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستان اور پاکستانی فوج کے دشمنوں میں کھلبلی مچ جاتی ہے واقعات کی نوعیت چاہے آسمانی آفات ومصائب جیسی ہی کیوں نہ ہو،بلوچستان میں بارشیں کم ہوتی ہیں، اِس میں انسان کو قصوروار ٹھہرایا جاسکتا ہے؟ پہلے ہی بلوچستان میں بارشیں کم ہوتی ہیں، تقریباً سارا سال ہی بلوچستان کے دوردراز علاقے زیادہ تر خشک سالی کی لپیٹ میں رہتے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ آواران کے محل ووقوع کے بارے میں جانے والے آگاہ ہیں وہاں پینے کا صاف پانی آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا’ حکومتی سطح پربلوچستان کے بالائی علاقوں میں اگرکہیں بھی پانی پہنچایا جارہاہے تو پھر یقیناًڈسٹرکٹ آواران میں پانی کی سنگین قلت کی عوامی شکایات پربلوچستان کی صوبائی حکومت کوفی الفورنوٹس لینا چاہیئے یہ اُن کی آئینی ذمہ داری ہے تاکہ پاکستان اور بلوچستان کے ازلی دشمنوں کو ہم خود سے کوئی ایسا موقع کیوں فراہم کریں کہ وہ آواران ڈسٹرکٹ میں پانی کی کمیابی کی آڑ میں بلوچی عوام کو گمراہ کرنے جیسی اپنی مذموم کوششیں کرنے لگ جائیں، جنابِ والہ! پروپیگنڈے کا یہ مذموم شرمناک کام وہاں ملک دشمنوں نے کئی ماہ سے باقاعدہ شروع کیا ہوا ہے، ایک تو آواران میں پانی کی شدید قلت‘ اْوپرسے کم بارشوں کی وجہ سے وہاں کے رہے سہے پانی کے ذخائر میں فضائی آلودگی نے اُس آلودہ پانی کواستعمال کرنے کے قابل نہیں چھوڑا ،وہاں صحرائی ریت کی تیز تپتی ہوائیں جب چلتی ہیں تو گرم صحرائی علاقے آواران کے عوام اور وہاں پر ملکی سیکورٹی اداروں کے متعین اہلکار اْس گرم آلودہ ہواؤں سے بہت بْری طرح سے متاثر ہوتے ہیں، آواران کی جتنی بھی سویلین آبادی ہے اب اْن کا زیادہ تر انحصار سیکورٹی فورسنز کی قائم کی ہوئی چیک پوسٹوں پر آنے والے پینے کے صاف پانی کے اْن ٹینکروں پر ہونے لگا ہے جو سیکورٹی اہلکاروں کے لئے وہاں بذریعہ ہیلی کاپٹر پہنچا ئے جاتے ہیں ملکی فوج کی سدرن کمانڈ نے آواران ڈسٹرکٹ میں پانی کی اِس قدر شدید قلت کے پیشِ نظر اپنے سیکورٹی اسٹاف کے علاوہ ڈسٹرکٹ آواران کے عام سویلین کیلئے بھی بلاکسی رکاوٹ اورتعطل کے پانی کے ٹینکروں کی تعداد کو بڑھادیا ہے، جس کے بعد اب ڈسٹرکٹ آواران کے عام عوام کو بھی اپنے فوجی بھائیوں کے ساتھ پینے کے صاف پانی کی سہولت ہمہ وقت میسر ہے یہی نہیں بلکہ وہاں آلودگی کے شدید مصائب میں مبتلا بلوچی عوام کو مفت طبی امداد کے کیمپس باقاعدگی لگائے جارہے ہیں پاکستانی سیکورٹی ادارے جدید دنیا کے جدید تقاضوں کے مطابق انسانی خدمات کے اپنے آئینی فرائض کو’را‘ اور ’سی آئی اے‘ سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں کہ دنیاکی کوئی فوج اپنے عوام کی بنیادی انسانی ضروریات سے بے خبر اور لاپرواہ ہوکراپنے ملک کے دفاعی امورکو بخوبی انجام نہیں دے سکتی لہٰذا قوم کے پیشِ نظر اب پاکستان کا مستقبل زیادہ اہم ہے، وہ اپنے دشمنوں کے پھیلائے ہوئے من گھڑت ‘بے سروپا اور لغوپروپیگنڈے کے جال میں آجائیں یہ قطعی ناممکن ہے؟ ۔

****

About Admin

Google Analytics Alternative