Home » کالم » اداریہ » ڈیمز کی تعمیر کیلئے پاک فوج کا قابل تقلید جذبہ
adaria

ڈیمز کی تعمیر کیلئے پاک فوج کا قابل تقلید جذبہ

adaria

جذبہ ایثار سے سرشار, ہر آفت اور مشکل گھڑی میں پیش پیش رہنے والے ادارے پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ مسلح افواج کے افسران اور سپاہی بھاشا اور مہمند ڈیمز کیلئے اپنی تنخواہ سے فنڈز دیں گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لیے مسلح افواج نے بحیثیت ادارہ ایک قدم اٹھایا ہے جس میں تینوں مسلح افواج کے افسران اور سپاہی قومی مقصد کے لیے اپنی تنخواہ سے فنڈ جمع کروائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پاک فوج، بحریہ، فضائیہ کے سپاہی ایک دن کی تنخواہ دیں گے جب کہ تینوں مسلح افواج کے افسران 2 دن کی تنخواہ دیں گے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاک فوج نے اتنے بڑے ایثار کا عملی مظاہرہ کیا بلکہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک میں آنے والی ہر نا گہانی آفت سے نمٹنے کے لیے میں دامے درمے سخنے حص لیا۔چند روز قبل سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم تعمیرکرنے کا حکم دیا جب کہ عدالت نے قوم سے ڈیموں کے لیے فنڈز اکھٹا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے نام ایک اکانٹ کھولنے کی بھی ہدایت کی تھی۔اس کار خیر میں چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے خود 10 لاکھ کا چیک جمع کروا کر ایک روشن مثال پیش کی کہ جب ملک کی تقدیر بدلنی ہو تو پھر صرف باتیں نہیں بلکہ عملی طور اس کا نمونہ پیش کرنا پڑتا ہے۔چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کے جذبہ حب الوطنی کو دیکھتے ہوئے پاک فوج نے بھی اپنی تنخواہوں میں سے حصہ ڈالنے کا اعلان کیا ہے جو قابل تقلید ہے۔اسلامی دنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہے کہ جس کے پاس سب سے بڑی پروفیشنل مہارت میں یکتا فوج ہے۔پاکستان میں بسنے والا ہر شہری اپنی آرمی، فضائیہ اور نیوی پر رشک کرتا ہے۔اس پیچھے کئی وجوہات ہیں لیکن ان کا ایثار ایک ایسا جذبہ ہے جس کا ہر پاکستانی گرویدہ ہے۔ملک میں جب کبھی بھی بارشوں کے باعث سیلاب کی تباہ کاریاں ہوں یا زلزلہ کی آفت اس صورتحال میں جب لوگ مدد کے لیے حکومت کو پکار رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں پاک فوج ا خوف مدد کو نکل کھڑی ہوتی ہے۔یہی جذبہ حالیہ دہشت گردی کی لہر میں بھی دیکھا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ملک سے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے جب پاک آرمی کی جانب سے خصوصا قبائلی علاقہ جات میں آپریشن شروع کیا گیا تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے بہادر جوان ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے اور دہشتگردوں کا صفایا کر کے دکھایا۔اسی طرح مردم شماری ہو یا انتخابات یر دو میں پاک آرمی کا بہت اہم اور مثبت کردار رہا ہے۔2018 کے الیکشن کیلئے فوج اپنی خدمات پیش کردی ہیں۔ہمیں امید ہے وہ عوامی امنگوں کے مطابق شفاف اور پر امن الیکشن کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی جبکہ ڈیمز کی تعمیر کے لیے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی آواز پر لبیک کہہ کر ملک کے دیگر اداروں کے لیے قابل تقلید مثال قائم کی ہے۔امید رکھنی چاہیے کہ اندرون اور بیرون ملک محب وطن مخیر حضرات اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں گے کیونکہ یہ ملک کی بقا کا معاملہ ہے۔پانی ہر ذی روح کی بقا کا ضامن ہوتا ہے۔اللہ نے ملک کو پانچ دریاؤں سے نواز رکھا ہے مگر حکمران طبقے کی نا اہلی کے باعث ڈیمز نہیں بن پا رہے اور کروڑوں ملین کیوبک فٹ پانی سمندر برد ہو رہا ہے۔عدالت عظمیٰ نے ڈیموں کی تعمیر کیلئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے نام سے جو ایک اکانٹ کھولا ہے اس کو مشتہر بھی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام تک میسج جا سکے۔
معیشت کو نقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بااثر سیاسی و کاروباری شخصیات کی جانب سے جعلی بینک اکاؤنٹوں کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کرنے سے متعلق فوجداری مقدمات کی تفتیش میں ایف آئی اے حکام کی جانب سے مجرمانہ سستی و لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کا تحریری فیصلہ میڈیا کو جاری کیا ہے۔جسکے مطابق فاضل عدالت نے آئندہ سماعت پرپاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین وسابق صدر پاکستان ،آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ و سابق رکن قومی اسمبلی، فریال تالپور سمیت نامزد ملزمان کو آئندہ سماعت نہ صرف طلب کرلیا ہے بلکہ فاضل عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ کو ان50افراد اور کمپنیوں کے مالکان کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔چیئرمین نیب، چیئرمین ایس ای سی پی اور چیئرمین ایف بی آر کو بھی نوٹسز جاری کیا گیاہے۔ پانامہ اور بعض دوسرے کیسز کے بعد اتنی بڑی منی لانڈرنگ کا کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی نظام کس قدر کمزور ہے۔چیک اینڈ بیلنس کی کمزوریوں کے باعث لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔کرپٹ عناصر کو بااثر لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مواخذے سے بچے رہتے ہیں تاہم حالیہ عرصہ میں مالیاتی اداروں میں کرپشن کی نشاندہی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کیلئے جو کام شروع ہوا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کا نام ای سی ایل میں ڈالنا ظاہر کرتا ہے کہ بلاامتیاز احتساب کیلئے کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتری جائے گی۔منی لانڈرنگ کا تازہ کیس تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس کا کھوج لگا کر قابل قدر کام کیا ہے۔
سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ایک اور سنگ میل عبور
پاکستان نے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ایک اور سنگ میل عبور کیا ہے۔پاکستانی انجینئر زنے محدود وسائل میں مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے دو مصنوعی سیارچے خلا میں روانہ کر دیے ہیں جو زمین کے مدار میں چکر لگائیں گے۔ ان میں سے ایک PRSS-1 سیٹلائٹ ہے جو لینڈ اینڈ ریسورسزکا سروے، قدرتی آفات سے تباہی کی مانیٹرنگ، زرعی تحقیق، شہروں میں تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی اور بیلٹ اینڈ روڈ ریجن کے متعلق ریموٹ سینسنگ انفارمیشن کی فراہمی کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ ان مصنوعی سیارچوں کو چین کے شمال مشرق میں واقع ییکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے روانہ کیا گیا ہے۔ اسی راکٹ کے ذریعے پاکستان کا تیار کردہ PAK TAS-1A بھی زمین کے گرد مدار میں بھیجا گیا ہے۔ اس سے قبل اگست 2011 میں چین نے پاکستان کا مواصلاتی مصنوعی سیارچہ PAK SAT-1R زمین کے گرد مدار میں بھیجا گیا تھا۔ اس کامیابی پر پوری قومی اپنے انجنیئرز کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative