Home » کالم » اداریہ » ڈیم کی تعمیر قومی مفاد کیلئے ناگزیر
adaria

ڈیم کی تعمیر قومی مفاد کیلئے ناگزیر

adaria

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کیخلاف اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت فنڈ اکٹھا کرنا بھیک مانگنا نہیں ہے،پنجاب کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ سنٹر سے متعلقہ ازخود ونوٹس مقدمہ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا ہے کہ جو لوگ فنڈ ریزنگ کو بھیک مانگنا کہتے ہیں وہ کم ظرف ہیں انہیں شرم آنی چاہیے۔سماعت کے دوران ترقیاتی کام کرنے والے ٹھیکیدار نے ڈیم بنانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈیم مجھ سے بنوانا ہے اس منصوبے کی دستاویزات دیں، ڈیم کو اصل لاگت سے کم خرچ پر بناؤں گا، جس پر چیف جسٹس نے ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ حساب کتاب لگا کر تحریری طور پر آگاہ کریں۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا ہے اپنی مدد آپ کے تحت قومی فریضہ کی انجام دہی کیلئے فنڈ ریزنگ بھیک مانگنے سے تشبیہ دینا کسی لحاظ سے بھی درست قرار نہیں دی جاسکتی، ڈیم کی تعمیر ازحد ضروری ہے، قلت آب پر قابو پانے کیلئے زیادہ سے زیادہ ڈیموں کی ضرورت ہے، بھارت کئی ڈیم بنا چکا ہے جبکہ ہم ڈیموں کی تعمیر میں سست روی کا شکار رہے ہیں جس کا نتیجہ مستقبل میں آبی قلت کی صورت میں دکھائی دینے لگا ہے۔ چیف جسٹس نے ڈیم فنڈ کے بارے میں جو ریمارکس دئیے ہیں وہ بے کم و کاست ہیں ،وزیراعظم نے بھی ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ ریزنگ کا اعلان کیا ہے، اندرون و بیرون ملک پاکستانی دل کھول کر ڈیم فنڈز میں چندہ جمع کرارہے ہیں جو اس امر کا آئینہ دار ہے کہ اس قومی فریضہ کی تکمیل کیلئے عوام الناس اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، پانی زندگی کا اہم جزو ہے اور بقائے حیات کیلئے ناگزیر ہے ، جتنے زیادہ ڈیم ہونگے اتنی زیادہ خوشحالی آئے گی، مستقبل میں پانی کے بحران سے بچنے کیلئے ڈیموں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے جس کیلئے چیف جسٹس اور وزیراعظم نے قدم اٹھا دیا ہے جس میں دل کھول کر چندہ جمع کرانا ہم سب کی ذمہ داری قرار پاتی ہے وہی قومیں ارتقاء کی جانب جایا کرتی ہیں جو قومی جذبے سے سرشار ہوتی ہیں اور اپنی مدد آپ کا جذبہ ان میں پایا جاتا ہے، پاکستانی قوم نے ہرمشکل کی گھڑی میں وطن کیلئے اپنا تن من دھن قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈ ریزنگ کو بھیک مانگنا قرار دینا قطعاً درست نہیں ہے جو لوگ اس کو بھیک مانگنا قرار دے رہے ہیں وہ کم ظرفی کا مظاہرہ کررہے ہیں اس ضمن میں چیف جسٹس نے جوکچھ کہا ہے بالکل درست کہا ہے۔ پڑوسی ملک بھارت ڈیم بنانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا ہمیں اس کی تقلید کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ڈیم بنانے چاہئیں، جتنے زیادہ ڈیمز ہونگے اتنی ہی زیادہ خوشحالی آئے گی اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہوگا، پانی ہی سے کھیتوں کی ہریالی ہے اس کے بغیر زمینیں بے آب و رنگ اور بنجر رہ جایا کرتی ہیں زندہ قوموں کا یہ شیوہ ہوا کرتا ہے کہ وہ ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا کرتی ہیں۔ قومی جذبے کے تحت ڈیموں کی تعمیر کیلئے دل کھول کر چندہ دیا جائے تاکہ یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ پائے۔ اسی میں بقائے حیات کا رازمضمر ہے۔

بیگم کلثوم نواز انتقال کرگئیں
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن میں انتقال کرگئیں، کلثوم نواز کی گزشتہ رات طبیعت ناسازگار ہوئی تو انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا، جہاں پر وہ زندگی کی بازی ہار گئیں۔کلثوم نواز ایک سال 25 دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہیں۔بیگم کلثوم نواز کی میت کو پاکستان لایا جائے گا اور ان کی تدفین جاتی امرا میں کی جائے گی۔ کلثوم نواز کا جسد خاکی پاکستان لانے کے بعد تدفین جمعے کو جاتی امرا میں ہوگی۔سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور صفدر کواڈیالہ جیل سے پے رول پر رہا کرکر دیا گیاہے تاہم ابھی انکو 12گھنٹوں کیلئے پیرول پر رہا کیا گیا جبکہ شریف خاندان کی جانب سے 5دن کیلئے پیرول پر رہائی کی درخواست دی گئی تھی لیکن صوبائی حکومت نے فی الحال نواز شریف،مریم نواز اور محمد صفدر کو 12گھنٹوں کیلئے پیرول پر رہا کرنیکی اجازت دی ،تینوں کی پیرول پررہائی جاتی امرا تک ہی محدود رکھی گئی ہے۔جیل سے رہائی کے وقت شہباز شریف انکے ہمراہ تھے۔واضح رہے کہ بیگم کلثوم نواز 17 اگست 2017 کو علاج کے لیے لندن گئی تھیں اور دوران علاج 22اگست 2017 کو انہیں گلے میں کینسرکی تشخیص کی گئی تھی جس کے بعد ان کی کئی کیمو تھراپیز ہو چکی تھیں۔صدرمملکت، وزیراعظم عمران خان،چیف جسٹس آٖ ف پاکستان جسٹس ثاقب نثار، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ،چیئرمین نیب ،وزراء اعلیٰ ، گورنرز، وزیراطلاعات ،سابق آئی جی ملک حبیب سمیت ملک کی دیگر قیادت نے کلثوم نواز کے انتقال پردکھ کا اظہار کیا ہے۔بیگم کلثوم نواز نے نوازشریف کی غیرموجودگی میں بہادری سے پارٹی چلائی،پاکستان گروپ آف نیوز پیپر ز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے بھی بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ اور شریف فیملی کے ساتھ غم میں شریک ہیں،بیگم کلثوم نواز سیاسی نہیں ایک گھریلو خاتون تھی۔ بیگم کلثوم نواز کو تین بار خاتون اول رہنے کا اعزاز حاصل رہا،1950 میں کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئیں ، 1999ء میں بیگم کلثوم نواز ن لیگ کی صفوں میں مزاحمت کی علامت بن گئیں، بدترین بحران میں انہوں نے ن لیگ کو زندہ رکھا ۔خداوند کریم ان کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ جانکاہ برداشت کرنے کی ہمت دے آمین۔
بلاامتیاز احتساب وقت کی ضرورت
چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سننے میں آیا ہے کہ تاجر برادری نیب کے اقدامات سے خوش نہیں، ملک کی خاطر کام کرنے والے تاجروں کو ڈرایا نہیں جاسکتا۔ جو تاجر ٹھیک کام کررہے ہیں انہیں کوئی ہراساں نہیں کرسکتا، تاجروں کے راستے میں آنے والی ہر چیز کو ہٹائیں گے، تاجر غلطی کریں گے تو نظر انداز ہوجائے گی تاہم جرم نظرانداز نہیں ہو سکتا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ کچھ نجی ہاسنگ سوسائٹیز کے خلاف ایکشن ضرور لیا ہے اور یہ ایکشن غربا کے منہ سے نوالا چھیننے پر لیا ہے، ہاوسنگ سوسائیٹیز کے ان مالکان کو طلب کیا جن کی طرف ماضی میں دیکھا نہیں جاسکتا تھا، نجی سوسائیٹیز کو کہا کہ پیسے دے دیں یا پلاٹ دے دیں جب کہ 85 کروڑ سے زیادہ رقم غربا کو واپس کی ہے۔کرپٹ دنیا کے کسی کونے میں بھی چلا جائے نیب پیچھا کرے گا، کوئی جتنا بھی طاقتور ہے اس کا اثر و رسوخ نیب کے دفتر کے باہر ختم ہوجاتا ہے، نیب کے دفتر کے اندر صرف قانون ہے۔اگر آپ منی لانڈرنگ کریں گے تو نیب آرام سے نہیں بیٹھا رہے گا، پاکستان 90 ارب ڈالر کا مقروض ہے، قرض کا مقصد پاکستانی عوام کو فیض یاب کرنا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، جب آیا تو ایک ہی منشور تھا جو کرے گا وہ بھرے گا۔ حکومت وقت اور نیب پوری کوشش کررہا ہے کہ لوٹی ہوئی دولت کو باہر سے واپس لایا جائے، نیب کا مقصد ملکی معیشت کو مضبوط کرنا ہے جب کہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ ملکی مفادات کا تحفظ کرے۔ جب تک موزوں قانون سازی نہیں ہوتی کرپشن کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ کسی دور حکومت میں ایسا نہیں ہوا کہ نیب کے بازو مضبوط کیے گئے ہوں، ہر دور حکومت میں نیب کا گلہ دبانے کی کوشش کی گئی۔ کرپٹ عناصر کیخلاف چیئرمین نیب کا عزم عوامی امنگوں کا ترجمان ہے ، بلاامتیاز احتساب سے ہی کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative