Home » کالم » کالاباغ ڈیم لائف لائن پاکستان
yasir-khan

کالاباغ ڈیم لائف لائن پاکستان

پانی قدر ت کی وہ انمول نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔کرہ ارض پرچہار سو رنگ بکھیرتی زندگی،زراعت،صنعت اور معیشت کے تمام شعبہ جات کی زندگی کا دارومدار پانی کا ہی مرہون منت ہے۔لیکن ہم قدرت کی اس عظیم نعمت کو دن بدن کھو تے ہی چلے جا رہے ہیں ۔مگر المیہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات کاادراک تک نہیں اور ہمارے بعض مفاد پرست سیاستدا نوں نے آج بھی اس عظیم ملکی مفاد کے منصوبے کو بھی کئی دہائیوں سے اپنی سیاسی دکان چمکا نے کیلئے استعمال کیا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ آنے والے انتخابات اور سیاسی مسائل پر مر کوز ہے۔ایسے وقت میں ملک کے آبی ماہرین ،پانی کی بڑھتی قلت اور بھارت کی جانب سے کی جا نے والی آبی جا رحیت کی وجہ سے پریشان ہیں ۔ڈاکٹر شمس الملک کے نام سے کون واقف نہیں ،ان کی تعلیم پی اچ ڈی ہے ،اور یہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں دنیا میں کم ہوتے صاف پینے کے پانی کے ذخائر اور دستیاب قدرتی پانی کے بہترین استعمال پر لیکچر دیتے ہیں ،دنیا انکے تجر بے اور علم سے فائدہ اٹھا کر آبی وسائل سے متعلق پالیسیاں وضع کر تی ہے ۔گزشتہ پچیس سال سے یہ شخص چیخ رہا ہے اور ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتا نظر آتا ہے کہ خدا کیلئے کلا باغ ڈیم کو اہمیت دو ،اگر یہ نہ بنا تو ہماری زراعت ختم ہو جائے گی۔ہم بنجر ہو جائیں گے اور پانی کی ایک ایک بوند کو ترسیں گے،اور اب اس کی باتیں بعین ہی سچ ثابت ہورہی ہیں ۔بھارت کے بنائے ہوے ڈیموں کا اثر بھی اس سال سے ہماری زراعت پر پڑنا شروع ہو چکا ہے۔گزشتہ دنوں ارسا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبپاشی کیلئے پانی کی قلت میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ارسا اعدادو شمار کے مطابق دریاؤں میں پانی کی آمد ایک لاکھ 12بارہ ہزار 9سواور اخراج ایک لاکھ انیس ہزار تین سو کیوسک ہے ۔۔آبی ذخائر میں پانی کا ذخیرہ بھی صرف دو لاکھ بیس ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔سندھ اور پنجاب کو 51،51فیصد کمی کاسامنا ہے،دونوں صوبوں کا با لترتیب 55ہزار اور57ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔بلوچستان کو 8ہزاراور خیبر پی کے کو ۳ہزار کیوسک پانی مل رہا ہے،مجموعی طور پر ابھی سے پانی کی قلت پچاس فیصد سے زائد ہے۔آبی وسائل کی دستیابی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ستر ارب ڈالر کا پانی سمندر کی نذر ہوجاتا ہے۔ماہرین کے خیال میں پاکستان آنے والے چند برسوں میں پانی کی شدید قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔جبکہ حکومت کی طرف سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا،اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ہم تباہی سے دوچار ہو سکتے ہیں ۔پانی کو ذخیرہ کر نے والے ڈیموں کی استعداد کم ہوتی چلی جارہی ہے ،لیکن ہم نئے ڈیموں پر محض چند مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں یر غمال بنے بیٹھے ہیں ،ملک خشک سال اور ہماری زرخیز زمینیں بنجر ہوتی جارہی ہیں اور یہ محض بیرونی امداد کے بل اپنے ملک میں یہ کہ رہے ہیں کہ یہ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا ۔ان قومی مجرموں کو فی الفور ان سے سیمینار اور مزاکروں میں ماہرین کی موجودگی میں ان کے بے بنیاد اعتراضات کو عوام کے سامنے آشکارا کیا جائے تاکہ ان صوبوں کے عوام کو بھی پتا چل سکے ،جو اعتراض یہ گزشتہ تیس سالوں سے کالاباغ ڈیم کے خلاف کر رہے ہیں وہ محض عوام کودھوکہ دینے کیلئے ہے حقیقت کا ان سے دور پار کا بھی واسطہ نہیں۔کالاباغ ڈیم کو ہم نے سیاست کی نظر کر دیا ،جب کہ بھا شا ڈیم کی تعمیر میں کوئی سیاسی مسئلہ یا رکاوٹ نہ ہے اس کے باوجود ہم اس ڈیم کو بھی تک بنا نے میں ناکام رہے ہیں ۔دیا مر بھا شا ڈیم اس لئے نہیں بنا یا جارہا کیونکہ اس میں ممکنہ طور پر بارہ برس لگیں گے جبکہ بدقسمتی سے ہمای کوئی بھی حکومت پانچ سا سے آگے سوچنا نہیں چا ہتی ،سب کیلئے بس پانچ سالہ مدت ہے ۔یہ مفاد پرست عناصر کس طرح سے عوام کو دھوکہ دیکر ان کے ذہنوں میں بھی زہر بھر رہے ہیں ۔کالا باغ ڈیم کو ہم نے سیاست کی نظر کر دیا،جبکہ بھا شا ڈیم کی تعمیر میں کوئی سیاسی مسئلہ یا رکاوٹ نہ ہے ،لیکن اس کے باوجود بھی ہم اس ڈیم کو اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود نہیں بنا پارہے۔دیامیر بھا شا ڈیم اس لئے نہیں بنا یا جارہا کیونکہ اسمیں ممکنہ طور پر بارہ برس لگیں گے جبکہ بد قسمتی سے ہماری کوئی بھی حکومت پانچ سال سے آگے تک کا نہیں سوچتی۔حکومت وقت کی کوشش رہتی ہے کہ محض ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے صرف آئندہ الیکشن کیلئے ووٹ پکے ہو سکیں ،جا نے والی حکومت کے پیچھے چھوڑے بحرانوں اور مسائل اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ آنے والے آدھی مدت تو انہی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ملک کے مستقبل کا سوچنا شائد ان کی ترجیحات میں ہی شامل نہیں ۔اس معاملے میں ہمیں قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر سوچنا ہوگا ۔ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی ملک کو کم از کم 120دن کاپانی ذخیرہ کر نے کی صلاحیت ہونی چاہئے ،جبکہ ترقی یافتہ ممالک ایک سے دوسال تک پانی کا ذخیرہ کر رہے ہیں ،پاکستان میں دریاؤں کا صرف دس فیصد پانی ذخیرہ ہوپاتا ہے۔کس قدر حسرت و افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان وقت قیام سے اب تک صرف دو ہی آبی ڈخائر تعمیر کر سکا۔جبکہ اس کے مقابل بھارت دو سے زائد چھوٹے بڑے ڈیمز تعمیر کر چکا ہے جن میں بیس سے تیس میگا آبی ذخائر بھی شامل ہیں جو اس نے ہمارے دریاؤں یعنی ہمارے حصہ کا پانی روک کر تعمیر کئے ہیں ۔بھارت تیزی سے آبی قوت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔طرفہ تماشا یہ ہے کہ بھارت اس حوالے سے پاکستان کے آبی حق پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈال رہا ہے۔اور ہمارے اربا ب بست و کشا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ،بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر الٹا ملک میں متوقع ڈیمز کی تعمیر پر سیاسی دکان چمکا رہے ہیں اور بر ملا کہتے ہیں کہ کا لاباغ ڈیم ہماری لاشوں پر بنے گا،اگر ملک کے اندر اس جیسے لوگ موجود ہوں جو ملکی مفادات کے منصوبوں میں رکاوٹ ہوں تو پھر ہمیں بیرونی دشمنوں کی ضرورت ہی کیا ہے۔نریندر مودی گزشتہ دنوں کشن گنگا ڈیم کا با قاعدہ افتتاح کر چکے ہیں ،یہ ڈیم سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے تعمیر کیا ہے ۔عالمی بنک جو اس معاہدے کا ضامن ہے ،پاکستان کے اعتراضات کو فنی طور پر مسترد کر چکا ہے،اور کشن کنگا ڈیم پر بھارتی موقف تسلیم کر چکا ہے جو کہ ہماری نا کام ملکی و خارجہ پالیسی اور گزشتہ حکومتوں کی نا اہلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے بڑھ پر ہمارے لئے خفت اور جگ ہنسائی کا مقام کیا ہوگا کہ ہم اپنے دیرینہ اور قانونی حق کے تحفظ میں بھی عالمی سطح پر نا کام رہے ہیں ۔پھر یہی نہیں بگلہیار ڈیم کی صورت میں دریائے چناب کا پانی بھی ہتھیانے کیلئے بھارت تیار نظر آرہا ہے۔ملک کے باشعور عوام اس صورتحال اور ملک میں کم ہوتے آبی ذکائر پر یقیناًدل گرفتہ ہیں ۔اور توقع رکھتے ہیں کہ ارباب اختیارو اقتدار اس مسئلے کے حل کیلئے ضروری وسائل اور تدابیر اختیار کریں گے،مگر یہاں تو الٹا ملک میں ڈیمز کی تعمیر کا سن کر ہی بعض مفاد پرست سیاستدان آگ بگولہ ہو جاتے ہیں ،انکی طرف سے کبھی بھارتی آبی جارحیت سے متعلق مذمت کا ایک لفظ تک نہیں نکلا۔مگر اب شائد انھیں بھی زیادہ دیر تک عوامی مفاد کے منصوبوں میں خلل ڈالنے نہ دیا جائے کیونکہ اب ملک با شعور اور خاص طور پر نوجوان ، چیف جسٹس صاحب اور آرمی چیف سے جو توقعات لگائے بیٹھیں ہیں ،وہ بہت جلد پوری ہونے کو ہیں ۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative