Home » کالم » اداریہ » کراچی کا امن مزید بہتر بنانے کا عزم
adaria

کراچی کا امن مزید بہتر بنانے کا عزم

adaria

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے رینجرز ہیڈ کوارٹرز سندھ کے دورے کے دوران اپنے عزم کو دوہراتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے اس کے امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنائیں گے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کورکمانڈر کراچی لیفٹنٹ جنرل ہمایوں عزیز کے ہمراہ رینجر ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔اس موقع پر ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید نے آرمی چیف کو صوبے بھرکی سکیورٹی اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی، جنرل قمر جاوید باجوہ نے امن وامان کے لیے رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو سراہا.سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ امن و امان کی بہتری سے کراچی میں تجارتی سرگرمیاں مثبت انداز میں جاری ہیں، شہر کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔بلاشبہ افواج پاکستان نے ملک کے امن و امان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں،جس سے ملکی معیشت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوئے خصوصا کراچی کے امن کی بحالی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔اس وقت ملک کو جن اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان ہر وقت سر بکف رہتی ہیں۔تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے باہم یکسو ہو کر ریاستی و حکومتی معاملات کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کریں تو کسی ملک کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات بھی نہ ہو ۔ بھارت جو روز اول سے ہی پاکستان کی سالمیت کے درپے ہے کو ہمارے اندرونی سیاسی و اقتصادی عدم استحکام سے سازشوں کا جال پھیلانے کا موقع ملتا جاتا ہے۔اس تناظر میں ہمیں اپنی جری افواج کے پیچھے کھڑا ہونا ہو گا۔ بطور ادارہ پاک فوج پر پوری قوم کو فخر ہے کہ جہاں وہ مکمل جانفشانی اور جاں نثاری کے ساتھ دفاع وطن کی ذمہ داریاں بخوبی نبھا رہی ہے وہاں وہ ملکی معاشی استحکام کے لیے بھی فکر مند رہتی ہے۔اسی لیے رینجرز ہیڈ کوارٹرز سندھ کے دورے کے دوران آرمی چیف نے اس عزم کا اظہار کیاکہ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے اس کے امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنائیں گے۔ایک وقت تھا کہ کراچی پر دہشتگردی کا راج تھا اور بڑے بڑے سرمایہ کار کراچی چھوڑنے پر مجبور ہو رہے تھے۔کراچی کا امن مکمل طور پر سوالیہ بن چکا تھا ایسے میں پاکستان رینجرز نے کراچی کی کمان سنبھالی اور جس جانفشانی سے اس معاشی حب کو بھتہ مافیہ کے شکنجے سے نکالا وہ لائق تحسین ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے دورے کے دوران امن وامان کے لیے رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔ رینجرز کے اس فریضے کی ادائیگی کے باعث ہی کراچی میں آج امن لوٹ آیا ہے اور دہشت گرد اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔پاک فوج کا یہی وہ کردار ہے جس پر ہر شہری بجا طور پر فخر کرتا ہے ۔عسکری قیادت کی جانب سے امن و امان کی حکمرانی یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کرنے کا عزم بھی اسی تناظر میں کیا جاتا ہے کہ پرامن معاشرے کی بنیاد پر ہی معاشی و اقتصادی استحکام ممکن ہے ۔ اگر لاقانونیت کا دور دورہ ہو جیسا کہ آج سے دو تین سال قبل کراچی سنگین صورتحال سے دوچار تھا تو پھر ملکی معیشت کا پہیہ جام ہو کر رہ جاتا ہے۔ہمارے ازلی دشمنوں کی یہی خواہش تھی کہ پاکستان کو معاشی دہشت گردی کے ذریعے اتنا کمزور کر دیا جائے کہ اس کی سالمیت سوالیہ نشان بن جائے .یہ حقیقت ہے کہ دشمن اپنی اس چال میں کسی حد تک کامیاب ہوتا بھی دکھائی دے رہا تھا مگر خدا کا شکر ہے کہ افواج پاکستان نے اس گھناونی سازش کا بروقت قلع قمع کر کے ملک کا مستقبل محفوظ بنا دیا ہے تاہم ابھی کچھ عناصر لسانی بنیادوں پر امن دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ملک کے امن میں دراڑ ڈالنے کے لیے ملک دشمن طاقتوں کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔ایس پی طاہر خان کے قتل اور ان کے جسد خاکی کی واپسی کے موقع پر پیدا ہونے والی صورتحال سے خطرے کی جو گھنٹی بجی ہے اس سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔نئی حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی اداروں کی پشت پر کھڑے ہو کر بر وقت سبیل کرے ۔ہزاروں قربانیوں کے بعد قبائیلی علاقوں پر ریاستی رٹ بحال ہوئی ہے اگر تھوڑی سی غفلت سے کام لیا گیا تو ساری محنت غارت ہو جائے گا۔

گوگل کی پاکستان کے حوالے سے حوصلہ افزا رپورٹ
معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان کو تیزی سے ابھرنے والا ڈیجیٹل ملک قرار دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ متعدد برانڈز کے لیے یہاں لاتعداد مواقع موجود ہیں جہاں وہ اپنے صارفین سے براہ راست رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔گوگل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چھوٹے اور محدود پیمانے پر لاتعداد کاروبار انٹرنیٹ کی بدولت پروان چڑھ رہے ہیں اور اسے بتدریج مزید تقویت مل رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافہ اور بڑا سرمایہ رکھنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی دلچسپی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے شہری علاقوں کا پھیلا تیزی سے ہورہا ہے، لوگ دیہی علاقوں سے نکل کر شہر کی زندگی اپنا رہے ہیں۔جس کا مطلب ہے کہ ہر روز انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔پاکستان کے موجودہ فی کس جی ڈی پی جو اس وقتایک ہزار 641 ڈالر ہے کی رفتار کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر جی ڈی پی کی یہی رفتار برقرار رہی تو 2030 میں پاکستان چوتھی بڑی ابھرتی ہوئی معاشی ریاست بن جائے گا۔پاکستان میں تقریبا 5 کروڑ 90 لاکھ اسمارٹ فون کے صارفین ہیں جس میں اندازا 83 فیصد ‘اینڈرائڈ موبائل’ استعمال کرتے ہیں، اس حقیقت کے تناظر میں آئندہ برسوں میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوگا، اسی طرح پاک ۔ چین اقتصادی راہداری کو بھی اس کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں کے تحت چین 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے اور اسی منصوبے کے تحت ملک کے اندر انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے 820 کلومیٹر لمبی فائبر اپٹک کیبل بھی ڈالی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ تک رسائی مزید بڑھ جائے گی۔یہ خوش آئند رپورٹ ہے جو یقیناًسرمایہ کاروں کو بھی متوجہ کرے گی جس کے ملک کی اقتصادی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

About Admin

Google Analytics Alternative