Home » کالم » کرتارپورراہداری کا افتتاح ۔ پاکستان کی سفارتی کامیابی

کرتارپورراہداری کا افتتاح ۔ پاکستان کی سفارتی کامیابی

دنیا کے مختلف خطوں خصوصا فلسطین، شام، عراق اور افغانستان سمیت مقبوضہ جموں وکشمیرکے مسلمانوں پر وارد ہونے والے ماضی کے اور تازہ ترین شدید مصائب وآلام کی بدترین کٹھن مشکلات کا بغور جائزہ لیا جائے تو بحیثیت مسلمان ہونے کے ہ میں مختلف اشکال کی جنگوں کے خطرات،جنونی سماجی و ثقافتی تصادم کے لاحق خطرات کے خدشات کے علاوہ دگر چیلنجز جن میں فضائی اورآبی الودگی،عدم تحفظ،عدم برداشت اور سماجی ومعاشرتی طور پر اس قسم کے کئی اور موضوعات پر باہم ہم سبھی زیادہ تر لب کشائی کل بھی کررہے تھے ہم سب آج بھی یہی باتیں کررہے ہیں ،جس کے نتیجے میں کئی دیگرانسانی بقا کے موضوعات ابھرکر ہ میں اپنی جانب اور متوجہ کرنے لگتے ہیں ، مثلا ہ میں اپنی سرحدوں پرگزشتہ کئی دہائیوں سے امن کی تلاش ہے دیگر اسلامی ممالک کے اپنے مسائل اپنی جگہ،لیکن پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر پاکستانی افواج کی اپنی سی لاکھ جان توڑپیشہ ورانہ مہارت کی کوششوں کے باوجود اطمنان بخش امن قائم ہونے نہیں پاتا، سرحدیں پر اگر خاموشی کبھی کبھار ہوتی ہے تو ہمارے ازلی وابدی یہ دشمن ہمارے سماجی، معاشرتی اور سیاسی ’’ٹھہراوَے تلاب‘‘ میں اپنے سازشی خطرناک مقاصد کی سنگ باریاں کرکے ملکی اندرونی امن وامان کو تہہ وبالا کرنے پر اتر آتے ہیں کئی مرتبہ لکھا جاچکا اسے ہماری بدقسمتی کہیئے کوئی اور نام دیجئے کہ بھارت جیسا ’’کئی چہروں ‘‘والا ملک ہمارامشرقی پڑوسی ملک ہے، جہاں کئی چہروں کئی ہاتھوں والے کئی اقسام کے رنگوں والے تین ہزار دیوتاوں کی پوجا ہوتی ہے جس کی بنا پر بھارت میں گزشتہ پندرہ برسوں سے بی جے پی کی شکل میں بہیمانہ قسم کی بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت رکھنے اْسے اور مزید پائیدار بنانے کے نام پر آرایس ایس نے نئی دہلی کے مرکزی اقتدارکی باگیں اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی ہیں ، اب یہی ایک متذکرہ بالا’’مسئلہ‘‘ مسائل کی اصل جڑہے ایسے میں جنوبی ایشیا میں کوئی اگر امن کا متلاشی ہوتو وہ امن تک کیسے پہنچ پائے گا;238; بیان کردہ ان زمینی حقائق پر تفصیلی بحث سے پہلو بچاتے ہوئے راقم کا اپنے بھارتی ذمہ دار انصاف پسند اورانسانی رواداری کے احساس پر یقین رکھنے والے معزز قلم برداروں سے انکسارانہ التماس یہ ہے کہ وہ سبھی انسان دوست اپنے سماج کے انتہا پسند جنونی طبقات میں اپنی برابر کی موجودگی کے احساس کوبرابر باور کراتے رہیں کہ بھارتی جمہوریت کو’’ہائی جیک ‘‘کرنے والے صرف ایک قدیم بھارتی معاشرے کا نقصان نہیں کررہے بلکہ وہ انتہا کی ’’ہندوتوا‘‘ کی جنونیت کا مقابلہ ’’نظام فطرت کے ساتھ پیوستہ حقیقی موافقت‘‘سے کھلی جنگ کا آغاز کر چکے ہیں اْنہیں ہر صورت میں یہ جتلانا پڑے گا کہ آر ایس ایس اس ثقافتی نفرت کی بھڑکائی ہوئی جنگ میں کبھی فتح یاب نہیں ہوگئی،چونکہ یہ زمانہ اقوام کے تیزرفتار شعور کے بلا روک ٹوک پھیلاو کا زمانہ ہے،کوئی جنونی اور انتہا پسند نظریہ اقوام کے تیزرفتار شعور کے امڈتے ہوئے اس سیلاب کے سامنے نہیں ٹہرسکتا وقت اقوام کا بہترین استاد مانا گیا جس قوم نے وقت سے کچھ نہیں سیکھا اس قوم کو ’’وقت‘‘نے نیست ونابود کردیا دین اسلام ’’عالمگیریت‘‘پر مبنی ایک ایسا آفاقی دین ہے ،جس میں ’’صبر’’کو برداشت پر فوقیت دی گئی ہے ’’صبر،تحمل اور عالمی روداری دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں بہت نمایاں تصور کی جاتی ہیں پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ماضی کے برعکس ایک ایسے پاکستانی حکمران کا تصور دنیا کے سامنے پیش کیا کہ’’دنیا‘‘ مطلب یہ کہ عالمی طاقتیں ہنوز عالم محویت فیصلہ نہیں کرپائیں کہ پاکستان نے یکایک وہ کردکھایا جو اْن کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا دین اسلام کا وہ اصل چہرہ دنیا کے سامنے کردیا کہ دین اسلام عالمی مذاہب کے درمیان ’’ٹکراو‘‘کا نہیں بلکہ ’’بین الا اقوامی مذاہب‘‘کے ساتھ بین بین امن وآشتی کے ساتھ چلنے والا مذہب ہے پاکستان کے آئین میں یہ وضاحت موجود ہے کہ دنیا کے سبھی مذاہب کے ماننے والے بطور’’انسان‘‘ امن وآشتی کے خواہش مند ہیں انسانوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت کے سبھی تقاضوں کو پورا کرنے پر اسلام میں بہت اولیت دی گئی ہے بحیثیت ایک مسلمان میں تمام انبیاء اور تاریخ میں مختلف قوموں کےلئے بھیجی جانے والی تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا ضرور قرار دیا گیا ہے اور ان پر ایمان رکھنے کو بطور مسلمان لازمی سمجھنا لازمی ہے ایک مسلمان حضرت ابراہیم ‘حضرت موسیٰ ‘ حضرت داءو ‘ حضرت عیسیٰ اور دیگر تمام انبیاء کا سچا پیرو کار ہوتا ہے کسی ایک بھی نبی یا آسمانی کتاب پر ایمان نہ رکھنے کا مطلب ’’مسلمان نہ ہونا‘‘ ہے، اس لئے ہم ہر مذہب کی وحدت کی بنیادی یکجہتی پر یقین رکھتے ہیں جو رب کائنات کی رحمت کا ذریعہ اور مذہب پر ایمانی کی آفاقیت کی دلیل ہے ایمانی آفاقیت کے اسی عظیم انسانیت نواز پختہ ارادے کی تکمیل کا سہراکوئی باندھے نہ باندھے دنیا بھر میں آباد سکھ مت کے پیروکاروں نے پاکستان کے سر باندھ دیا ہے آج بھارتی مشرقی پنجاب کے شہروں اور قصبوں میں پاکستان کے لہراتے سبز ہلالی پرچم سے ثابت ہوگیا کہ پاکستان بین الا اقوامی مذاہب کا احترام کرنے والا ملک ہے سکھ مذہب کے بانی بابا صاحب گرونانک کی پانچ سوپچاسویں سالگرہ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے وعدے کے مطابق قلیل مدت میں کرتارپور راہداری کھول کر دنیا کو پاکستان کی جانب متوجہ کرکے یہ اور بتادیا کہ پاکستان ہرقیمت پر خطہ میں امن کاسفیر ہے آج نومبر کی9 تاریخ ہے دنیا میں آباد کروڑوں سکھ پاکستان کی جانب کس قدراپنائیت سے دیکھ رہے ہیں بابا صاحب گرونانک بھی ایک خدا پریقین رکھتے تھے بابا صاحب فرماتے ہیں کہ کائنات میں صرف’’ایک خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں جو حق کی تعلیم دیتا ہے دین و دنیا کی کامیابی اور دائمی نجات کے حصول کےلئے بابا صاحب نے چار اصولوں کی تعلیم سکھوں کو دی ہےاول یہ کہ خوفِ خدا،دوئم حسنِ عمل،سوئم توکل علی اللہ‘‘نانک صاحب کے پیروکار سکھ کہلاتے ہیں آج جب بابا صاحب گرونانک کی آخری آرام گاہ کی زیارت دنیا بھر کے سکھ مت کے ماننے والوں کے کھول دی گئی ہے تو ذرا تذکرہ ہوجائے کرتارپورہ کا ’’کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے کرتار پورہ میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہے نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارے تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں یہ گرودوارہ تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد دلکش مقام ہے پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ پاکستان بھارت سرحد کے قریب ایک گاؤں میں واقع ہے کرتارپورہ راہداری کو کھولنے کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے خطہ کی کشیدگی کے ماحول کو نرم کرنے کے لئے بھارت کو ایک بہترین موقع فراہم کیا تھا جو اس نے کھودیا مودی حکومت کے گزشتہ پانچ برس بات چیت کے بغیر تلخیوں میں گزر گئے ،اور اب مودی نے دوبارہ الیکسن جیتنے کے بعد اب تک کا عرصہ بھی پاکستان کے ساتھ بلاوجہ تناو بڑھانے میں گزار دیا پاکستان کے اس انتہائی اہم قدم سے انڈین پنجاب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے بے شک یہ راہداری آنے والے دنوں میں بلاشبہ رشتوں میں مثبت تبدیلی کی ضامن بنے گی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative