1

کرتارپورہ راہداری منصوبہ مکمل ہوگیاہے

ایک عظیم مفکرکا کہنا ہے ;34;انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فطرت کے پہلو بہ پہلواپنی کائنات تخلیق کرلیتا ہے;34;اب یہ ہر انسان پر منحصر ہے اگر وہ خود کو انسان سمجھتا ہے اْس میں انسانیت کے آثار کسی کو دکھائی دیتے ہیں تو وہ فطرت کے بقول ذہنی طور پر انسانیت پرور ہوگا انسانیت کا احترام کریگا اور انسانیت کے پْرامن ماحول کےلئے سرگرم عمل ضرور ہوگا یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو انسان بھی کہلوائے اور انسانی سلامتی وبقاء کے خلاف انسانی سماج میں نفرتوں کے بیج بوئے مذہبی وسماجی اور نسلی منافرت پھیلائے جس کے نتیجے میں انسانیت پرور سماج پروان نہیں چڑھتا ایسے گھٹن زدہ ماحول میں خوف،دہشت،انارکی اورسماجی اور معاشرتی طبقات زدہ نفرتوں کو فروغ ملتا ہے جیسے آج ہم اپنے مشرقی پڑوسی ملک بھارت میں دیکھ رہے ہیں کہ وہاں ببانگ دہل اعلانیہ سرکاری سرپرستی میں کھل کر انسانی سماج کو زہریلی نفرتوں کی عصبیتوں کے سیفرانی رنگوں رنگا جارہا ہے مسلم دشمنی کھل کرہورہی ہے سکھوں کو بخشا جارہا ہے نہ عیسائیوں کو چھوڑا جارہا ہے یہی کم نہیں ہورہا بلکہ آریہ سماج سے صدیوں عرصہ قبل اصل ہند کے رہنے والے دلتوں کو بھی ہندو نہیں سمجھا جارہا آسام سے مقبوضہ جموں وکشمیر تک مذہبی بنیادوں پر قتل وغارت گری کا بربریت نما ایک طوفان امڈا ہوا ہے دنیا کی نظریں بھارت پر ٹکی ہوئی ہیں رواں برس جولائی کے آخری ہفتہ سے کشمیر میں نافذکرفیوکو آج ڈیڑھ ماہ سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل،امریکا،مغربی ممالک کی یورپین یونین، چین،روس،ایران اور اب عرب اسلامی ممالک بھی زوردے کر کہہ رہے ہیں کہ بھارت کشمیر میں جتنی جلد ہوسکے انسانی حقوق کی لگائی ہوئی ظالمانہ بندشوں کو ہٹالے مجال ہے جو مودی سرکار کے جوں تک بھی رینگی ہو;238;بھارت میں تقسیم ہند کے بعد کا سیکولر سسٹم کب کا اپنی موت آپ مرگیا یا مار دیا گیا آج کا بھارت متوازن رہا نہ ہی اعتدال پسند میانہ رْو رہا ;34;جنونی ہندوتوا;34;کا جن اب بوتل سے باہر نکل چکا ہے اب دنیا کی سمجھ میں یہ بخوبی آگیا ہوگا کہ ;34;جنونی انتہاپسندی;34; کو ہم بلاوجہ دین اسلام کے ساتھ نتھی کیا کرتے رہے یہ ;34;ہندوتوا;34; کی انسانیت کش انتہا پسندی کیا ہے;238; اسے کھلی چھوٹ دے کر واقعی دنیا سے وہ ہی غلطی ایک مرتبہ پھر ہوگئی جو 1931 میں جرمنی میں ;34;نازی فاشسزم;34; کی جنونی لہر سے صرف نظر کرکے دنیا نے دوسری جنگ عظیم کےلئے میدان ہموار کیا اور دنیا نے تباہی کو دعوت دیدی ایک طرف بھارت ہے دوسری جانب پاکستان ہے جس نے بھارتی جارحانہ عزائم کے باوجود لائق تحسین متوازن سیاسی وسفارتی رویہ اختیار کیا متوازن عالمی قوانین کی بالادستی تسلیم کیا دوسری طرف پاکستان نے کرتارپورہ کوریڈورکو اپنے کیئے گئے وعدے کے مطابق بابا صاحب گورنانک کی 550 ویں سالگرہ کے مقدس موقع پر کھولنے کے اقدامات جاری رکھے پاکستان نے اپنے ساءڈ کے تعمیراتی کام مکمل کرلیئے ہیں تاہم بھارت اپنے نامکمل کاموں کا خود ذمہ دار ہے 4 ستمبر کو بھارتی وفد سے کرتار پور راہداری پر بات چیت کے تیسرے دور کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ملکی ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا ہے کہ کشمیر کی حالیہ کشیدگی کے باوجود ان کی یہ بات چیت مثبت رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان بات چیت کا تمام محور کرتارپور راہداری ہی رہا ڈاکٹرفیصل نے مزید بتایا کہ دونوں فریقین پاکستان اور بھارت نے کرتارپور راہداری کو فعال بنانے کےلئے مسودے پر اپنی رضامندی کا اظہار کردیا ہے تاہم اس معاملے میں ابھی 2 سے 3 نکات پر متفق ہونا باقی ہے جبکہ زیادہ تر رکاوٹیں دور کرلی گئی ہیں ، پاکستان کے دفترخارجہ نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کے مقامی اور بین الاقوامی سکھ یاتری بھی کرتارپور جائیں گے، تاہم بھارت کے کم از کم 5 ہزار سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے لیکن اگر تعداد زیادہ ہوگئی تو بھی پاکستان ہرسکھ یاتری کو قبول کرے گا، گنجائش کے مطابق جتنے بھی مزید سکھ یاتری بھارت سے پاکستان آئیں گے انہیں ہرصورت میں خوش آمدید کہا جائے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نومبر میں گرو بابا نانک صاحب کے جنم دن کے موقع پر اپنی جانب سے کرتار پور راہداری کا افتتاح کردے گا اب یہ بھارت پر منحصر ہے کہ وہ اس اہم ترجیحی امور پر کتنی جلد اپنے ذمہ امور کر نبٹاتا ہے اور یاد رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے رواں ماہ کے دوران ہی میڈیا نمائندوں کو کرتارپور راہداری کا دورہ کروایا جائے گا اور وہاں موجود سہولیات کے بارے میں بریفنگ بھی دی جائے گی ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کےلئے اپنا عزم پورا کرنے کےلئے پہلے ہی بہت بڑا فیصلہ لے چکا ہے، تاہم اب بھارت کی جانب سے سیاسی لچک دکھانی ہوگی اور پھر یہ کام انجام پا جائے گا پاکستان کی سرحد کے اندر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ڈیوٹی ہوگی کہ ویزا کی غیر موجودگی میں یاتریوں کی شناخت کے لیے انہیں کارڈ فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے مذہبی فراءض بخوبی ادا کرکے ایک ہی دن میں واپس چلے جائیں دنیا کو یقینا اب سمجھ آچکی ہوگی پاکستان اب بالکل بدل چکا ہے پاکستان عالمی مذہبی وسماجی ہم آہنگی کا قلعہ بن چکا ہے اب یہاں ہر صورت میں امن ہوگا عالمی ہمدردی،عالمی سماجی اتفاق واتحاد اور پْرامن بقائے باہمی کے اصول پاکستانی سماج میں اپنی جڑیں مضبوط کررہے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان معاشی اقتصادی ترقی کے زینے اب بہت تیزی کے ساتھ عبور کیئے جائیں گے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر خاص طور پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بھارت کو فی الفور بالکل ’’بوسینا‘‘ میں امن قائم کرنے کی طرح کو اپنائے نئی دہلی نے انسانی رواداری اور سماجی برداشت کے جس اولین طرز کو پش پشت ڈال کر اپنے دیش میں انسانیت کو مجروح کرنے کے جو’’پَر‘‘تول لیئے ہیں اُس کے یہ ’’پَر‘‘فوراً کترے جائیں اب دیر کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے یہ سوچ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے عملی اقدام کے ذریعے سے غلط ثابت کرنی ہوگی کہ ’چونکہ بوسینا ایک یورپی مسلمان ملک تھا اس لئے اقوام متحدہ نے فوری قدم اُٹھایا;238;‘ ۔ لہٰذا انسانیت کو اولیت دی جائے کشمیر میں غیر جانبدار فوج روانہ کریں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں