Home » کالم » کرتارپور راہداری ۔ ۔ سکھوں کی مراد پوری ہوئی

کرتارپور راہداری ۔ ۔ سکھوں کی مراد پوری ہوئی

ال;200;خر سکھ برادری کو اس خواب کی تعبیر مل گئی جو وہ برسوں سے دیکھتے ;200; رہے تھے ۔ کل9نومبر کو کرتارپور میں گرو دوارہ دربار صاحب کا باضابطہ افتتاح بابا گرونانک کے 550ویں یوم پیدائش کے موقع پر کیا جا رہا ہے ۔ یہ دن شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا142واں یوم پیدائش بھی ہے ۔ پاکستانیوں اور سکھ دونوں کےلئے یہ دن بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ دربار صاحب گرودوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ کم و بیش تین چار کلومیٹر کا ہی ہے مگر اسکی مسافت سات عشروں پر محیط رہی ۔ اس مسافت کو طے کرانے کا سہرا انڈین کرکٹر نوجوت سدھو کے سر جاتا ہے جس نے وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں ;200;رمی چیف قمر جاوید باجوہ سے اس بابت بات چیت کی جس کا نوجوت سدھو کو حوصلہ افزا جواب ملا ۔ ;200;ج اس حوصلہ افزا جواب کا عملی نمونہ زمین پر اپنی شان و شوکت دکھا رہا ہے ۔ کرتار پور میں سکھ مذہب کے بانی گرو نانک نے اپنی زندگی کے ;200;خری ایام گزارے تھے ۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ بھارتی سرحد کے قریب ایک دور دراز گاؤں کوٹھے پنڈ میں ہے ۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے ۔ تقسیم ہند کے وقت یہ گرودوارہ پاکستان کے حصے میں جبکہ ڈیرہ بابا گرونانک بھارت کے حصے میں ;200;یا ۔ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں کے کشیدہ تعلقات کے سبب یہ گرودوارہ عرصہ دراز تک یاتریوں کا منتظر رہا ۔ کرتار پور راہداری کے حوالے سے اس سے قبل پہلی بار1998 میں دونوں ممالک میں بات چیت ہوئی تھی جو ;200;گے نہ بڑھ سکی ، مگر اب20برس بعد بات شروع ہوئی اور ایک سال کے مختصر عرصہ میں پایہ تکمیل کو بھی پہنچ گئی ۔ یقینا دنیا بھر میں موجود سکھ برادری کےلئے یہ بہت ہی عظیم دن ہے اور وہ حکومت پاکستان کے تہہ دل سے شکر گزار بھی ہیں کہ جس کی پر خلوص کوششوں سے راہداری کا منصوبہ ایسے ماحول میں مکمل کیا گیا ہے جب بھارت ایکطرف پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر چکا ہے تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو اسکی الگ شناخت دلانے والی شق 370 کو بھی ہڑپ کر گیا ہے ۔ اگر پاکستان اس کشیدگی کو پس پشت ڈالتے ہوئی خلوص دل سے ;200;مادہ نہ ہوتا تو بھارت اس راہداری کے لیے قطعاً تیار نہ تھا بلکہ اس نے اس منصوبے کو ناکام بنانے کےلئے اپنے تئیں کئی بار تاخیری حربے اپنائے ۔ بارہا اجلاس التواء کے شکار رکھے ۔ سچ پوچھیئے تو مودی جیسے ہٹ دھرم ، کم ظرف اور اقلیت دشمن وزیراعظم کی موجودگی میں راہداری کا کھل جانا کسی معجزے سے کم نہیں ہے ۔ لہٰذا سکھ اس حوالے سے خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں اور پورا پاکستان ان کی اس خوشی میں برابر کا شریک ہے ۔ خوشی کے اس موقع پر پاکستان نے سکھ زائرین کےلئے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ بھی جاری کیا ہے ۔ ڈاک ٹکٹ میں گرو دوارہ، جنم استھان،گرو نانک صاحب کی تصویر ہے ۔ اس ڈاک ٹکٹ کی قیمت پاکستانی ;200;ٹھ روپے رکھی گئی ہے ۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے اور امن کی جانب عملی پیش قدمی کے طور پر وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر اس منصوبے کا ;200;غاز کیا گیا ۔ منصوبے کی تعمیر پر اُٹھنے والے تمام اخراجات حکومت پاکستان نے ادا کئے ۔ یہ منصوبہ کئی مراحل میں مکمل کیا جائے گا، تاہم ابتدائی مرحلے پر دریائے راوی پر پل سمیت عمارت کھڑی کی گئی ہے ۔ دوسرے مرحلے میں عمارت میں توسیع ، زیادہ سے زیادہ یاتریوں کی رہائش کے لیے ہوٹل اور رہائشگاہیں تعمیر کی جائیں گی جبکہ زائرین کی سہولت کےلئے بازار بھی قائم کیا جائے گا ۔ اس منصوبے کیلئے کل 800 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے ۔ جس میں سے104ایکڑ اراضی پر مرکزی عمارت اور اس کا صحن ہے ۔ اس سے پہلے گرودوارہ محض 4 ایکڑ اراضی تک محدود تھا ۔ کل اس مقام پر ایک بڑی تقریب منعقد ہو گی جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستان کی عسکری قیادت بھی موجود ہو گی ۔ بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کی شرکت بھی متوقع ہے ۔ پاکستان نے سکھ کمیونٹی کےلئے ایک اور اہم اعلان بھی کیا ہے ۔ اب یاترا کیلئے سکھ یاتریوں کو پاسپورٹ ہمراہ لانے کی زحمت نہیں کرنا ہوگی اور پاکستان میں داخلے کیلئے محض درست اور قابل اعتماد شناخت ہی کافی ہوگی ۔ یاتری سرحد پر ;200;ئیں گے جہاں سے انہیں بائیومیٹرک اندراج کے لیے ٹرمینل لایا جائے گا جنہیں بعد میں بسوں کے ذریعے گرودوارے منتقل کیا جائے گا ۔ ایسے یاتری جو پیدل گرودوارہ جانا چاہیں گے انکے لیے الگ راہداریاں تعمیر کی گئی ہیں داخلی مقامات پر کچھ کیبن بھی بنائے گئے ہیں جن میں یاتری اپنا سامان رکھ سکیں گے ۔ بتایا گیا ہے کہ مرکزی گرودوارے میں جگہ کی قلت کے پیش نظر ایک اضافی دیوان بھی تعمیر کیا گیا ہے تاکہ رہ جانے والے یاتریوں کو مناجات و عبادت کیلئے جگہ مہیا کی جاسکے جبکہ ایک بڑا مہمان خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے جس میں یاتریوں کیلئے شب بسری یا قیام کی گنجائش فراہم کی گئی ہے ۔ علاوہ ازیں ایک بڑا لنگر خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے جو ایک وقت میں دو اڑھائی ہزار یاتریوں کو سہولت فراہم کرسکتا ہے ۔ جذبہ خیرسگالی کے طور پر لنگرخانہ ابتدائی10ایام کے دوران مفت کھانا فراہم کرے گا ۔ طے شدہ معاہدے کی رُو سے ابتدائی مرحلے میں بھارتی یاتری دن میں اپنی یاترا مکمل کرکے شام کو واپس لوٹ جانے کے پابند ہوں گے ۔ یاتریوں کی سہولت کیلئے گائیڈز بھی تعینات ہونگے ، انتظامی عملہ دن بھر موجود رہے گا اور ہیلپ ڈیسک بھی قائم کئے جارہے ہیں ۔ یاتریوں کی کثرت کے پیش نظر عارضی قیام گاہیں تعمیر کی گئی ہیں ۔ گرودوارہ پورا سال کھلا رہے گا اور یاتری365دنوں میں سے جب چاہیں دربار صاحب زیارت کیلئے ;200; سکیں گے ۔ پاکستان کا اقلیتوں کے حوالے یہ جذبہ خیرسگالی قابل تحسین ہے جبکہ دوسری طرف نام نہاد اِن کریڈیبل انڈیا کا دعویدار ملک اور اس کی انتہا پسند حکومت ہے جس نے اقلیتوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے ۔ مذہبی ;200;زادی اور دیگر معاشرتی حقوق مکمل ناپید ہو چکے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تو اور بھی زیادہ بد ترین ہے ۔ تین ماہ سے زائد عرصہ سے پوری وادی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے ۔ کشمیریوں کو ان کی الگ شناخت دینے والا ;200;رٹیکل 370 بھی مودی ازم کی بھینٹ چڑھ چکا ہے ۔ حق خودارادیت کی ;200;واز دبانے کےلئے تمام حریت قیادت حراست میں ہے ۔ نوے روز سے جاری کرفیو کی وجہ سے کشمیری مردے بھی گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں ۔ مودی جی اِن کریڈیبل انڈیا بننے سے پہلے پاکستان کی طرح اِن کریڈیبل سوچ اپناوَ اور مسلم اقلیت کو جینے کا حق دو، کشمیریوں کےلئے وہ راہداری کھولو جو یو این کی قراردادوں کی طرف جاتی ہے اگر ہمت ہے تو ۔

About Admin

Google Analytics Alternative